تقریر و تحریر – نادر بلوچ

146

انسانی وجود نے جب اس کرہ زمین پر پہلا قدم رکھا تو اس کی مثال ایک نومولود بچے کی سی تھی جو نہ تن ڈھانپ سکتا تھا نہ اس ہنر سے واقف تھا نہ ہی کوئ زبان بولنے کو تھی کروڑوں سالوں پر محیط اس سفر مِیں انسانی سوچ و بیچار ہی وہ پہلا قدم قرار پاتی ہے جس نے انسان کے لیے روشنیوں کے دروازے کھولے انسان نے آواز کی شکل میں اپنی خوشی اور غم کے ساتھ دیگر ضرورتوں کے لیےآواز کو استعمال کرنے مِِیں کامیابی حاصل کی۔

انسان کی اس دنیا میں اگر ہم ارتقاِئ عمل کا جاہزہ لیں تو یہ مختلف مراحل سے گزر کر اس مقام پر پہنچی ہے شعور کی اس مقام کو سمجنھے کے لیے ارتقاَئ عمل کو شروع سے پرکنا ہو گا تاکہ ان عوامل کو سمجھ پاہیں جو انسان کو شعور کی بلندی پر پہنچانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔کاہنات میں موجود تمام مخلوقات میں جہاں بعض قدر مشترک ہیں وہی پر سب سے اہم جو ہم دیکھتے ہیں وہ ہے جونڈ کی صورت میں رہنا ہے آسمان میں ستاروں،سیاروں سے لیکر زمین پر موجود چرند پرند سب ہی گرو کی صورت میں یکجا رہتے ہیں اس میں اجتعماعی شعور جسکو ہم قانون قررت قرار دیتے ہیں اس ارتقای عمل کو آگے بڑا رہی ہے اس سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جب انفرادی سوچ و فکر اجتماعی شکل اختیار کرتی ہے تو ارتقای عمل تیزی سے آگے بڑتی ہے اور یہی سے اجتماعی شعور اور مشترکہ مفادات کی تشکیل شروع ہوتی ہے باقاہدہ ایک سماج کی تشکیل کا عمل شروع ہو جاتی ہے سوچ و فکر سے انسان نے احساسات کو آواز کے ذریعے بیان کرنا شروع کی جسکو اجتماعی شعور اور مشترکہ مفادات نے مزید بہتر،پاہیدار اور انسانی شعور، سماجی ترقی کو موثر بنانے کے لیے باقاہدہ زبان ترتیب دی یہی سے مادری زبان کی تنظیم ہوی اور سماج نے اس اہم ذمہداری کو ماں کی حوالے کردی آج بھی ہم دیکھتے ہیں ہیں کہ بچہ کوی بھِی دوسری زبان سیکھے یا سیکھے لیکن سب سے پہلے اپنی مادری زبان سیکھتا ہے گوفت و شنید کے زریعہ سے ہی ترقی یافتہ سماج کی بنیاد پڑی اور سماجی قانون و قواہد پر اتفاق ہوا یعنی زبان ہی وہ واحد راستہ بنی جس سے پہلی بار انسانی شعور ایک دوسرے سے مخاطب ہوے اور مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ کا آغاز ہوا ، اظہار راے آسان ہوی اور تقریر باقاہدہ انسانی سماج کا حصہ بنی۔ سوچ و فکر نے آواز کو مزید موثر بنانے کے لیے زبانی قصہ گوی ، حال حوال ، گیت گانے، اور شعر و شاعری کے تحت انسانی خوبیوں اور خامیوں ، ٰغم و خوشی کو پہچان دی اور انسانی دماغ تک رسای دی،

تقریر کی بدولت انسانی سماج نے کافی ترقی کے منازل تہ کرلی اور انسانی شعور میں اضافہ کا سبب بنی انسانی سوچ و فکر نے وسعت اختیار کی خیالات میں اضافہ ہونے کے سبب سماجی ضروریات کو مربوط بنانے کے لیے تحریر کی بنیاد پڑی تاکہ انسان اپنے خیالات کو سماجی ضروریات کے مطابق استعمال کے لیے کارآمد بنا سکے ایک جگہ سے دوسری مقام پر پہنچا سکے یوں تاریخ کی بنیاد پڑی چھوٹے چھوٹے نسخوں نے کتاب کی شکل اختیار کی انسانی شعور کی پرورش ہوتی گئ بحث و مباحثہ ترقی کرتی رہی سوچ و فکر نے اجتماعیت کو ملوظ خاطر رکھ کر رسم الخط ایجاد کی تقریر کو تحریر میں محفوظ کر لیا گیا تاکہ اس سے دیرپا فواہد حاصل کی جا سکے تقریر کو بہتر اور موثر بنانے کے لیے جو انداز اختیار کیے گیے قصہ گوی ، گیت گانے ، شعر و شاعری تاریخ سب کو تحریر ہی کے ذریعہ سے کتابی شکل ملی اور یوں خیالات اور شعور ایک نسل سے دوسرے نسل تک پہنچی۔

کسی بھی سماج کی ترقی یا قومی تحریک کی کامیابی کے لیے تقریر و تحریر کا موثر استعمال انتہای ضروری ہوتی ہے کیوں کہ ان ہی کے ربط سے ہم انسانی شعور سے براے راست مخاطب ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اسکہ زریعہ سے ہی انسانوں کو سماج یا تحریک میں کردار ادا کرنے کے لیے باہمی رضامندی شعوری طور سے کاہل کرسکتے ہیں۔ تاریخ میں ایسی پراثر تقریر اور تحریر قلم کے ذریعہ سے دیکھنے اور پڑنے کو ملتی ہِیں جہنوں نے آگے چل کر سماج کو نہی شکل دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریکوں کو تنظیم کے ذریعہ سے موثر بنایا گیا ہے اور ہر کامیاب انسان اور سماج نے تنظیموں میں تقریر و تحریر کو بہتر کر کے انسانی شعور میں تبدیلی و اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اجتماعی مقاصد مِیں کامیابی حاصل ہو۔ سماجی یا سیاسی کارکن سماج ، تحریک میں انتہای اہم مقام رکھتے ہیں وہ فرد سے لیکر افراد تک سب سے مخاطب ہوتے ہیں انکے پاس سب سے اہم اوزار جو انیں انسانی شعور تک پہنچنے کا راستہ فراہم کرتی ہے وہ تقریر و تحریر۔ کارکن تنظیم اور تحریک کے پاس ریاست ، حاکم ، حکمران ، قابض کے خلاف یہی سب سے موثر ہتیار ہے اسی لیے اسکا استعمال جتنی موثڑ انداز میں کی جاے سوچ اور شعور کو روشن کرنے میں اتنی ہی کامیابی ملتی ہے۔اسکے لیے مختلف انداز اختیار کیے جاسکتے ہیں اور جدید اور کامیاب حکمت عملی اختیار کر کے انقلابی تبدیلی لای جاسکتی ہے ضرورت کا خیال رکھ کر ہی فیصلہ کیا جاے کہ سماج کے کس حصہ سے مخاطب ہیں فرد سے یا افراد سے جہاں ضروری ہو وہاں تقریر اور تحریر میں سے کسی ایک یا دونوں کو استعمال کی جاسکتی ہے

NadirBalochWBO@

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here