بلوچ اِزم کے فلسفی – گامن خان

56

بلوچ اِزم کے فلسفی
تحریر: گامن خان

فطرت ہی وہ طاقت ہے کہ جس سے آپ جان چھڑا نہیں سکتے کیونکہ آپ فطرت کے اندر ہو نہ کہ فطرت آپ کے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ مرد و زن کی صورت میں ہی رہ سکتا ہے۔علاوہ ازیں مرد نہ مکمل ہے عورت کے اور عورت مرد کے۔ فطرت کے تقاضے ضرور مضبوط اور مکمل ہوں مگر انسان ہی وہ واحد جاندار ہے جو ضرور فطرت کے سانچے میں ہے۔ مگر خود ہی اپنی سروائیول کے مطابق اپنی فطرت کو ایک خاص حد تک تبدیل کرتی ہے۔ یہ فطرت ایک نیچر ہے اور دوسرا نرچر۔ انسان اپنے حالات و تقاضات کا ادراک کر کے خود ہی اپنی فطری نرچر کو تبدیل کرتا ہے۔ کیونکہ نامسائد حالات میں خود کو اکیلے محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ سے تخلیق کردہ رہنما اصولوں کو آزما کر کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

یہ کامیابی دیوتاوں سے، خدا سے، خداوں سے، بادشاہوں سے، ظالم وجابروں سے للکارنے کا ایک نام ہے۔ میرا نقطہ نظر بلوچ فلاسفی ہے جو مندرجہ ذیل دلیلوں پر منطقی ہے۔

بلوچ ازم کیا ہے؟
بلوچ ازم نیشنلزم ہے، جس کے معنی ہیں قوم دوستی یعنی بلوچ ازم اسکا فخر ہو باتونی،عملی، کردار اور روایات کے حوالے سے۔ بلوچ ازم کی جو بنیاد ہے وہ ہے خون، پانی اور مادر وطن۔ بلوچ ازم کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس زبان بلوچی، براہوئی، سرائیکی، سندھی، پنجابی، عربی، فارسی، جدگالی، کھیترانی بول رہیں۔ یا آپ نے بلوچ کلچر کے علاوہ کوئی اور کلچر اختیار کر لیا ہے۔ مست توکلی اپنے ایک شعر میں بلوچ اِزم کو کچھ ان الفاظ سے بلند و بالا کرتے ہیں۔ جو بعد میں ماں، ماتا، مادر، ماہ لنج راج، ہانی راج، سمو راج، سسی راج کے کوکھ سے جنم لینے والی حسین و جمیل نیشنلسٹ بانڑی، گراں ناز، شیریں کی بیٹیوں نے اسے اپنے بلوچ سرمچار، بہادر، بابا میر حمزہ، میرحمل، دودا، دوست محمد، بالاچ، بیورگ، مرید المستیں، چاکر و گہرام، بالاچ مری، اکبر،غلام محمد، شیر محمد اور بلوچ ازم کا جو عظیم فلسفی نواب خیر بشک مری جیسے لیڈروں کو پنگوڑے کی اس لوری نے چُکی سے لیڈری کی لا زوال منزل کی راہ سکھا دی۔ یہ منزل یہی ماں لوری کے سبب ملی جو بلوچ اِزم کا پہلا جُلب(باب) ہے۔
“راج بلوچی پہ وسغا جوانیں”
یعنی
“بلوچ راج تو رہنے کیلئے اچھا ہے”۔
بلوچ اِزم کے ایک عظیم فلسفی میر نصیر خان نوری جو اپنے سرزمین کو کچھ اس طرح وسعت دیتا کہ “جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہاں تک بلوچستان ہے”۔

خون:
بلوچ کو خون سے اس لئے محبت ہے کہ ایک تو خون زندگی ہے اور اس میں بلوچ ازم کے جینز ہیں، جو ایک دوسرے کو کشش کرتے ہیں۔ تیسرا یہ ہے کہ خون مادر کے جھولی کو رنگتا ہے۔ جیسے کہ ایک بثل ہے کہ” حون بلوچانی تن دو صد سالءَ،لسہ ئیں آھو گنت دودنتانیں ” مطلب” بلوچ کے خون کا انتقام دو سو سال تک ہر ن کے جوان بچے کی طرح رہتا ہے” جیسے کہ میر حمل کو جب فرنگی اپنے وطن لے گئے تو حمل سے کہا گیا کہ آپ ہماری لڑکیوں سے بیاہ کریں، تاکہ بلوچوں جیسے بہادر ہماری قوم میں پیدا ہوں۔ تو میر حمل نے صاف انکار کر دیا کیونکہ حمل جانتا تھا کہ میرا خون صرف بلوچ اِزم کیلئے ہے نہ کہ پرتگیزی دوشیزاؤں کیلئے۔ اسلئے حمل کہتا ہے
منءَ وتی ملکءِ کاڈ خمارچمیں دوست بنت۔
“مجھے میرے وطن کی خمار آنکھوں والی حسینائیں پسند ہیں”۔

حمل کا انکار بلوچ اِزم کا ایک رہنما فلسفہ ہے۔ جس میں بلوچ اِزم کے دونوں پہلو پنہاں ہیں۔ جو کہ خون اور وطن کے تقاضے کا بلوچ قوم کیلئے ایک مکمل پیغام ہے۔ کیونکہ خوبصورت بلوچ حسینائیں ہی اس وطن کے آغوش سے جنم لیتی ہیں اور اِن حسیناؤں کے خون میں بلوچ اِزم کا خون اور انکا بدن وطن کی مٹی ہے۔

پانی:
پانی کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ زندگی ہے اور اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو بلوچ فلاسفی اس حوالے سے صحیح ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں کو ئی ایسی چیز نہیں ہے جو بغیر پانی کے زندہ رہ رہا ہو۔ تو اس پانی کے فلسفے کی بنیاد پر آج تک بلوچ اپنی نیچرل باؤنڈری تک اسی وجہ سے رہا کیونکہ یا تو وہا ں پہاڑ ہیں یا پھر پانی اور اس آخری بلوچ سرحد سے اُس طرف کوئی اور تہذیب ہے۔ جو بلوچ تہذیب سے بلکل مختلف ہے۔ اور آج تک بلوچ قوم میں اراضی کی تقسیم”آف رِیش” کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ آ ف رِیش یہ ہے کہ پانی کی بھاؤ جس طرف ہوگی۔ وہی سے دو اراضیوں کی سیم و حد ہوگا۔ بلوچ جہاں بھی جائے مگر اپنے وطن کی مٹی اور پانی کو کبھی نہیں بھولتا۔ زمین اور پانی سے اس حد تک محبت ہے کہ بلوچی رواج ہے جب موسم میں پہلی بارش ہوتی ہے تو پہلا تازہ پانی کسی برتن یا مشک یا ہاتھ کے چُلوں سے زمین پر گراتے ہیں اور خوشی کی یہ حد ہوتی ہے کہ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ یہ زمین کا حق ہے۔ ایک اور رواج ہے کہ اگر کوئی مہمان آپ کے ہاں ٹہرئے تو آپ اگر اسے دوبارہ اپنے گھر آنے کی دعوت دیں گے تو یا وہ بلوچی وعدہ کرے گا یا پھر یہ کہے گا کہ”اگر آف نصیباں آرتغاں” مطلب اگر مجھے پانی پینے کا نصیب کھینچ لیا تو ضرور آؤں گا۔ جیسے بلوچی بثل ہے “یک تاسگے آپ صد سال وفا انت”۔یعنی ایک کٹورے پانی کی قیمت سو سال وفا ہے۔ اس طرح گواہرام لاشاری جب سیوی(سبی) سے اُٹھ کر سندھ میں جا آباد ہوتا ہے۔ تو انہیں ایک دن مادر کے آغوش کی مٹی کی خوشبو اور پانی کی وفا وہاں یاد آتے ہی دلِ گراں کی موجوں کو کم کرتے ہوئے شعر کہتا ہے:
پہ سئے چِیاں تمام باڑایاں
درنگءِ سا سراں سارتیناں
گوئرکی دمبگاں تہلِیناں
بھنی سوڑی ئیں آفاں
یعنی،تین چیزوں کیلئے بہت ترستاہوں
چٹانوں کی ٹھنڈی چھاؤں کیلئے
دمبوں کی چکی کیلئے
اور پہاڑی ندیوں سے رس رس کر نکلنے والے پانی کیلئے۔

وطن:
مادر وطن سے اس حد تک محبت ہے کہ زمین لاکھ بنجر ہو مگر پھر بھی اس کے ساتھ سیراب زمین سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا دیکھے کہ آج تک بلوچ اپنے باونڈری سے نہیں نکلا، وہ بانڈری نیچرل باونڈری ہے جو بمبپور،عاشق آباد،دریائے نمروز،دریائے کلاچی،کیرتھر،دریائے گومل اور دریائے سندھ ہیں۔ زمین بلوچ کا ایمان ہے، ایمان کے تقاضے کے سبب اس کیلئے ہزاروں سال کی قربانیاں دی ہیں۔ جو آج مہر گڑھ،بابا میر حمزہ کا قلعہ(سیستان)،میری قلات تربت،میری قلات،چاکر اعظم قلعہ،کراچی میں بلوچوں کے ہزاروں سال پرانے مقبرے،ہربوئی قلعہ،داجل ہڑند قلعہ ،فاضلہ کچھ کاروئی(ڈیرہ غازیخان) کے بلوچ آثار قدیمہ کی شکل میں زندہ ہیں۔ جیسے خان قلات عبداللہ جان قہار کا شعر بلوچ مادر کے بارے میں ہے:
کوہنگ ءِ اے کوہیں قلات
کسءِ پتءِ میرات نہ انت
ما، گوں سگاراں گپتگاں
یعنی
کوہنگ کا یہ پہاڑی قلعہ
کسے کے باپ کی میراث نہیں
ہم نے انہیں بزور شمشیر لیا ہے۔
بالاچ گورگیج کہتا ہے:
کوہ نت بلوچانی قلات
یعنی “پہاڑ بلوچوں کے قلعے ہیں”۔
ایک بلوچ شاعر جو سرائیکی زبان میں اپنے مادر وطن کو ان الفاظ سے تشبیہ دیتا ہے۔
ہے امن بلوچستان ساڈا
ہے چمن بلوچستان ساڈا
یعنی “بلوچستان ہمارا امن اور چمن ہے”
ڈیرہ غازیخان کے سلیم بزدار نامی شاعر وطن کی محبت میں یوں سرشار ہیں کہ
دل میءں مونجھاں ٹھنگ کھثہ
اے مونجھ وطن ئے آں
ما حوناں میشینتو یہ ملک ئے جز ینتا
مئے دستی توپک ثاں،دژمن ما کھجینتا
یعنی
میرا دلءِ ناداں بے قرار ہے
یہ بے قراری وطن کی محبت کے ہیں
ہم نے خون کی ندیاں بہا کر اپنے ملک کو چلایا
ہمارے پاس دیسی ہتھیار تھے مگر دشمن کو زیر کر دیا ہے ۔

اس طرح مست توکلی کا وطن سے عشق کا جنون دیکھئے کہ مست توکلی بلوچ ازم کا نڈر فلسفی اوربہت بڑا عاشق تھا۔ ہوا یوں مست بیمار ہوئے اور اپنے شمع ءِ زندگی کے جلد گُل ہو جانے کا احساس ہوا تو اپنے بلوچ اِزم کے عقیدت مندوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے چارپائی سے اُٹھاؤ۔ ظاہر ہے فلسفی کی بات کو کون ٹھکرائے۔ تو سنگتوں نے بلوچ ازم کے فلسفی کو اٹھایا اور مغرب کی طرف چل دیئے۔ تقریباً کوہلو سے چودہ میل کے فاصلے پر ایک ندی کے کنارے پہنچے تو مست نے چارپائی زمین پر رکھنے کا کہا۔ جب چارپائی زمین پر رکھ دی تو مست نے کہا کہ اب اسے چارپائی سے زمین پر رکھ دیں۔ زمین پر بستر بچھا کر جب انہیں لٹا دیا گیا تو اس نے ان عقیدت مندوں سے کہا اب جا کر اپنے لئے کھانا پکائیں اور جب تک میں نہ بلاؤں میرے پاس مت آنا۔المختصر فلسفی کے شاگرد ظیافت کرکے مست کی طرف لوٹے تو مست کو بلوچستان کی سر زمین نے اپنی آغوش میں لے لی۔ چارپائی پہ اپنے موت کا بندوبست نہیں کیا مگر مادر سرزمین کے دلبند میں اپنے موت کا بندوبست کر دیا۔یہ عشق ہے،فلسفہ ہے،باریک بینی ہے وطن کے محبت کا گویا وطن کی محبت کی راہ میں قربانی ایک عظیم قربانی ہے، جو تمھیں نظریاتی حوالہ ایک ایسا رہنما اصول عطا کرے گا جس کی مثال دنیا میں صرف بہادر قوموں میں ملتی ہے۔

انہیں فلسفیوں کی بدولت آج ہمارے وجود کو پوری دنیا ماننے کیلئے بے تاب ہے۔ اب یہ ہماری موجودہ نسل پر منحصر ہے کہ وہ زمین اور قوم دوستی کو دنیا میں نظریاتی حوالے سے کیسے منوائیں گے۔ اور دنیا میں بلوچ ازم کی پرچار تاریخ کی روشن کتابوں میں ہوگا اور بلوچ ازم کے دو منزل ہیں جو بغیر نظریئے کے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچیں گے اول بلوچستان کی آزادی اور دوسرا پوری دنیا میں ایک عظیم قوم کے بننے تک جدوجہد یہ منزل بلوچ ازم کے موجودہ فلسفیوں کیلئے بہت کھٹن اور پر خار ہوگا اور مجھے یقین ہے بلکہ میرا پختہ ایمان ہے کہ بلوچ سرمچار اس جنگ کو ایک عظیم قوم بننے تک لڑیں گے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔