سعودی شہزادے اور تلور کی شکار – حفیظ شہی بلوچ

301

سردیوں کی یخ بستہ ہوائیں کیا چلنے لگیں، سعودی ریال سے جڑے لوگوں کو سعودی شہزادوں کی آمد کی نوید، دُنبوں کے لذیز گوشت، ڈھکے چاولوں کی مہک دور سے محسوس ہو نے لگی ہے۔

سعودی شہزادوں کے قدم مبارک ابھی تک پاک سر زمین پر نہیں پڑے ہیں، لوگوں نے گاڑیوں کی ٹینکیاں بڑھانا، گرم کپڑے، چاول، اوجڑی، سری پائے اور دوسری اشیا کو جمع کرنے اور سیکورٹی فورسسز کی انکھوں میں دھول جھونک کر اشیا کوصحیح سلامت گھر پہنچانے تک کے نت نئے طریقے سوچنے شروع کر دیے ہیں۔

دوسری جانب خود ساختہ ملک، میر، سردار صوبے کے سرکاری افسران اور معتبرین نے بھی اپنے لیے نئے کپڑے، صدری، کوٹ اور شال تیار کرنا شروع کردیے ہیں۔ اور وہ جو نئے تیار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے “اولڈ از گولڈ” والے محاورے پر ہی دل کو تسلی دیتے ہیں اور پچھلے سال کے صدری، شال اور چادروں کو جھاڑ کر دھوبی کے پاس یا خود گھر میں دستِ مبارک سے دھونے شروع کیے ہیں، تاکہ شیخوں کی آمد کے دن بلا تاخیر ائیرپورٹ پر گردن جھکائے سعودی شہزادوں کی سلامی کے بدلے “بخشیش” پانے قطار میں کھڑے ہو سکیں۔

عرب شیخوں کی استقبالیہ تقریب کو مزید رونق بخشنے کے لیے عرب کے علاقائی نوکر ( نمائندے) بھی شیخوں کے عین مطابق سرخ رومال سر پر رکھے علاقائی درباریوں کے ساتھ استقبالیہ قطار میں کھڑے نظر آئیں گے۔ اگر دالبندین کے درزیوں کی عربی ڈریس سے نابلدی رکاوٹ نہ بنتی تو عربوں جیسی لمبی پوشاک زیب تن کر کے انہیں مزید مرعوب کرتے۔

لیکن سعودی شہزادوں کی مغروری بھی قابلِ دید ہوگی، ماضی کی طرح بڑے جہاز سے اُتر کر سیدھا اپنے لیے کھڑی کی گئی آرام دہ لینڈکروزر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ پرواہ کیے بغیر صبع سورج طلوح ہونے پہلے آئے ہوئے کھلے میدان اور سخت سردی میں کھڑے ہاتھوں کو لمحہ بہ لمحہ ٹشو پیپر سے صاف کر کے پھر معطر کروانے والے بےچارے پاکستانی درباری یہ آس لگائے انتظار میں کھڑے ہیں کہ کب عزت مآب کے چہرہ مبارک کا دیدار ہو، کب اس کے نرم و ملائم ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے کر اپنے ملنے والی لفافے اور رقم کو یقینی بنایا جا سکے۔

کیمپ میں موجود یک مچھ اور دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے مزدور جو شیخوں کے علاقائی نوکروں (نمائندوں) کے گھروں کے لاتعداد طواف اور صاف ستھرائی کے بعد مزدوری کی غرض سے کیمپ پہنچے ہوں، انتظار میں ہیں کہ کب شیخ ائیرپورٹ سے شکار کے لیے بنائی گئی تمام سہولتوں سے آراستہ کیمپ پہنچ جائیں گے، تاکہ وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکیں اور گذشتہ سال کی نسبت کچھ زیادہ مقدار میں چاول، اوجڑی، پیڑول اور دوسری اشیا جمع کر کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ سکیں۔۔۔ لیکن یک مچھ کے مزدوروں کی ذہنی غلامی بھی قابلِ دید ہےکہ شکار گاہ کا اصل مالک ہوتے ہوئے بھی شیخوں کے نوکروں (نمائندوں) سے ملازمت اور کیمپ میں داخلے کی بھیک مانگتے ہیں۔

جہاں بارشیں نہ ہونےسے سائبیریا سے آَئے ہوئے پرندوں نے اپنا رخ تبدیل کیا، وہاں شیخوں کے نمائندوں کے لیے نہ ختم ہونے والے مصیبتیں بھی بڑھنے لگیں۔ علاقائی شکاریوں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندہ تلور کا دام بڑھا دیا ہے۔ پچھلے سال دس ہزار روپے میں بکنےوالے تلور کا دام اب بیس ہزار روپے ہوگیا ہے اور اوپرسے اسےصحیح سلامت رکھنے روز مٹر اور پالک کھلانے اور عین شکار کے وقت شکار گاہ میں لانے کا خرچہ الگ  …….

دوسری طرف، گاڑیوں کی لمبی قطاریں، آگے پیچھے جدید ہتھیاروں سے لیس سکیورٹی فورسز کے چاک و چوبند دستے، عوام کو پینے کے لیے مہینوں پانی میسر نہیں مگر ایئرپورٹ جانے والی لمبی سٹرک پر آب پاشی (اگربس چلتا تو گل پاشی بھی کی جاتی)، جگہ جگہ سکیورٹی پر مامور صاف ستھری وردیوں میں ایستادہ پولیس اہلکار، غرض ہر لحاظ سے گزر گاہ کی مکمل صفائی….. کیوں کہ عزت مآب قافلے کے ساتھ ایئرپورٹ سے سیدھا صحرا میں بنائی جانے والی تمام سہولتوں سے آراستہ قیام گاہ کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں۔ قافلے میں شریک سعودی نمبر پلیٹ والی لینڈ کروزرز میں سوار عربی طرز پر سرخ رومال سر پر باندھے شہزادے کے علاقائی نوکر (نمائندے) بھی سڑک کے کنارے کھڑے عام لوگوں کو ہاتھ لہرا کر اپنی نوکری کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔

قیام گاہ میں کچھ لمحہ آرام کے بعد شہزادہ تلور کے شکار کی خواہش کر کے قریبی شکار گاہ جانے کا حکم جاری کرتا ہے اور عالم پناہ کے حکم کا پالن کرنے علاقائی نوکر (نمائندے) سر پر سرخ رومال باندھے پہلے سے تیار کھڑے رہتے ہیں، لیکن جانے سے پہلے نہایت ہی رازداری سے مخصوص “چمچوں” کو قافلے کی روانگی کا سندیسہ پہنچا دیا جاتا ہے، جو بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے پالک اورمٹر خور تلور (جو علاقائی شکاریوں سے زندہ خرید کر گھروں میں پالے ہوئے ہیں) کو قافلے کے شکار گاہ پہنچنے سے پہلے صحرا کی کھلی فضا میں چھوڑ کر شہزادے کے آنے تک ان پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیچارے تلور کا بھی روز پالک اور مٹرکھانے سے برا حال ہوتا ہے اور اوپر سے کھلانے اور شکار گاہ تک پہنچانے والے کا ڈراؤنا چہرہ دیکھ کر ڈر کے مارے کئی گھنٹوں تک کھلی فضا میں بھی اڑنے کے قابل نہیں رہتا۔ شہزادہ بھی بڑی شان سے مخصوص بازوؤں کے ساتھ پالک اور مٹر خور تلور کا شکار کر کےخوب لطف اندوز ہو کر شکار کے اس پورے عمل کی مکمل فلم بھی بنا لیتا ہے۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد جہاں تمام عرب بشمول شہزادہ ایک مخصوص خیمے میں اکٹھے اسکرین پر پورے دن کے شکار کے عمل کی فلم دیکھ کرمحظوظ ہو رہے ہوتے ہیں، وہیں دوسری جانب ٰعلاقائی نوکروں کے خیموں میں چمچے شراب سے بھرے گلاس ٹکرا کر دن بھر سعودی شہزادے کو پالک اور مٹر خور تلور کے شکار سے بے وقوف بنانے کا رات گئےتک جشن منا رہے ہوتے ہیں۔ اوریہ سلسلہ ان کے قیام کی آخری رات تک زور و شور سے جاری رہتا ہے۔

یک مچھ اور قریبی علاقوں سے آئے ہوئے جوان، سفید ریش اور سرکاری ملازم (جو علاقے کے حقیقی مالک ہیں) دو چار سو روپے روزانہ اجرت پر شہزادے کے ساتھ آئے ہوئے بدو اور نوکروں کی مزدوری پر ان کے خیموں پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ شکار سے واپسی پر بدو اور نوکروں کی گندی جرابیں، کپڑے انڈروئیر دھونا، سر پر تھال رکھ کر خیموں میں ان کے لیے کھانا پہنچانا، نہانے کے لیے گرم پانی رکھنا، مالش کرنا ان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ حالاں کہ عام دنوں میں باعزت طریقے سے مزدوری کر کے اس سے کئی گنا زیادہ دن میں کما لیتے ہیں۔ لیکن ذہنی پسماندگی اور لالچ کا ایسا بھیانک سایہ پڑا ہے کہ عزت نفس کا جنازہ نکال کر چیزیں جمع کرنےمیں ہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔۔۔ چاول، دودھ، چینی، شکر، ماچس، الائچی، برتن، بنیان، بوسیدہ جرابیں، اوجڑی، سری پائے، خیموں کو گاڑنے والی لوہے کی سلاخیں….. غرض جو بھی ہاتھ لگ جائے، مالِ غنیمت سمجھ کر سمیٹ لیا جاتا ہے اور گیٹ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے مک مکا کر کے اسی روز بحفاظت اپنے گھروں کے صندوقوں میں جمع کر لیتے ہیں۔

سعودی شہزادے کے چاغی میں مختصر قیام سے جہاں علاقائی میر، معتبر درباری بن کر کیمپ میں خوشبودار چاول کی مہک اور دنبوں کے لذیز گوشت سے محظوظ ہوتے ہیں، وہیں گردی جنگل کے افغان مہاجرین بھی شہزادے کے قیام کو کمائی کا ذریعہ سمجھ کر خوشی سے خوب بغلیں بجاتے ہیں، جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور پورا سر کڑھائی میں ہوتا ہے۔ اپنی لینڈ کروزرز اور دوسری جدید گاڑیاں کیمپ میں کرائے پر دے کر علاقائی ڈرائیوروں کے ذریعے پیٹرول چوری اور منافع میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ساتھ ساتھ کیمپ میں شہزادے کے ساتھ آئے ہوئے عرب نوکروں اور مہمانوں کو بھاری تعداد میں اسلحہ فروخت کر کے خوب مال کماتے ہیں۔

بازار میں مہنگی گاڑیوں میں بیٹھے خوش لباس زیب تن کیے ہوئے ملک، میر، ٹکری اور دوسری اعلیٰ القاب سے پہچانے جانے والے بھی علاقائی نوکروں کے رشتہ دار بن کر چاول کھانے اور گاڑی کی ٹینکی مفت میں بھروانے کے لیے جہاں رات کی تاریکی میں کیمپ کا طواف کرتے نظرآتے ہیں، وہیں سرکاری افسران بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر خوشبودار چاول اور لذیز گوشت کا مزہ لینے بن بلائے مہمان بن کر کیمپ میں شہزادے کے علاقائی نوکروں کے خیموں کا رخ کر کے ان کا دردِسر بن جاتے ہیں۔ جو انہیں خیموں میں تعینات مزدوروں کے رحم وکرم پر چھوڑ کرخود کسی بہانے خیمے سے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ مزدور انہیں گرم چاول اور تازہ گوشت تو ہمہ وقت پیش خدمت نہیں کر سکتے، البتہ باسی اور ضائع کیے گیے چاول اور ہڈیوں سے ان کی خاطر تواضع ضرور کی جاتی ہے، اور یہ اگلی صبح اپنے دفاتر میں فخریہ انداز میں دوستوں کو چاول اور پیٹرول وصولی کا تذکرہ کر کے داد وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علاقائی سیاست میں ہمیشہ سے سعودی ریال کا ایک اہم کردار رہا ہے. یک مچھ سمیت ضلع کی دوسری اہم شکار گاہیں کسی نہ کسی طریقے سے سیاسی نمائندوں کے لیے بے ضمیر اور بکاؤ ووٹرز کی نرسری ثابت ہوئی ہیں. زمین کے مالکان کو اپنی ہی زمینوں کی چوکیداری کے عوض گاڑی، موٹر سائیکل کا کرایہ یا ایک مزدور (فی دن سو روپے ) تیس دن کی رقم دے کر ہمیشہ کے لیے انہیں سیاسی غلام بنا دیا جاتا ہے. کچھ تو خود کیمپ جا کر مزدوری یا چاول اور پیٹرول کے عوض اپنے ضمیر کا بآسانی سودا کر لیتے ہیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here