بی ایم سی طلباکے احتجاجی مظاہرے کو دھمکیوں سے دبایا نہیں جا سکتا – اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

88

بولان میڈیکل کالج میں طلبا کے ساتھ نازیبا و غیر ذمہ دارانہ رویہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔

طلبا کے پر امن احتجاجی مظاہرے کو دھونس و دھمکی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ بلوچ اسٹوڈنٹسُ ایکشن کمیٹی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے بولان میڈیکل کالج میں پرنسپل اور انتظامیہ کیجانب سے طلبا کے ساتھ غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کالج انتظامیہ طلبا کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنے کی پالیسیاں ترتیب دے رہی ہے جو ایک قابل مذمت عمل ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کسی بھی غیر قانونی فیصلے پر عمل در آمد کرانے کی کوششوں کو تعلیم دشمنی قرار دیکر مسترد کرتی ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پہلے کالج انتظامیہ نے کالج کے بیشتر طالب علموں کو بنا کسی جواز کے فیل کیا اور جب طالب علموں نے انکی نا اہلی و غلط نتائج کے خلاف احتجاج کیا تو انتظامیہ طلبا کو دھمکی دینے پر اتر آئی جو کہ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ اور انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ نے طلبا کے پرامن احتجاجی مظاہرے سے خائف ہو کر دھونس و دھمکیوں کے ذریعے بولان میڈیکل کالج کے تمام طالب علموں کو 24 گھنٹے کے اندر ہاسٹل خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور حکم عدولی کی صورت میں ہاسٹل کا پانی بجلی اور گیس کنکشن کاٹنےکی دھمکی دی ہے جو سراسر نا انصافی پر مبنی ظالمانہ فیصلہ اور طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔ بولان میڈیکل کالج کے انتظامیہ کا رویہ طلبا کے ساتھ آمرانہ ہے طلبا کو اپنا تابع دار بنانے کے لئے فیل کیا جاتا ہے اور صدائے احتجاج بلند کرو تو سزا کے ذریعے طلبا کو خاموش کرایا جاتا ہے ۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ ،نگراں وزیر اعلی بلوچستان اور وزیر صحت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں طلبا کے ساتھ ہونے والے ظلم کا نوٹس لیا جائے تاکہ ہاسٹل کے دور دراز علاقوں کے رہائشی طلباکو بنا کسی تکلیف کے اپنے تعلیمی کئیریر کو جاری رکھ سکیں ۔