بلوچستان میں سب کچھ برائے فروخت نہیں ـــ امين الله فطرت

232

وزیراعلی کی جانب سے صحافیوں کے لئے لیپ ٹاپ
میں بے ضمیر ہوں اور نہ ہی بے ضمیر لوگوں کی قطار میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں
لیپ ٹاپ لوں گا اور نہ ہی پریس کلب کی تقریب میں شرکت کروں گا
کیونکہ ’’ بلوچستان میں سب کچھ برائے فروخت نہیں ‘‘
امين الله فطرت ۔۔ کوئٹہ

مجھ میں لاکھ خامیاں سہی ۔میں کمزور ہوں گا اور شاید میں نے اپنے پیشے سےسو فیصد انصاف بھی نہ کیا ہو ۔ مگر میں آنے والی نسلوں کی نظر میں ’’بگھی کھنچنے والاصحافی ‘‘ نہیں بننا چاہتا ۔ حکومت چاہے بھی تو سچے و غیر جانبدار صحافیوں کا ضمیر نہیں خرید سکتی ، وزیراعلیٰ سے لیپ ٹاپ لےکر بے ضمیر صحافیوں کے ساتھ اپنا نام نہیں لکھوانا چاہتا اس لئے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے اعلان کردہ لیپ ٹاپ مسترد کرتےہوئے اعلان کرتا ہوں کہ نہ صرف لیپ ٹاپ نہیں لوں گا بلکہ آج کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب کا بھی بائیکاٹ کروں گا ۔

میرا یہ فیصلہ اچھا ہے یا برا اس کا فیصلہ آنے والا وقت اور بلوچستان میں صحافت کی تاریخ لکھنےوالا مورخ کرے گا۔ بلوچستان میں صحافیوں کو بہت زیادہ مسائل اورمشکلات کاسامنا ہے وہ آزادانہ طو رپر غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے ضمیر کے مطابق کام کرسکتے ہیں ایسے حالات میں جب نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا خطہ جل رہاہے روزانہ درجنوں بلکہ بسا اوقات سینکڑوں معصوم افراد مارے جاتے ہیں اور اس وقت ہم عملاََ ایک پر خطر علاقے میں رہ رہے ہیں ان حالات میں صحافیوں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم سے جو پیغام پوری دنیا کی صحافتی برادری اور بالخصوص یہاں کے عوام کوجو پیغام دیا جارہا ہے وہ افسوسناک ہے۔

کوئٹہ کے سوٹڈ بوٹڈ ، سینئر اور خود کو آزادی صحافت کا چیمپیئن کہنے والے سینئر ز سے یہ بنیادی سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے بعد کوئی بھی صحافی حکومت کے خلاف تنقید یا جائز طورپر حکومتی پالیسیوں کے خلاف نقطہ چینی کرسکے گا؟ کیا صحافتی اخلاقیات میں اس کی کوئی گنجائش ہے ؟ اور کیا انہوں نے سوچا ہے کہ میر قدوس بزنجو سے لیپ ٹاپ لے کر وہ اسی لیپ ٹاپ سے میر قدوس بزنجو کے خلاف کوئی خبر فائل کرسکیں گے ؟ یقیناًنہیں ۔ ا س سے یہاں کے عوام کو جو نقصانات ہونگے کیا کوئٹہ کے صحافی اس سے خود کو بری الزمہ سمجھیں گے؟

مورخ کیا لکھے گا کہ ژوب سے گوادر اور چمن سے حب چوکی تک بلوچستان جل رہ تھا اور کوئٹہ کے صحافی کلف شدہ لباس یا تھری پیس سوٹ میں وزیراعلیٰ اور وزراء کے سامنے اپناضمیر گروی رکھ کر قطار میں کھڑے ہو کر لیپ ٹاپ لے رہے تھے اس لیپ ٹاپ کی قیمت کیا ہوگی مورخ یہ بھی لکھے گا کہ بلوچستان کے صحافیوں نے خود کو بیچا اور انتہائی کم قیمت لگائی سچ تو یہ ہے کہ اس لیپ ٹاپ سے تو آج کل کے بچوں کو بھی خوش نہیں کیا جاسکتا تو ایسی کیا آفت آ ن پڑی ہے کہ خود کو معاشرے کا باشعور طبقہ کہنے والالیپ ٹاپ کے لئے قطار بنا کر کھڑاہورہا ہے۔

ہمارے صحافی حضرات آج قطار میں کھڑے ہوکر لیپ ٹاپ وصول کریں گے اور وزیراعلیٰ اپنے مشیروں کے ہمراہ قطار میں کھڑے صحافیوں کے ساتھ فوٹو سیشن کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیں گے کہ بلوچستان میں سب کچھ برائے فروخت ہے۔

بلوچستان وہ واحد علاقہ اور صوبہ ہے کہ جہاں ہر حکومت میں کھلے الفاظ میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ بلوچستان میں ہر حکومت کے ساتھ صحافیوں کے تعلقات مثالی رہے ہیں شاید دنیا میں ایسا علاقہ خطہ ملک یا کوئی صوبہ ہوگا جہاں پر صحافی اور حکومت کے درمیان مثالی تعلقات ہو اس عمل کے بعدصحافیوں کی پہلے سے گری ہوئی ساکھ مزید پستی میں گر جائے گی اور صحافتی عمل کو بھی بہت بڑا دھچکا لگے گا اس کا ازالہ شائد کئی سالوں تک نہیں ہو سکے گا کوئٹہ کے صحافیوں کو لیپ ٹاپ دے کر جس معمولی قیمت پر ان کی ہمدردیاں اور وفاداریاں خریدی جارہی ہیں اس کے باعث ہم سب کی جگ ہنسائی ہوگی اور چند ہزار روپے کے ایک لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے بعد کونسا صحافی ہوگا جو حکومت کے خلاف کوئی جملہ لکھنے کی جرات کرے اور مصیبت زدہ عوام کی آواز بنتے ہوئے حق اور صداقت کا علم بلند کرے ہماری حالت ایسی ہوگی کہ جس بھی محفل میں جہاں بھی جائیں گے وہاں لوگ یہ کہیں گے کہ سوداگیر لوگ آگئے لیپ ٹاپ لینے والے تمام صحافیوں کو تو انہیں البتہ کلف کپڑوں اور تھری پیس سوٹ بوٹ صحافیوں سے اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے پیشے کے ساتھ جبر نہ کریں آپ خود کو سینئر صحافی اور خود کو آزادی صحافت کا چمپئن قراردیتے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی بولی چند ہزارلگائی ہے آج کوئٹہ پریس کلب میں جو نیلام گھر سجے گا وہ صرف چند صحافیوں کا ہی نہیں بلکہ صحافت جیسے پورے مقدس پیشے کی توہین ہوگی۔

بلوچستان کے سرداروں نے انگریزمیم صاحبہ کی بگھی کھینچ کر اپنی رسوائی کا سامان کیا اور آج کوئٹہ کے بعض سینئر صحافی وہی تاریخ ایک اور طریقے سے دہرانے کو بے تاب ہیں میں اس کا حصہ نہیں ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کل جب تاریخ لکھی جائے تو مورخ یہ لکھے کہ تمام صحافی قطار میں کھڑے تھے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here