بی ایل اے کے سینئر کمانڈر اور بلوچ رہنما اسلم بلوچ کیساتھ خصوصی نشست

3179

مستونگ کے ایک عام متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے اور کوئٹہ میں پلنے بڑھنے والے محمد اسلم بلوچ، بلوچ قوم پرست آزادی پسندوں کے بیچاستادکے نام سے پہچانا جاتا ہے، یعنی سِکھانے اور راہ دِکھانے والا۔ یہ مقام اور عزت و احترام انہیں کسی خاندانی و قبائلی پس منظر سے تعلق رکھنے کے بجائے اپنے انتھک محنت، تخلیقی جنگی قائدانہ صلاحیتوں، ذہانت اور بے لوث قربانیوں سے ملی ہے۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچ لبریشن آرمی کے صف سے بلوچ تحریکِ آزادی میں متحرک ہیں اور آج بی ایل اے کے صفِ اول کے کمانڈر ہیں۔ انکا شماران جہدکاروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے 1995-96 کے دور میں موجودہ بلوچ تحریکِ آزادی کی داغ بیل ڈالنے میں کردار ادا کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کو بلوچستان کے طول و عرض میں منظم کرنے میں خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے ایک جہدکار سپاہی کے حیثیت سے جدوجہد کا آغاز کیا اور بہت جلد ہی وہ بلوچ لبریشن آرمی کے اہم ترین کمانڈروں میں سے ایک بن گئے۔ بلوچ آزادی پسند مزاحمت کاروں کے نا قابلِ شکست قلعے کے نام سے پہچانے جانے والے بولان کیمپ کا ان خطوط پر استوار کرنے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا شمار ان بلوچ گوریلا کمانڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بلوچستان میں شہری گوریلا جنگ اور وسیع پیمانے کے گوریلا حملوں کی بنیاد رکھی۔ 

اس طویل سفر میں یقیناً اسلم بلوچ کئی دشواریاں برداشت کرچکے ہیں، جن میں قابلِ ذکر انکے خاندان کے کئی افراد کی شہادتیں ہیں، جن میں انکے بھتیجے بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی فورسز نے انکی ہمشیرہ کو بھی جبری طور پر اغواء کیا تھا۔ انہیں طویل عرصے سے طبی مسائل کا بھی سامنا ہے، وہ عارضہ قلب میں  مبتلا ہیں۔ سنہ 2010 میں انکا اوپن ہارٹ سرجری ہوچکا ہے اور 2017 میں وہ دوبارہ عارضہ قلب کے پیچیدگیوں کی وجہ سے انتہائی نازک صورتحال سے گذرچکے ہیں۔ 2016 میں وہ ایک فوجی آپریشن کے دوران دو بدو لڑائی میں شدید زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ان مشکلات کے باوجود وہ مؤثر طریقے سے اپنے تحریکی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اسلم بلوچ مطالعے سے انتہائی گہرا شغف رکھتے ہیں، گو کہ انہوں نے پاکستانی عصری تعلیم حاصل کرنے پر تحریک آزادی کو ترجیح دی اور تعلیم ادھوری چھوڑ دی لیکن سیاسیات، فلسفہ و سماجیات کے باریک بینیوں پر جس مہارت سے وہ تجزیہ کرتے ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے جو کسی بھی ڈگری ہولڈر کو شرمانے کیلئے کافی ہے۔ وہ اکثر و بیشتر ان امور پر مختلف اخبار و جرائد اور آن لائن لکھتے رہتے بھی ہیں۔ وہ نا صرف ایک مانے ہوئے جنگی گوریلا کمانڈر ہیں بلکہ بطور لکھاری وہ قلم کے ساتھ بھی پورا انصاف کرتے نظر آتے ہیں۔ 

 بلوچ سیاسی، سماجی اور تنظیمی ساخت، پیچیدگیوں و مسائل پر وہ انتہائی گہری نظر رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ بلوچ آزادی پسند سیاست ہمیں بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ خاص طور پر بلوچ لبریشن آرمی بحران زدِ بحران کا شکار چلی آرہی ہے، خاص طور پر حالیہ بحران جہاں ہمیں اسلم بلوچ مرکزی کردار نظر آتے ہیں، اس لیئے شاید موجودہ بحران کا ان سے بہتر شاید کوئی تشریح نہیں کرسکے۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گذشتہ دنوں دی بلوچستان پوسٹ کے نمائیندہ خصوصی نے ایک نامعلوم مقام پر اسلم بلوچ سے ملاقات کی اور ان سے تحریک کی مجموعی صورتحال اور بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی کے موجودہ بحران پر تفصیلی گفتگو کی جو قارئین کے دلچسپی کیلئے شائع کی جارہی ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: موجودہ تحریک کی ابتداء بلوچ لبریشن آرمی نے کی، باقی بلوچ مسلح تنظیمیں بعد ازاں قائم ہوئیں،جن میں سے کچھ بی ایل اے سے ٹوٹ کر بنے اور کچھ نے شروع سے ہی الگ اس لیئے بنایا کہ وہ بی ایل اے میں اداراجاتی ہیت کی عدم موجودگی سے متفق نہیں تھے۔ یہ نا اتفاقی اور شکست و ریخت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ بی ایل اے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول میں ضرور ایسے نقائص ہیں، جو شروع سے ہی اس ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنے رہے ہیں۔ آپ اپنے تجربات کی روشنی میں اس مسئلے کی کیا نشاندہی کریں گے؟ 

اسلم بلوچ: کچھ ایسےحقائق ضرور ہیں، جن پر باریک بینی سے ہرطرح کی وابسطگیوں، وسوسوں اور اندیشوں سے نکل کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میرے تجربات کی بات ہے، وہ محض مجھ سے متعلق ہیں لیکن ان مسائل کے بہت سے دوسرے پہلو بھی ہیں، کسی بھی طرح کے فیصلوں کیلئے انہیں سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔  بی ایل اے کی تشکیل و ظہور سے پہلے دوست  تلخ تجربات کے ایک تسلسل سے گذرتے آرہےتھے، نواب خیربخش مری کے حلقوں میں خصوصاً ہلمند افغانستان میں گزینی بجارانی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ایک بیانیہ میرہزارخان بجارانی کولیکرزیادہ گردش کررہا تھا کہ اختیارات فرد واحد کے پاس نہیں رہنی چاہئیں۔ عموماً بلا وضاحت اور ثبوت باتوں ہی باتوں میں سارا ملبہ میر ہزار خان کے سرڈال کر اسکےسرینڈر اور لیویز کے مراعات کو ثبوت بناکر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ وہ بطور پاکستانی ایجنٹ ان تمام مسائل کے ذمہ دار رہے ہیں کیونکہ تمام اختیارات اسکے پاس تھے، حالانکہ بداعتمادی اور ٹوٹ پھوٹ ہلمند میں انجام پا چکا تھا اور یوں ماضی کے سارے قصے کو دفن کیا جاتا۔ 

اسی بابو شیرو مری کے کردار کے حوالے سے کوئی تسلی بخش وضاحت کبھی بھی سامنے نہیں لایا گیا، بہت سے سوالات ہمیشہ موجود رہے اور آج بھی ہیں، بی ایل اے کے ڈھانچےکی تشکیل میں عموماً اسی تاثر کو ابھارا جاتا رہا کہ میر ہزار خان کے تجربے کو مدنظر رکھ کر تنظیمی ڈھانچے کو مختلف گروپس میں تشکیل دیکر کام کو آگے بڑھایا جائے گا اور بظاہر ایسا ہی کیا گیا، مختلف گروپس اور علاقائی کیمپس ایک شخص کی نگرانی میں سرگرم کئے گئے، ہم یہی سمجھے کہ قیادت کے حوالے سے جو بھی میکنزم ہے، لازمی طور پر وہ مخصوص حالات تک مخفی ہی ہوگا، تو جہاں تک راہنمائی کی بات تھی، وہ ابتداء میں مکمل خفیہ تھی، ہمارے جیسے دوستوں کےلئے ابتدائی صورت حال ہونے کی وجہ سے پوچھ گچھ یا مکمل سمجھنا ممکن نہیں تھا۔ اعتماد کی بحالی میں ہم نے ایسا کرنا مناسب بھی نہیں سمجھا اپنے طور ہم یہ سمجھتے رہے کہ نواب خیربخش مری اور سینئرساتھیوں کا ضرور کوئی میکنزم ہوگا، اس پورے دورانیے میں یو بی اے والے مسئلے تک ہمارے سامنے اسکا کوئی بھی خلاصہ نہیں کیا گیا، حالانکہ کام کے وسعت کے ساتھ ہی ساتھ چھوٹے بڑے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بارہا ہم نے اسکی کمی محسوس کی اور اپنے طور اسکا ذکر بھی کیا جِسے نظر انداز کیا جاتا رہا۔ 

یو بی اے کی صورت میں بی ایل اے کی تقسیم تک پہنچنے تک سے پہلے کے مسائل اور انکے بہتر حل کیلئے ہونے والے ناکافی اور ناکام کوششوں سے اس بات کا خلاصہ از خود ہوگیا کہ ماضی میں اختیارات کی تقسیم کو جواز بناکر میرہزارخان بجارانی کو جن سارے مسائل کےلئے مورد الزام ٹھہرایا جارہا تھا، وہ اختیارات آج بھی اسی طرح فرد واحد  کے پاس ہیں اور نواب خیربخش مری کے پاس تنظیمی ڈھانچہ اور طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے ماسوائے بی ایل اے کو تقسیم کرنے کے کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ 

 لازمی طور اختلافات بالائی سطح پر ہونے اور وہاں پر حل نہ ہونے کی وجہ سے سوالات براہِ راست ایک طرف قیادت پر اٹھ رہے تھے اور دوسری طرف تنظیم یا گروہ کے اپنے اندرونی معاملات کو سلجھانے کے طریقہ کارو صلاحیت پر اس دوران ہم نے یہ محسوس کیا کہ بہت سےاور ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل جو کسی ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت بہتر طور حل ہوسکتے تھے، وہ فردی جذبات، مزاج و رویوں کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہوتے جارہے تھے۔ تنظیم کے اندر ساتھیوں کے اکثریت نے اس تقسیم اور یو بی اے کی تشکیل اور آپسی جنگ کے دوران اس کمی کو شدت سے محسوس کیا تو ساتھیوں کیلئے اسکو نظر انداز کرنا مشکل ٹہرا، یہ سوال سر اٹھانے لگا کہ جو تنظیم یا گروہ اپنے اندرونی معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ اپنے اتحادی یا ہم خیال لوگوں کے بیچ پیدا ہونے والے مسائل کوکس طرح بہتری کی جانب لے جاسکتا ہے؟ یا اعتمادکی بنیاد پرسب کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟ 

کمزوریاں، خامیاں اور نقائص اپنی جگہ لیکن بار بار کی تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ بداعتمادی اور دوریاں اس بات کا ثبوت بنتے جارہے تھے کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہی وقت و حالات کے مطابق اس معیار کا نہیں رہا ہے، جو تنظیم اور تحریک کی ضروریات و تقاضوں پر پورا اتر سکے، لہذا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم  میں وقت و حالات کے تحت بدلاو لانا اور فردی فیصلوں سے نکل کر سابقہ تجربات کے بنیاد پر وقت و حالات کے مطابق متفقہ تنظیمی اداروں کا قیام اور تنظیمی ڈسپلن و اصولوں کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے۔

 دی بلوچستان پوسٹ: جیسا کہ ہم میڈیا میں جاری بیانات سے بآسانی دیکھ رہے ہیں کہ بی ایل اے ایک بار پھر سے تنظیمی بحران کا شکار ہوگئی ہے، آخر کیوں روز بروز حالات دو لختی کی جانب گامزن دِکھائی دے رہے ہیں؟ موجودہ بحران میں کچھ لوگوں کیلئے منفی اور کچھ کیلئے مثبت مرکزی کردار کے حیثیت سے آپ سامنے آرہے ہیں، لہٰذا میں الزامات کی جانب بعد میں آتا ہوں، اس سے پہلے اگر آپ وضاحت کرسکیں کے آپکا بی ایل اے سے کیا وابسطگی ہے اور آپکا کیا کردار رہا ہے اور آپ کا عہدہ کیا ہے  تو ہمیں اس مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی؟ 

اسلم بلوچ:  قومی تحریک کے نشیب و فراز کا سلسلہ کافی طویل ہے، ہر ابھاراور گمنامی ایک دوسرے کی کڑیاں ہیں۔ یہ وہ تسلسل ہے جو آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتا رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں مزاحمتی عمل، ہجرت، جلاوطنی اور ہلمند گزینی بجارانی تقسیم اور بعد ازاں وطن واپسی کے بعد نوے کی دہائی میں دوبارہ سے تحریک کو متحرک کرنے کے لئے جو کوششیں کی جارہیں تھیں، اس نئے سلسلے کی ابتدائی ساتھیوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ بہت سے قابل ذکر ساتھیوں شہید سگارامیربخش اور غفار لانگو شہید کے ساتھ ملکر ہم ایک ہی گروپ میں کام کررہے تھے، جسکو کمانڈ نورا مری کررہے تھے۔ قلات واقعہ اور بہت سے ساتھیوں کے گرفتاری کے بعد 2002 میں ہم سب کو اپنے الگ الگ گروپ تشکیل دینے کو کہا گیا، باقی ساتھیوں کی طرح میں نے بھی ایک گروپ تشکیل دیا، جسمیں ساتھیوں کے چناو، تربیت اور کام کرنے کا ترتیب تشکیل دینا میری ذمہ داری تھی۔ اسی طرح اپنے گروپ میں دیگر کئی چھوٹے چھوٹے گروہ بناکر میں تنظیم میں کام کرتا رہا، 2005 کے شروعات میں مجھے بولان میں کیمپ بنانےکے حوالے سے ذمہ داریاں سونپی گئیں کیونکہ اس وقت تک بولان میں ہمارا کوئی کیمپ نہیں تھا ان حالات میں بہت سے شہری گروپ اور علاقائی کیمپ سرگرم و متحرک تھے۔

ہمارے بیچ باقاعدہ طور پر کارکردگی، صلاحیت، قابلیت و میرٹ کی بنیاد پر اختیارات یا عہدوں کے تقسیم  کیلئے کوئی نظام وضع نہیں تھا۔ جو بھی ساتھی اپنے طور جتنا بنا سکتا، چلا سکتا، سنبھال سکتا وہ کرتا۔ ساتھیوں کے بیچ آپسی رابطہ و توازن، اندرونی مسائل اور وسائل کیلئے سب کا انحصار فرد واحد پر ہی رہتا تھا۔ دوسری طرف بڑی حقیقت ہمارے مدمقابل ایک طاقتور دشمن تھا اور آج بھی ہے، ہم حالت جنگ میں تھے اور آج بھی ہیں، اسلیئے اس دوران  ہمارے بہت سے گروپ مارے گئے، کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر ناکام ہوئے۔ خوش قسمتی سے تمام سرد و گرم حالات سے گذر کر ہم اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ 

اس پورے دورانیے میں اسطرح کے فریم ورک میں انتظامی حوالے سے ہمارا آپسی رشتہ کسی تنظیمی ڈھانچے کے بجائے اعتماد کی بنیاد پر چل رہا تھا، ہم سب اپنا کام سر انجام دینے میں مگن رہے۔ عہدے اور اختیارات کی حصول اپنی جگہ، ہم نے اس حوالے کبھی بحث مباحثوں کو بھی مناسب نہیں سمجھا لیکن تنظیم کے اندر تمام ساتھیوں کا کردار روز روشن کی طرح عیاں تھا اور آج بھی ہے عہدے یا منصب  ایسی صورت حال میں واضح ہی نہیں تھے۔ لیکن کام کے تسلسل کو مدنظر رکھکر اخلاقی اور اصولی حوالے سے ایسے حالات میں کبھی بھی کسی بھی حوالے سے چیزوں کو سمیٹنے یا وسعت دینے یا نئے انتظامی تعمیر و تشکیل کیلئے یا کسی بھی طرح کے قانون سازی کیلئے باہمی رضا مندی سے متفقہ فیصلے ہی سب ساتھیوں کے لئے درست و قابل عمل  تسلیم کئے جائیں گے،ایسا نہیں کہ میں دوچار لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے طور پر  اپنے آپ کو ہائی کمان، سیکنڈ کمانڈ یا کوئی بھی کمانڈ قرار دوں۔ یہاں موجود پوری تنظیم کو پس پشت ڈال کر اس نوعیت کے فیصلے لینا سیاسی، تنظیمی، اخلاقی کسی بھی حوالے سے درست نہیں کسی بھی طرح کے بدلاو کیلئے تنظیم کے صاحب رائے ساتھیوں کی اکثریتی رائے ضروری ہے۔ کسی فرد واحد کو یہ حق کسی بھی طور حاصل نہیں ہوتا کہ وہ ایسا کرے۔ 

میں نے شروع سے لیکر آج تک قومی تحریک اور تنظیم  میں ایک سپاہی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا ہے اور جتنا موقع ملے گا کرتا رہوں گا، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ تنظیم اور تحریک کے حوالے سے میری کچھ ذمہ داریاں ہیں، جن سے میں کسی بھی طرح خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتا، جب ایسے مسائل پر آپ اپنے ذمہ داریوں کو مدنظر رکھکر ایک موقف اپناتے ہیں، تو بدقسمتی سے آپ کے موقف کی مخالف کوئی موقف سامنے نہیں آتا آپ کو بولنے سننے کا موقع و ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، نا ہی آپکو مطمئن کیا جاتا ہے، آپکے موقف کے مخالفت میں الزامات ہوتے ہیں، بےبنیاد کہانیاں گڑھی جاتی ہیں، تو لازماً ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں پیچیدگیاں پیدا ہوتے ہیں، لیکن ایسا کچھ وقت کیلئے ہوتا ہے اس دوران  سنے اور سمجھے بغیر کوئی بھی رائے میرے خیال میں اہمیت نہیں رکھتا چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔ 

میں اپنے قومی ذمہ داریوں کے حوالے سے ساتھیوں کے ساتھ ملکر تنظیم کے اندر اپنا کردار ادا کررہا ہوں ہاں مصلحت پسندی یا مراعاتی نقطہ نظر سے میں ایسے الزامات و حالات سے  بچ سکتا تھا اور بچ سکتا ہوں، اس بات کا مجھے بخوبی اداراک ہے لیکن شاید وقت و حالات اور تحریک کی حالت اسکی اجازت نہیں دیتا۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: موجودہ اختلافات کس کے بیچ ہیں، بی ایل اے تنظیم اور ایک کمانڈر؟ یا بی ایل اے کے دو گروہوں کے بیچ؟  یا پھر جیسا کہ جئیند بلوچ کے بیانات سے تاثر ابھرتا ہے کہ بی ایل اے کے اجارہ داریت پسند قیادت کا پورے تنظیم کے کارکنوں سے؟ آپ مختصراً اسکی وضاحت کرسکیں گے؟ 

اسلم بلوچ: اگر یہ صرف ایک کمانڈر کا مسئلہ ہوتا تو اتنا پیچیدہ کیوں ہوتا؟ یہ اخباری بیانات، یہ الزامات، یہ آزاد اور جئیند وغیرہ کا قضیہ سامنے کیوں آتے؟  گراونڈ پر ہونے والی کاروائیاں جو ترجمان جیئند کے نام سے سامنے آرہے ہیں، کیا آپ کے خیال سے کسی ایک کمانڈر کی کارستانیاں ہیں؟ ایسا کرنا شاید فرد واحد کیلئے ان حالات میں ممکن نہیں، دراصل  یہاں پوری تنظیم کو فردی اجارہ داریت کا سامنا ہے، یہ پہلا مسئلہ نہیں اس سے پہلے اس رویے اور مزاج سے پیدا ہونے والے مسائل کا ڈھیر ہمارے سامنے ہے،  صاف اور سیدھی سی بات ہے اسکو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مقصد، تحریک و تنظیم حتیٰ کہ ذاتی دوستی کے حوالے سے بھی ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل اے کے ایک ترجمان آزاد بلوچ کے نام سے ایک پریس ریلیز جاری ہوتا ہے، جس میں آپ پر تنظیمی ڈسپلن کو توڑ کر انڈیا جانے اور وہاں تنظیم توڑنے کی سازش کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، اس بابت ایک تحقیقاتی کمیٹی کا بھی ذکر آتا ہے بعد میں بی ایل اے کا ایک اور ترجمان جئیند بلوچ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ ان الزامات میں کتنی صداقت ہے؟ 

اسلم بلوچ: جب کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوتا تو وہ الزام ہی رہ جاتا ہے، اسکاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں بنتا، جب لوگ بات تنظیم کی کرتے ہیں، جب بات ہائی کمان تک کی کی جاتی ہے، تو وہاں اخباری بیانات یا سوشل میڈیا پروپیگنڈہ چے معنی دارد؟ میں آج بھی ان ساتھیوں کے بیچ موجود ہوں جو تنظیم کی اکثریت سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی میں تنظیم کےاندر موجود ہوں، تو یہ جوابدہی اور احتساب کی باتیں اخبارات و سوشل میڈیا میں کیوں؟ 

اگر آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپکے ساتھ تنظیم ہے اور دوسری طرف ہائی کمان تو پھر ایک یا دو کمانڈروں کی کیا اوقات جنکا اخبارات اور سوشل میڈیا میں ٹرائل کیا جارہا ہے؟ قابل غور بات یہ ہے کہ آخر کیوں تنظیمی ڈسپلن کی وضاحت نہیں کی جارہی کہ وہ در حقیقت ہے کیا؟ کیا کسی بھی طبی ایمرجنسی کی صورتحال میں کسی ایک شخص کے اجازت کیلئے موت کو قبول کیا جائے؟ کیا یہی ڈسپلن ہوگا؟ دنیا میں کہیں بھی آپ کو ایسا انوکھا ڈسپلن نہیں ملے گا۔ 

 جہاں تک الزامات انڈیا جانے، تنظیم توڑنے کی سازش کرنے اور  تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے ہے تو پہلا سوال کمیٹی کے تحقیقاتی رپورٹ پر ہونا چاہیئے کہ کس نوعیت کی تحقیقات ہوئی اور کیا ثبوت سامنے لائے گئے جنکے بنیاد پر ایسے فیصلے لیئے گئے؟ کیونکہ نہ تو کوئی تحقیقات ہوئی ہے اور نہ ہی مجھ سے کوئی رابطہ کیا گیا اور نہ ہی کسی کمیٹی کے سامنے مجھے باضابطہ طور پر جوابدہ بنایا گیا ہے، جو کچھ ہوا ہے میڈیا میں ہی ہوا ہے، جیسا آپ لوگوں کے سامنے آیا ہے، مجھے بھی اس کمیٹی، تحقیقات اور جوابدہی کا علم میڈیا کے توسط سے ہی ہوا ہے۔ میرے غیرموجودگی میں پِیٹ پیچھے راتوں رات ہی اپنے طور فرضی کمیٹی بنائی گئی اور اسی ایک رات میں ہی تنظیم کے ان ساتھیوں سے جو ویب سائٹس چلانے کے ذمہ دار تھے یہ کہہ کر ویب سائٹس کے پاسورڈ لیئے گئے کہ ویب سائٹس کو فرد واحد چیک کرینگے، بغیر کسی جواز کے پاسورڈ بدل دیئے جاتے ہیں اور اچانک آزاد بلوچ کے نام سے میرے خلاف بیان جاری کیا جاتا ہے۔ 

یہ ایک سادہ سی بات ہے اور اسے کوئی بھی ایک عام سیاسی کارکن سمجھ سکتا ہے کہ اگر مجھ پر کوئی بھی الزام ہے سچا یا جھوٹا، کوئی کمیٹی بٹھائی گئی ہے،مان لیجیئے کم از کم ایک ملزم کے ہی حیثیت سے کیا یہ میرا حق نہیں بنتا تھا کہ وہ کمیٹی مجھ سے ایک باررابطہ کرکے مجھے بتاتا کہ آپ پر فلانہ الزام لگایا گیا ہے، اس بارے میں آپ اپنے صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ تنظیم کے ہر ایک عام کارکن کا حق ہے، میں تنظیم میں 20 سال سے ایک ذمہ دار کے حیثیت سے ذمہ داریاں نبھارہا ہوں کیا یہ میرا حق نہیں بنتا تھا کہ کم از کم ایک فون کال کے ذریعے ہی میرا رائے پوچھا جاتا؟ لیکن نہیں میرے علم میں یہ تک لائے بغیر کے کوئی کمیٹی تک ہے یا کوئی الزام تک ہے میڈیا میں براہ راست الزامات کے ساتھ جایا جاتا ہے۔ پھر میرے خیال میں اب یہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت تھا، اور سازش کے تحت لگے الزامات کی کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ تبھی پہلے دن سے لیکر آپ بیانات کو ہی لیکر دیکھیں تو الزامات کی نوعیت بدلتی ہی جارہی ہے اور دوسری طرف میڈیا میں مختلف اور نجی محفلوں میں لگے الزامات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ان الزامات کی کوئی بنیاد نہیں، یہ سب ایک سازش کے کوکھ سے جنم لے رہے ہیں۔   

دراصل میرا میڈیکل ہسٹری ہے، 2010 میں میرا اوپن ہارٹ سرجری ہوا تھا، اسکے بعد حالات ایسے نہیں تھے کہ میں باقاعدگی سے چیک اپ کراسکتا، سرجری کے سات سال بعد مارچ  2016 میں جب میں شدید زخمی ہوا تو اسکی وجہ سے  دوبارہ بہت سے قلبی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں۔ نوبت بلا ناغہ فوراً علاج کرانے تک جا پہنچی، لہٰذا اسی علاج کے سلسلے میں متعلقہ تمام ساتھی رابطے میں تھے، تمام ساتھی جلداز جلد علاج کروانے کے حق میں تھے کیونکہ بیماری کی نوعیت ایسی تھی لیکن ساتھیوں کی طرف سے اطلاع دینے کے باوجود فرد واحد کی طرف سے مکمل غیرذمہ دارانہ رویہ اپنایا گیا، کسی بھی قسم کے مشورے سے پہلو تہی کرتے ہوئے اس نے متعلقہ ساتھیوں سے اپنا رابطہ قصداً منقطع کردیا، ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باوجود فردی اجازت کو جواز بناکراپنےطور منظور نظرافراد کی فرضی کمیٹی بناکر بغیرکسی تحقیق و ثبوت فراہم کیئے اور مجھے جوابدہ بنائے بغیراخباری بیان جاری کیا گیا، تمام الزامات و کمیٹی کی صحت کو از خود یہ عمل مشکوک بنانے کےلئے کافی ہے کہ تنظیم کے اندر موجود اہم ساتھیوں اور تنظیمی کاروائی سے ہٹ کر اخباری بیانات اور سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کا سہارا لیا جارہا ہے۔ 

ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں انکو ثابت کرنا الزامات لگانے والوں کے لیئے ممکن ہی نہیں ایسے حالات میں لازمی طور پر جیئند بلوچ جو باقاعدہ تنظیم کے ترجمانی کے فرائض تسلسل سے انجام دیتےآرہے تھے وہی تردید و وضاحت کرینگے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: قطع نظر آپ پر الزامات کے درستگی یا بہتان طرازی کے لیکن بی ایل اے جیسے ذمہ دار تنظیم کی طرف سے میڈیا میں بلوچ تحریک کو پہلے انڈیا بعد میں ایران کا پراکسی قرار دینا، اپنے سینئر کمانڈروں کے نام و مقام ظاھر کرنا کیا دشمن کے دیرینہ بیانیئے پر تصدیق کا مہر ثبت کرکے اسکا کام آسان بنانا نہیں ہے؟ کیا اسکے تحریک پر واضح منفی اثرات نہیں ہونگے؟ 

اسلم بلوچ: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسے بیانات و الزامات سیدھی طرح سے ریاستی بیانیہ کی تصدیق کرتے ہیں، اگر ذرا باریک بینی سے ماضی کا مشاہدہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ ایسے طفلانہ حرکات پہلی  بار نہیں کئے گئے، اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے  ریاستی ادارے پچھلے تمام عرصے میں سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ کسی بھی طرح بلوچ قومی تحریک کو ہمسایہ ممالک کی پراکسی ثابت کریں، تاکہ تحریک کو کچلنے اور بلوچوں کے قتل عام  کےلئےدشمن ریاست پاکستان کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہوسکے۔ ایسے صورت حال میں فرد واحد کی طرف سے بی ایل اے جیسی  تنظیم جو بلوچ عوام میں قومی اثاثہ سمجھی جاتی ہےکے نام پر ایسے حساس مسائل پر بطور ثبوت اخباری اقرار نامے جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے اور بار بار ایسے حرکات کیلئے  تنظیم کے ترجمان کے نام کو استعمال کرنا از خود تنظمی ڈسپلن اصول حتیٰ کہ اخلاقیات و روایات کے خلاف عمل ہے، اور ہندوستان جیسے ملک کے ساتھ میرا نام جوڑ کر اخبارات میں نشاندہی کرنا معٰذرت کے ساتھ میرے ناقص رائے کے مطابق یا تو حماقت کی انتہاء ہے یا پھر قومی تحریک کو پٹڑھی سے اتارنے کی کوشش ہے۔

اسی طرح اگر بلوچ قومی تحریک کا ایران و پاکستان کے تناظر میں جائزہ لیاجائے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ ایک طویل اور غیر جانبدارانہ تجزیے کا متقاضی ہوگا،   تب ہی اس مسئلے کی حساسیت کا صحیح  اندازہ ہوگا بہت سے حساس مسائل کو ان حالات میں یوں کھلِ عام  آزادی پسندوں کے خلاف استعمال کرکے زیر بحث لانا یا انکے حساسیت کے بنیاد پر کسی بھی آزادی پسند گروپ پر دباؤ بڑھانا یا پوائنٹ اسکو رنگ کرنا انتہائی غلط و خطرناک حرکت شمار ہوتا ہے۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ حرکات کسی بھی  ذی شعور بلوچ کےلئے قابل قبول نہیں اور نہ ہی انکی حمایت کی جاسکتی ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: عوامی سطح پر یہ سوال بہت اٹھایا جارہا ہے کہ، بی ایل اے کے نام سے براہ راست ان مسائل کو میڈیا میں کیوں لایا گیا، انتظامی مسائل دنیا میں ہر تنظیم کے اندر رہے ہیں۔ کیا یہ مسائل خاموشی سے اداروں کے اندر حل نہیں ہوسکتے تھے؟ 

اسلم بلوچ: ایسے حالات میں بنیادی سوال یہی سامنے آتا ہے کہ تنظیم کے ہوتے ہوئے ایسے حساس مسئلے کیوں میڈیا کی زینت بنائے جاتے ہیں، میں نے آپ کے پہلے سوال میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ تنظیم کو ابتداء سے ہی تنظیمی معیار کا ڈھانچہ فراہم نہیں کیا گیا، تمام ضروریات اور تقاضوں کے باوجود تنظیم کے اندر فردی اجارہ داری کو پروان چڑھایا گیا گذرتے وقت کے ساتھ یہ بات ثابت ہوچکا ہے کہ ایسا سوچ سمجھ کر کیا اور کروایاجارہا تھا۔ جہاں تک ابتدائی انتظامی معاملات تھے وہ بہتر انداز میں ترتیب دیئے گئے تھے، جنکے بہتر نتائج بھی ہمارے سامنے آئے لیکن جب کام کے وسعت کے ساتھ مختلف مسائل پیدا ہوئے، تو ضرورت تجربات و علمی معلومات کے بنیاد پر  باہمی مکالمے تجزیوں اور تحقیق سے اطمینان بخش نتائج کو لیکر متفقہ فیصلوں کی پیش آئی، مگر بدقسمتی دیکھیں اسکےلیئے نہ کوئی موقع و ماحول فراہم کیا گیااور نہ وہ صلاحیت و قابلیت سامنے آئی جسمیں ایسے مسائل پر قابو پانے کی اہلیت ہو،  دوسری طرف کام و طریقہ کار میں بہتری کے کوششوں کوبھی برداشت نہیں کیا گیا۔ 

عدم برداشت کی صورت حال یہ رہی کہ مان کر چلو تو ٹھیک ورنہ ہم یا تم والا رویہ  اور لو میڈیا ٹرائل کے لئے تیار رہو نہ ادارہ نہ سوال نہ جواب نہ بحث مباحثہ نہ ثبوت نہ گواہ ماضی میں  انہی حرکات کے نتائج  نواب خیربخش مری مہران مری والے مسئلے میں  یو بی اے اور آپسی جنگ کے صورت میں سامنے آئے،  دیگر آزادی پسند ساتھیوں کے ساتھ معمولی اختلافات مضبوط تعلقات کے بنیاد پرحل ہونے کی بجائے  بداعتمادی اور دوریوں کی صورت میں سامنے آئے،  گذشتہ اور ہمارے مسئلے میں جو ایک بات مشترک ہے، وہ میڈیا ٹرائل ہے۔ بہت سے محفوظ، بہتر اوربااعتماد اطمینان بخش طریقہ کار ہونے کے باوجود انکو پس پشت ڈال کر میڈیا میں بے بنیاد الزامات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا طریقہ کار اپنانا گیا تاکہ اپنی بات منوایا جاسکے۔ ان تمام کا تعلق فردی سوچ مزاج اور رویے سے ہے، مسائل اداروں کے اندر اس وقت حل ہونگے جب اداروں کے وجود کو تسلیم کیا جائے گا، یہاں تو آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے۔ ون نیشن ون لیڈر، ایک لیڈر باقی سب پیروکار والے فلسفے کا پرچار کرتے ہیں، جب آپ کے پاس ادارے ہی نہیں تو آپ مسائل کہاں حل کرینگے؟ لازمی طور میڈیا میں۔ ان سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ ادارتی طریقہ کار کا فقدان ہی اس صورت حال کی بنیادی وجہ ہے، ہمارا موقف اور عزم ہی بی ایل اے جیسے تنظیم کو فردی اجارہ داری سے نکال کر تنظیمی ڈسپلن میں بدلنا ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: جن عوامل کا آپ ذکر کررہے ہیں، کہ ادارے نہیں ہیں، مخالفین کا میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، دوسرے آزادی پسندوں کے بابت سوشل میڈیا میں جانا تو یہ تمام الزامات آپ پر بھی لگتے رہے ہیں کہ ان تمام عوامل کا آپ بھی مرتکب ہوئے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب تک آپ پر بات نہیں آئی تب تک آپ کیوں اداروں کے عدم موجودگی پر احتجاج نہیں کرتے تھے؟ 

اسلم بلوچ: اس بات کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا سے لیکر یو بی اے جنگ اور دیگر آزادی پسند ساتھیوں سے اختلافات تک یہ سب ہمارے بیچ پہلی مرتبہ ہورہا تھا، ہمیں سمجھایا جارہا تھا یا ہم سمجھ رہے تھے کہ اسطرح سے ہم بہتری لائیں گے، یہ تحریک کےلئے لازمی ہیں، ایسا نہیں ہوگا تو تحریک کا ستیاناس ہوجائیگا، انقلاب کیلئے ایسا کرنا لازمی ہے، اصول ڈسپلن وغیرہ وغیرہ  لیکن جب آپسی جنگ سے لیکر سوشل میڈیا کے استعمال، دیگرآزادی پسند ساتھیوں سے اختلافات اور ہمارے آپسی اندرونی طریقہ کار کے خامیوں کے نتائج ہمارے سامنے آنا شروع ہوئے تب ہم نے دیکھا کہ جیسا ہم سوچ رہے تھے ایسا ہرگز نہیں ہے۔  لوگوں کے شعور و احساسات کو سمجھے بغیر ہم اپنے تصورات و جذبات کو لیکر وقت و حالات اور اپنے کام و تعلقات میں توازن نہیں رکھ سکے۔ ہم بہت سے مقامات پراپناکام پورا کئے بغیر حد سے کچھ زیادہ ہی آگے گذرگئے، جسکا فائدہ براہِ راست ہمارے دشمنوں کو ہوا، تب جاکر ہم نے یہ موقف اختیار کیا کہ اب ذرا محتاط رہ کر تمام معاملات چاہے وہ مجموعی حوالے سے ہوں یا اندرونی ہوں، انکا جائزہ باہمی اعتماد و اتفاق سے لیا جانا چاہئیے، تحریک کے تمام چھوٹے بڑے اکائیاں قابل تسلیم و احترام ہونے چاہئیں، اس سوچ کو اب خیرباد کرنا چاہئیے کہ تحریک ہم نے شروع کی ہے، تو اسکے سیاہ و سفید کے مالک ہم ہیں، چاہے ہماری صلاحیتیں کچھ بھی ہوں۔ ہم ہر حوالے سے صحیح و بہتر ہیں، حد درجہ خامیوں میں مماثلت کے باوجود  باقی خامیوں کے ڈھیر ہیں۔ 

جہاں تک بات مجھ پر آنے کی ہے، میں سمجھ رہا ہوں کہ آپ یہ پوچھ رہے ہیں کہ فرد واحد کے مزاج و رویے کا جب تک میں خود شکارنہیں بنا تب تک میں نے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ یہاں غور طلب نقطہ یہ ہے کہ آخر میں ان رویوں کا شکار کیوں بنا؟ ضرور کوئی وجہ تو ہوگی؟ کام کے تسلسل کے ساتھ میرا موقف آپ لوگوں کے سامنے ہے، کیا یہ موقف ہمارے کام و گزرے حالات و واقعات کے ساتھ میل نہیں کھاتا؟ اگر ایسا نہیں ہے توپھرکوئی اور بات ہوگی،  ایسا بھی نہیں کہ ہم نے اس سے قبل کچھ نہیں کیا، جیسا کہ میں ذکر کرچکا ہوں کہ نواب خیربخش مری اور یو بی اے والے مسئلے کے بعد ساتھیوں نے جو خامیاں محسوس کی انکو لیکر ہم نے اپنے طور کام شروع کیا تاکہ ہمارے کام اور طریقہ کارمیں بہتری لایا جاسکے، اپنے طور اسلیئے کہ ایسے مسائل کو زیر غور لانے کے لئے باقاعدہ کوئی تنظیمی فورم تھا ہی نہیں، زیادہ مشکلات اس لئے پیش آرہے تھے کہ ساتھی الگ الگ گروہوں میں تقسیم کام کررہے تھے، ساتھیوں کے کام میں پیدا ہونے والے اونچ نیچ و تضادات کو ختم کرنے کے لئے ساتھیوں کا آپسی ربط اور انکے بیچ ہم آہنگی ضروری ہوچکا تھا۔ تعلقات، طریقہ کار، پالیسیوں اور کمزوریوں پر بات کرنا عین ضروری ہوچکا تھا، اسلیئے ہم نے ساتھیوں کے اسکائپ نشست سے ابتداء کیا تاکہ تمام ساتھیوں کے کام میں توازن اور ساتھیوں میں ہم آہنگی مضبوط ہو، ہم اپنے کمزوریوں  پر قابو پانے کے ساتھ اپنے کام میں بہتری لا سکیں  لیکن بدقسمتی ہمارے ابتدائی کوششوں میں ہی رکاوٹیں پیدا کی گئیں، ہمارے نجی محفلوں کے بحث مباحثوں کو گروہ بندی کا نام دیا گیا، ساتھیوں کے سوالات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انکے کام میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں، ساتھیوں پر دباؤ ڈالنے کےلئے طرح طرح کے حربے استعمال ہوئے، یہ تسلسل پچھلے چار سالوں سے جاری رہتے ہوئے یہاں تک پہنچا۔ 

میرے خیال سے ان باتوں کو سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہونا چاہئیے کہ ماضی میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال نواب خیربخش مری سے اختلافات یو بی اے اور آپسی جنگ دیگر آزادی پسند ساتھیوں سے اختلافات کے بنیاد پر دوریاں یہ سب سیدھی طرح سے ہمارے لوگوں پر اثر انداز ہوئے، جب بلوچ عوام میں مایوسی اور ناامیدی بڑھنے لگی تو دشمن نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور تحریک کے خلاف تیزی سے کام شروع کردیا، ان چند سالوں میں ہمیں زیادہ نقصان پہنچا کر تحریک کے رفتار اور وسعت کو کم کردیا گیا، یہ ایک تاریخی حماقت نہیں ہوگا کہ دشمن ہمیں ختم کرنے کے قریب ہو اور ہم معمولی اختلافات پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہیں؟  جب تحریک متحرک و مضبوط اور باہمی اعتماد و یقین بحال ہوگا،  تب ہی ہم اپنے مسائل حل کرنے کے اہل ہونگے، چاہے وہ آپسی اختلافات ہی کیوں نا ہوں، بصورت دیگر بداعتمادی اور دوریاں  تحریک کا کمزور ہونا تو تباہی ثابت ہورہے ہیں، اتنی سی بات کسی کو سمجھ نہیں آئے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اگردیکھا جائے توکمزوریاں خامیاں ہر طرف ہیں۔ کمزوریوں خامیوں پر  باہمی اعتماد اورتعاون سے قابو پانا ممکن ہوگا ناکہ کمزوریوں اور خامیوں کے بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے، ٹانگیں کھینچنے یا کردار کشی یا انکی بنیاد پر پوائنٹ اسکورنگ کرکے کچھ حاصل کیا جا سکے گا، اگر ایسا ہوتا تو پچھلے چھ سالوں میں ہمیں کچھ تو بہتری دیکھنے کو ملتا وہ بھی کم از کم ہماری طرف۔ 

آپ کہتے ہیں کہ میں تب تک نہیں بولا جب تک مجھ پر انگلی نہیں اٹھی، میں کہتا ہوں کہ مجھ پر انگلی اٹھی ہی اسی لیئے کہ کیونکہ میں نے بولنا شروع کردیا۔ ورنہ چپ رہ کر اور ہاں میں ہاں ملا کر میں سب سے زیادہ قابلِ قبول بنا رہ سکتا تھا۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل اے کے ہائی کمان کے نام سے جاری ایک اور بیان میں واضح طور پر آپکا نام لیکر آپکو تنظیم سے معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معطلی کے باوجود آپ اسی طرح قیادت کررہے ہیں اور کام جاری ہے، پھر اس معطلی کی حقیقت کیا ہے؟ 

اسلم بلوچ: انفرادیت یا فرد واحد ہمارے ہاں فی الوقت کسی صورت بھی اداروں کا نعم البدل نہیں ہوسکتا، دنیا میں ایسے بہت سے شخصیات گذرے ہیں، جو اتنے باصلاحیت و قابل تھے جنہوں نے بہت بڑے بڑے گروہوں کو متحد و منظم کرکے انکو متحرک رکھا اور انکی قیادت کی مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہر چھ ماہ، سال بعد سوالات سر اٹھارہے ہیں۔  پچھلے دو سال سے بذات خود تمام متعلقہ صاحب رائے ساتھیوں سے کھل کر اس مسئلے پر بات کی اور تنظیم کے اندر اس بات پر  اکثریتی حوالے سے اتفاق بھی پایا جاتاہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ تنظیم کے تمام ذمہ داران جو صاحب رائے ہیں انکے متفقہ رائے سے تنظیم کے خامیوں پر قابو پانے کی کوششیں کی جاتی لیکن بدقسمتی سے اسی تسلسل کا میں بھی نشانہ بنا، فرد واحد کی طرف سے مجھے خاموش کرانے کے لئے جواز تراشے گئے، میرے خلاف حربے استعمال کئے گئے، میری ذمہ داریوں میں مداخلت شروع کیا گیا، میرے کام میں رخنہ اندازی شروع کی گئی، لازمی بات ہے اصل مسئلہ جب اکثریت سمجھ رہے ہوں تو انکو صحیح فیصلہ کرنے میں دقت پیش نہیں آتی، ساتھیوں کی اکثریت نے اس طریقہ کار اور ایسے فیصلوں کو مسترد کردیا ہے، جو فرد واحد کے مزاج و رویے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

 اول تو تنظیم کے تاریخ میں یہ بات وجود نہیں رکھتی کہ اسطرح سے کسی کو معطل کیا گیا ہو کیونکہ یہ معطلی وغیرہ ہمارے تنظیم کا طریقہ کار نہیں رہے ہیں، ایک سپاہی سے ہم اس وقت تک بندوق لینے کا مجاز نہیں ہوتے جب تک وہ کسی مجرمانہ فعل کا مرتکب نہ ہو، اس پر کسی بھی قسم کے  الزامات ہوں، جب تک وہ الزامات ثابت نہیں ہوتے، ہم اسکو مجرم نہیں سمجھتے اور سزا کا تعین بھی ساتھیوں کے اکثریتی متفقہ رائے سے الزامات ثابت ہونے کے بعد کرتے ہیں، تب تک وہ بحیثیت ساتھی اپنا کام کرتا رہتا ہے، میرے لئے یہ بات بھی باعث حیرت ہے کہ مسلح تنظیم کے ساتھیوں کو حالت جنگ میں بغیر کسی مجرمانہ فعل کے معطل کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟ وہ بھی ایسی صورت میں جب سوال ہی فرد واحد پر اٹھ رہے ہوں، اسکو یہ اختیار کب اور کس نے کہاں کس طرح سے دیئے ہیں کہ وہ دور بیٹھکر اپنے اردگرد بٹھائے دو چار لوگوں سے ملکر متعلقہ ساتھیوں، تنظیمی تحقیقاتی کاروائی و طریقہ کار کو پسِ پشت ڈال کر اس نوعیت کے فیصلے لے؟ تنظیم کے اندر اسطرح کے معطلی کی نا تو کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی اہمیت۔ 

اسی لیئے میں اور ہمارے ساتھی اپنی ذمہ داریاں بدستور نبھا رہے ہیں اور اس بارے میں تنظیم کا موقف بھی سامنے آچکا ہے، ہم اپنی قومی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اس مسئلے کو حل کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں کہ تنظیم کے اندر تنظیمی ڈسپلن کی وضاحت ہو اور وہ متفقہ رضا مندی سے لاگو کیا جائے، اسکا دارومدار فردی جذبات و مزاج پر نہ ہو، جب تک یہ ممکن نہیں ہوتا لازمی بات ہے کہ اس طرح کے حربوں سے ہم اپنے ذمہ داریوں سے دستبردارتو نہیں ہوسکتے، باقی ساتھیوں کو بھی جلد از جلد اس بات کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ کم از کم میں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ہمارے ساتھیوں کی توجہ اصل ہدف سے ہٹایا جائے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل اے ہائی کمان کے اسی بیان میں آپ پر مذہبی شدت پسندوں کے کمک کا سنگین الزام لگایا جاتا ہے، آپ اس بابت کیا رائے دیں گے؟ 

 اسلم بلوچ: مذہبی شدت پسندی ایک ایسا ناسور ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہے، مذہبی شدت پسندی کی حمایت کرنا ہمارے جیسے قوم دوست جہدکاروں  کےلئے ممکن ہی نہیں، افغانستان کی جنگ کے تناظر میں پاکستان کے عزائم اور افغانستان میں مداخلت  کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اس کے باوجود پاکستان کا افغانستان پر الزام کہ وہ پاکستان مخالف مذہبی شدت پسندوں کی کمک کرتا ہے امریکہ پر الزام کہ داعِش کو بڑھاوا دینے میں ملوث ہے یعنی دشمن کا دشمن ہمارا دوست والا فارمولا سب کےلئے قابل قبول و قابل عمل رہتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا بھی نہیں ہم ہمیشہ سے کسی بھی مخالف حقیقت اور مسئلے کو اپنے قومی مفادات سے پرکھنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اس حقیقت سے ہم انکار نہیں کرسکتے کہ پشتون قوم سے ہم جغرافیائی حوالے سے لٹ بند ہیں بہت سے علاقوں میں بلوچ پشتون مشترکہ طور پر گزر بسر کررہے ہیں، اس خطے میں مذہبی شدت پسندی کی جو لہر چل رہی ہے، اس سے نسبتاً پشتون زیادہ اور کسی نہ کسی حد تک بلوچ بھی متاثر ہورہے ہیں، یہاں پاکستان مخالف قوتیں سرگرم عمل ہیں، یہ اتنا  سیدھا سادہ نہیں جسکو صرف سیاہ و سفید میں دیکھا جاسکے،  ہمارے قومی  روایات ہیں جو ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنے علاقے میں پناہ لینے والے پناہ گزین کو دھکے مار کرنکال دیں یا پنجابیوں کی طرح پیسے لیکر انکو بیچ دیں یا گذر گاہوں کو جنگ زدہ لوگوں کے لیے بند کردیں ہم اپنے بہترین اور مثالی روایات کے امین ہیں ہمارے لیئے انکے خلاف جانا ممکن نہیں۔

ایک جانب ایرانی و ہندوستانی پراکسی ہونے کے الزامات لگ رہے ہیں، اب اسکے ساتھ ہی ساتھ مذہبی شدت پسندوں کو کمک کرنے جیسے سنگین الزامات کے بدلے صرف معطلی کچھ زیادہ معنی خیز ہے، دوسری طرف باقاعدہ طور پر کسی بھی تحقیقاتی و تنظیمی کاروائی کے بنا،  بغیر ثبوت کے میرے خلاف اس نوعیت کا فیصلہ لینا اوراخباری اعلانیہ بھی حیرت انگیز ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایسے کام راتوں رات نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی ایک شخص تن تنہا ایسے کام سرانجام دے سکتا ہے تو اول جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو خودساختہ ہائی کمان کہاں تھے؟ دوسری بات تن تنہا میں نے یہ سب کچھ کس طرح انجام دیا؟ اسکی وضاحت کیوں نہیں کی گئی؟ درحقیقت ہمارے حالات ایسے ہیں کہ ہم خود کمک اور مدد کے لیے سرگرداں ہیں، ہمیں اپنے جنگ کو وسعت دینے کےلئے ناکافی وسائل کا سامنا ہے، ایسے حالات میں ہم کیسے مذہبی شدت پسندوں کی کمک کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بات فرد واحد کا ہائی کمان کا نام استعمال کرکے ایسے الزامات لگانے کا ہے، تو یہ سارے حربے دباؤ بڑھانے سے تعلق رکھتے ہیں، تمام حساس مسائل سے لغو طریقے سے آپ کا نام جوڑ کر آپکو دباؤ میں لانے کیلئے ایسا کیا جاتا ہے، ایسے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: اسی بیان میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ آپ بی ایل ایف اور ایران کے ساتھ مل کر بی ایل اے کو توڑنا چاہتے ہیں، ان الزامات کی نوعیت بہت سنگین ہے، جو ناصرف آپکو بلکہ پورے بی ایل ایف کو ایران کا پراکسی ظاھر کرتی ہے، ان الزامات میں کتنی سچائی ہے؟ 

اسلم بلوچ: مزاحقہ خیز الزامات کچھ زیادہ ہی لگائے جارہے ہیں میرا تعلق ابتداء سے ہی بی ایل اے سے رہا ہے اور بی ایل اے کی تشکیل و تعمیر سے لیکر یو بی اے بحران اور ریاستی جارحیت کے دوران تمام عرصے کے دوران تنظیم کے اندر میرا ایک جاندار کردار رہا ہے، صرف ایک وجہ کوئی بتا سکتا ہے کہ  میں تنظیم کو کیوں توڑوں گا؟ چلو سننے والے کچھ وقت کیلئے مان بھی لیں کہ میں بی ایل ایف سے ملکر بی ایل اے جیسے تنظیم کو توڑنے جارہا ہوں،  مگر جب بات ایران کی کیجائے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوگی کہ ایران بلوچ مزاحمت کو چھوڑ کر صرف بی ایل اے کو کیونکر ہدف بنائے گا؟ ایران کو بلوچ مزاحمت سے خطرہ ہے یا صرف بی ایل اے سے؟ یہ ایک بنیادی سوال ہے اگر صرف بی ایل اے سے ہے تو ایسا کیوں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ بی ایل اے بلوچ قومی آزادی کیلئے مزاحمتی جدوجہد کررہی ہے، تو پھر وہی جدوجہد بی ایل ایف بھی کررہی ہے۔ تو ایران کو صرف بی ایل اے سے خطرہ کیوں؟ وہ بھی ایسی صورت میں جب بی ایل ایف کے نسبت بی ایل اے ٹوٹ پھوٹ اور بحرانوں کا شکار نظر آتی ہے، نہ تو اس تمام عرصے میں کھل کر بی ایل اے نے گریٹربلوچستان کی بات کی ہے اور نہ ہی جنگ کو مغربی بلوچستان تک وسعت دی ہے اور نہ ہی مغربی بلوچستان سے کسی نے جدوجہد آزادی کی کھل کر حمایت کی ہے،ایسے زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے صرف الزامات پر یقین کرنا کسی باشعورانسان کے لیے مشکل ہوگا۔ 

ہمارے حلقوں میں جس طرح سے بی ایل ایف کو پیش کیا جاتا رہا ہے، اسکو اگر زیادتی قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا، میں اس بات کا گواہ اور اس وقت تو زندہ ثبوت بھی ہوں کہ ہمارے ہاں اپنی ہر جائز و ناجائز بات منوانے کے لیے کچھ دوست کسی بھی حد کو پار کر جاتے ہیں، ہم یا تم والے فارمولے کے تحت دشمنی سے بھی گریز نہیں کرتے، اس بیچ حالت جنگ اور دشمن کو مکمل فراموش کیا جاتا ہے، اصل ہدف پیچھے رہ جاتا ہے، مجھے یہ کہتے ہوئے بے حد افسوس ہوتا ہے کہ قومی  تحریک میں اس خطرناک رجحان کو پروان چڑھانے میں ہمارے اندر فرد واحد پیش پیش رہے ہیں، ہم بی ایل اے کو ایک قومی اثاثہ سمجھتے ہیں، اسکا تعلق ہزاروں جہدکاروں سے ہے، جو اس تنظیم کے وارث ہیں، یہ تنظیم کسی فرد واحد کی میراث نہیں جس میں نوکر اور مالک والے رویوں کی حوصلہ افزائی کی جائے،  یا فاشزم کو پروان چڑھایا جائے یا ایسے سوچ و رویوں کو برداشت کیا جائے جنکے منفی اثرات براہِ راست تحریک پرپہلے ہی پڑچکے ہیں  کردارکشی اور نفی کرنا کسی بھی صورت مطابقت نہیں رکھتے اختلاف، اتفاق، مماثلت و مخالفت بحث مباحثوں  وغیرہ سے ناجائز طریقے سے دباؤ بڑھانے سبقت لے جانے یا پوائنٹ اسکورنگ کیلئے اخلاقی حدود و قیود کو پامال کرنا کیسے مثبت نتائج دے سکتے ہیں جنکو برداشت کیا جاسکے۔  

 جب ہم ذمینی حقائق کی طرف دیکھتے ہیں تو ایران اور افغانستان کے حوالے سے جو تاریخی جبر بلوچ قوم پر ہوا ہے وہ ذاتی ملکیت خاندان حتیٰ کہ قومی ملکیت کے تقسیم کی صورت میں بحیثیت قوم ہم بھگت رہے ہیں، ہمارے لوگ، خاندان، ذمینیں تقسیم ہیں۔ حالت جنگ میں اس طرف کے ہمارے جنگ زدہ لوگ اگر اپنے اس طرف کے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیتے ہیں تو کیا وہ ایران کے پراکسی کہلاتے ہیں؟  ایسے بہت سے ہمارے جان پہچان والے ساتھی یا انکے گھر والے اپنے رشتہ داروں کے ہاں مغربی بلوچستان میں پناہ لے چکے ہیں، اپنے خاندان والوں کو پنجابی آرمی کے جارحیت سے بچانے کے لئے اپنے ہی سرزمین پر اپنے ہی لوگوں کے ہاں جانا کیسے پراکسی قرار دیا جاسکتا ہے؟ 

یہ الگ سے دیکھنا ہوگا کہ ایران ان حالات میں بلوچوں کے لئے کس نوعیت  کے پالیسی رکھتا ہے، یقینی طور پر ایرانی موجودہ حالات میں بلوچوں کو لیکر جس بھی پالیسی پر گامزن ہیں، وہ انکے مفادات اور انکو درپیش حالات پر منحصر ہیں، ناکہ ہمارے لوگوں کے مفادات پر مذہبی شدت پسندی، ایران، افغانستان اور پاکستان کے بیچ موجود حالات میں اور اپنے قومی مفادات میں ہم کس طرح سے توازن برقرار رکھ سکتے ہیں یہ ہم پر منحصر ہے، اس کیلئے  بلوچ دانشور موتبر سیاسی حلقے موجود ہیں جنکی رائے اہمیت رکھتی ہے۔  

ایرانی مفادات، پاکستانی مفادات اور موجودہ بین الاقوامی حالات کے بیچ بلوچ قومی مفادات کی نگہبانی انتہائی ہی حساس معاملہ ہے، اسکو الزام تراشی یا کردار کشی کے لئے استعمال کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے، ایسے گھناونے عمل کا مرتکب ہونے والوں کو ذرا سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: کم و بیش گذشتہ دو دہائیوں سے آپکا نام منظر عام پر آتا رہا ہے، آپکا نام بی ایل کے ساتھ جڑا رہا ہے، سرکار آپ کو سب سے اہم کمانڈر قرار دیکر آپکے سر پر انعام رکھتی ہے، جو کسی بھی اشتہاری ملزم پر رکھی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے، آپ پر کئی حملے ہوتے ہیں، سرکاری سطح پر آپکے جانبحق ہونے کا دعویٰ آتا ہے اور تنظیمی سطح پر زخمی ہونے کا اقرار آتا ہے۔ یہ تمام عوامل ظاھر کرتے ہیں کہ آپ بی ایل اے کے انتہائی اہم کمانڈروں میں سے ایک ہیں اور تنظیم کیلئے بہت معنی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود آج آپکی وہی تنظیم آپکے خلاف میڈیا میں بیان جاری کررہا ہے اور معطلی کے اعلان ہوتے ہیں۔ اہم ترین کمانڈر سے معطل کمانڈر ہونے کی نوبت کیسے آئی، آخر بنیادی مسئلہ کیا ہے اور اتنی بگڑی کیوں؟ 

          اسلم بلوچ: اسکا جواب میں آپکے پہلے سوالوں میں بھی کسی حد تک دے چکا ہوں، دراصل ہم یہ چاہتے ہیں کہ بی ایل اے جیسی تنظیم جلدازجلد ایک تنظیمی شکل اختیار کرکے ادارتی طریقہ کار کے تحت قومی تحریک میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے لیکن ہمارے کچھ دوست بضد ہیں کہ جیسا چل رہا ہے ویسا ہی چلتے رہنا چاہیئے اور تنظیم شخصی اجارہ داری  میں رہنا چاہیئے۔

 یو بی اے والا مسئلہ اور اسکے منفی اثرات جو بلوچ عوام اور تحریک پربراہ راست اثر انداز ہوئے ایسے تلخ تجربات سے گذرنے کے بعد ہمارے لئے اپنے سوچ طریقہ کار اور رویوں میں  بدلاو لازمی ہوچکا تھا، اس بات سے قطع نظر کہ ہم کیوں اور کیسے ایسے حالات کا شکار ہوگئے، لازمی و بنیادی بات نظر ثانی و بدلاو کا آتا ہے، جسکی وجہ سے  پہلی مرتبہ تنظیم میں نیچے کی سطح سے طریقہ کار و رویوں  میں تبدیلی کی کوششیں کی جارہی ہے۔ لازمی بات ہے کہ ایسے حالات جہاں ادارتی طریقہ کار کا فقدان ہو رویے فردی اجارہ دارانہ ہوں، تو  یہ تبدیلی کیسے آسانی سے قبول کیئے جائینگے،  جبکہ ہمارا عزم تنظیم کے اندر بغیر ٹوٹ پھوٹ کے تبدیلی لانا ہے، تنظیمی ڈسپلن وضع کرنا ہے، جس میں سربراہ سے لیکر سپاہی تک سب کے حدود اختیارات فرائض و حقوق کی وضاحت کے ساتھ نشاندہی ہو اور پالیسی ساز ادارے کی تشکیل ہو، تاکہ ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھ میں آ سکے، ایسا نہ ہو کہ کسی مرتے مریض کی زندگی کو بچانا اسکا علاج کرانا جرم سمجھ کر ڈسپلن کی خلاف ورزی قراردیاجائے۔ 

 درحقیقت  ہمارے اسی موقف کی وجہ سے ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، میرے خلاف  اخباری بیانات کے علاوہ بہت سے ایسے حربے استعمال کئے گئے جنکا یہاں ذکر کرنا شاہد مناسب نہیں اور آخر کار بات  اخباری معطلی تک پہنچا اسکو میں صرف بیانی معطلی کہوں گا کیونکہ یہ عمل تنظیم کے اندر باقاعدہ تنظیمی طریقے کو پس پشت ڈال کر کیا گیا ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تمام الزامات کو بمعہ ثبوت  تنظیم کے متعلقہ ذمہ داران کے سامنے پیش کرکے مجھے جوابدہ بنایا جاتا اور مجھے صفائی کا موقع بھی دیا جاتا لیکن متعلقہ ذمہ داران سمیت اس پورے عمل کو پس پشت ڈال کر اپنے طور ایسا کیا گیا ہے لہذا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ دباؤ ڈالنے والا حربہ ہی ہے جو دور بیٹھکر انجام دیا گیا۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بی ایل اے سخت اصولوں پر گامزن ہے اسی لیئے آپ اسکا شکار بنے، اس میں کتنی حقیقت ہے؟ 

اسلم بلوچ: میرا اعتراض کیا ہے؟ اسکو سمجھنے کی شاید ضرورت زیادہ ہے، دراصل باضابطہ متفقہ دستوری ضابطے و اصول بی ایل اے میں ابتداء سے لیکر آج تک متعارف نہیں کرائے گئے، تنظیمی ڈسپلن جس میں سربراہ سے لیکر سپاہی تک کے حد حدود، اختیارات، فرائض، حقوق، عہدوں وغیرہ کی باقاعدہ وضاحت و نشاندہی نہیں کی گئی، الگ الگ چھوٹے بڑے گروہ اور علاقائی کیمپ ذمہ داران کے تحت فرد واحد کی نگرانی میں کام کررہے تھے، ابتدائی انتظامی ترتیب بہت بہتر تھا اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن وقت کے ساتھ ہی ساتھ جب چھوٹے بڑے مسائل نے سر اٹھانا شروع کیا تو یہ خامی کھل کر سامنے آیا کہ درحقیقت فرد واحد کے پاس  اخلاقی، انقلابی حتیٰ کہ روایتی و رواجی کسی بھی طرح کے اصولوں کی ماتحتی سرے سے ہے ہی نہیں،  سب کچھ انسانی مزاج پر منحصر ہیں مثلا میں ایسا کروں گا میں ویسا ہرگز نہیں کروں گا، کوئی جواز کوئی بھی دلیل کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ہوتا وجہ پوچھنے پر جواب ملتا میری مرضی، یہی اصول ہے یہی ڈسپلن ہے فردی جذبات ہی فیصلوں کی وجہ بنتے آرہے ہیں۔ 

مثلا ہمارے ایک اہم ساتھی تقریبا ڈھائی سال قبل کاہان میں ایک لینڈ مائن میں زخمی ہوئے، علاقائی کمانڈروں نے بغیر اجازت زخمی ساتھی کو کچھ سرینڈر شدہ بگٹیوں کے ذریعے پنجاب علاج کے لیے بھیج دیا جہاں سے وہ گرفتار ہوئے، اس واقعہ کے بابت نا کسی سے کوئی پوچھ گچھ ہوئی اور نا ہی کوئی تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی، کچھ بھی نہیں کیا گیا بغیراجازت و مشورہ علاج کے لیے دشمن کے ہاتھوں دیکر دشمن کے بیچوں بیچ بھجوانا جیسے واقعہ پر کوئی تحقیق نہیں ہوا، کوئی ڈسپلن لاگو نہیں ہوا لیکن پھر میرے علاج کے مسئلے میں نہ دشمن تھا نہ کوئی سیکورٹی رسک جو طریقہ اور رویہ اپنایا گیا وہ قوم کے سامنے ہے۔

نواب خیربخش مری کے زندگی میں اصول ڈسپلن کے نام پراس سے جو رویہ اپنایا گیا تعلقات و حالات کو جس نہج پر پہنچایا گیا وہ پوری قوم کے سامنے تھے  پھر انکے رحلت پر اچانک جس جذباتیت کا مظاہرہ کیا گیا نواب صاحب کو جن القاب سے نوازا گیا وہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ 

ایک کمانڈر کے متعلق 2012 میں ایک ساتھی نے جیل سے رہائی پر شکوک و خدشات کا اظہار کیا کہ دوران تفتیش ایسی باتیں میرے سامنے لائے گئے ہیں جو محض میرے اور مذکورہ کمانڈر کے بیچ ہی ہوئیں تھیں، ہم دونوں کے سوا یہ تمام باتیں کسی کو معلوم نہیں تھے۔  وہ دشمن تک کیسے پہنچے؟ ساتھی کے اس شکایت کے باوجود کوئی پوچھ گچھ تحقیق نہیں ہوا اور نا ہی کوئی سخت اصول اور ڈسپلن دیکھنے کو ملا، ان خدشات کے باوجود 2015 کے شروعات میں خفیہ اداروں کا ایک خاص کارندہ جب ساتھیوں کے ہاتھ لگا،  تب اس کے انکشافات میں بھی اس کمانڈر کا نام سامنے آیا، اس ایجنٹ کے اعترافی بیان کو بذات خود میں نے متعلقہ ساتھی تک پہنچایا لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی مشکوک کمانڈر کو اتنا کچھ سامنے آنے کے باوجود میرے کیمپ سے دو مرتبہ پیسے بھجوائے گئے اور اس کے خلاف نا کوئی ڈسپلنری کمیٹی بٹھائی گئی اور نا ہی کوئی تحقیقات کی زحمت ہوئی، وجہ صرف یہ کہ یہاں ڈسپلن کا تصور فردِ واحد سے بندھا ہوا ہے، جب تک آپ اسکے مزاج کے کھنچے لکیر کے اندر رہیں گے تو کچھ بھی کریں آپ پر کوئی ڈسپلن لاگو نہیں ہوتا۔ بعد میں وہی کمانڈر 2017 کے شروعات میں سرینڈر ہوگیا، اور تمام شکوک و شبہات حقیقت میں بدل گئے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں، جو ایسے اقدامات کے سامنے مکمل تضاد کی صورت میں سامنے آتے ہیں، جن پر اصول پرستی اور ڈسپلن کا قلعی کھل جاتا ہے۔ 

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے، جس طرح غلط بیان کرکے مجھے ڈسپلن کا باغی کہا جارہا ہے بات اسکے بالکل برعکس ہے، در حقیقت میں اور دوسرے ساتھی اب ایک حقیقی متفقہ، جمہوری اور تحریری ڈسپلن چاہتے ہیں۔ جو سپاہی سے لیکر سربراہ تک سب پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ ہماری ساری شکایت فردی مزاج اور ذاتی پسند و نا پسند کو ڈسپلن کا نام دینا ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: ان تمام مسائل کو دیکھ کر بی ایل اے کے اہرام و تنظیم کے بابت سوالات اٹھتے ہیں، بی ایل اے میں اعلیٰ قیادت اور ہائی کمان کو چننے کا طریقہ کار کیا ہے؟ کیا جمہوری طریقے پر ووٹنگ ہوتی ہے، صلاحیتوں کے بنیاد پر کوئی کمیٹی چناو کرتا ہے یا کوئی اور طریقہ کار ہے؟ 

اسلم بلوچ: اس وقت تک بی ایل اے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، کام کرنے کا طریقہ کار میں اوپر بیان کرچکا ہوں، ہمارے ہاں باقاعدہ متفقہ ہائی کمان اس وقت تک وجود نہیں رکھتا، ابتداء سے لیکر آج تک کوئی ایسا متفقہ فیصلہ نہیں ہوا ہے، اس کی ضرورت اسلیئے بھی محسوس نہیں کی گئی ہے کیونکہ باقی تنظیمی ڈھانچہ عہدے، اختیارات، حد و حدود کا تعین ہی نہیں ہوا، ہم ذمہ داران 15 سالوں سے کمانڈر ہیں تو کمانڈر ہیں، سربراہ ابتداء سے ہی فرد واحد کی صورت میں سربراہ  ہے (قطع نظر گذشتہ دنوں کی خودساختہ ہائی کمان کے دعوٰی سے ) اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے کہ تنظمی ڈسپلن کی وضاحت ہو۔ 

 دی بلوچستان پوسٹ: موجودہ مسائل کو دیکھ کر یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے قیام اور اس پر لگے الزامات کے صحت پر شکوک ابھرتے ہیں، وہ حقیقی وجوہات کیا ہیں جن کے بنا پر بابا خیربخش مری اور مہران مری بی ایل اے سے الگ ہوکر یو بی اے بنانے پر مجبور ہوئے؟ 

اسلم بلوچ: جن حالات سے پچھلے دو سالوں سے ہمارے ساتھی  گزر رہے ہیں انکو دیکھتے ہوئے بلکل مجھے یہ یقین ہوچلا ہے کہ ایک طرف اسی رویے اور مزاج نے دوسری طرف ادارتی طریقہ کار کے فقدان نے نواب خیربخش مری اور ساتھیوں کو اپنے راستے جدا کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ کیونکہ سیاسی مسائل منتخب وفود کے ذریعے پیغام رسانی سے حل نہیں ہوتے، آپ مسائل پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں ہوتے، آپ تجزیے اور تحقیق کارکردگی کا جائزہ لینے سے قاصر ہوتے ہیں، آپ  سننے سمجھنے اور سمجھانے سے محروم صرف اپنی بات منوانے پر زور دیتے ہیں، تو دوسری طرف والوں کے لیئے کیا رہ جاتا ہے گاجر اور لاٹھی والی پالیسی دوران جنگ سیاسی مسئلوں میں چلنے سے رہی۔  

دی بلوچستان پوسٹ: کیا ضروری ہے کہ بلوچ تحریک میں تنظیموں کے اندر ہر مسئلے کے حل ٹوٹنا ہی ہو؟ کیا آپ کی نظر میں بی ایل اے کے اس موجودہ بحران جسے حرفِ عام میں آزاد و جئیند کی لڑائی کے نام سے پکارا جارہا ہے کا دو لخت ہونے کے علاوہ کوئی حل ہے؟

اسلم بلوچ: اول تو میں صاف الفاظ میں اس بات کی وضاحت کروں کہ ہم تنظیم میں سربراہی و قیادت کرنے کےلئے کوئی دعوٰی نہیں کررہے ہیں کہ ہم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں اور نا ہی ہم ایسے مسائل پر حالات کو ایسے نہج پر پہنچانے کے حق میں ہیں جہاں ہم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں ہمارا موقف ہم صاف طور پر بیان کرچکے ہیں جہاں تک بات مسئلہ کو حل کرنے سے تعلق رکھتا ہےوہ بلکل آسان  ہے کھلے دل و کھلے ذہن سے دوستوں کو سنا جائے، تمام مسائل پر کھل کر بات چیت شروع کیا جائے، تمام خدشات و شکوک کو زیر بحث لایا جائے، بات منوانے دباؤ بڑھانے کےلئے الزام تراشی و حربے استعمال نہ کئے جائیں، تنظیم کو ذاتی میراث سمجھنے کی بجائے قومی اثاثہ سمجھا جائے، تنظیمی ڈسپلن پر متفقہ فیصلے لیئے جائیں۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: آپ موجودہ حالات میں اتحاد کی ضرورت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

اسلم بلوچ: ان حالات میں ایسا کون ہے، جو اتحاد کی ضرورت سے انکار کرسکتا ہے؟ تحریک کے حالیہ ابھار سے سامنے آنے والے منظرنامے میں جو حقیقی اکائیاں وجود رکھتے ہیں انکے اتحاد و اتفاق کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا، اگر کوئی اس خام خیالی کا شکار ہے کہ کسی ایک پارٹی اور ایک لیڈر والا فلسفہ ان حالات میں کام آئے گا، تو انکو خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہئیے، گزشتہ کچھ عرصے کے تلخ تجربات سے ہمیں اتنا تو سبق لینا چاہئیے کہ دشمن اپنے جارحیت کے عروج پر پہنچ چکا ہے، ہمارے اختلافات و نااتفاقی نے ہمارے محاذ اور موقف دونوں کو کمزور کردیا ہے، جسکا فائدہ سیدھی طرح ہمارا دشمن اٹھا چکا ہے، جسکی وجہ سے کسی نا کسی حد تک  ہمارے لوگوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اورہمارے لوگوں میں مایوسی پھیل رہا ہے، ہمیں اپنے اختلافات اور مسائل کے حل کے لئے ایسے بااعتماد فورم تشکیل دینے چاہئیے جہاں انکو زیر بحث لانے سے ہمارے اعتماد و تعلقات پر کسی قسم کے منفی اثرات نہیں پڑنے چاہئیں کیونکہ موجودہ حالات میں اتفاق و اتحاد پر معمولی اختلافات کو ترجیح دینا حماقت ہوگی،  آج ہمیں آپسی اختلافات کو اصل ہدف ہمارے دشمن کے مقابلے میں اولیت دینے سے گریز کرنا چاہئیے کیونکہ ہمارا توجہ اصل ہدف سے ہٹنے کی صورت میں فائدہ ہمارے دشمن کو ہورہا ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: بی ایل ایف اور بی ایل اے کے حالیہ اشتراکِ عمل کو بہت سے حلقوں نے انتہائی سراہا۔ کیاایسا ورکنگ ریلیشن باقی تنطیموں سے بھی ممکن ہے؟ اشتراکِ عمل کے علاوہ کیا بی ایل اے اور بی ایل ایف مشترکہ ادارہ سازی، پالیسی سازی یا اس قسم کے عملی اقدامات کر رہے ہیں اگر ہاں تو کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟

اسلم بلوچ: اشتراک عمل کے حوالے سے تمام مزاحمتی ساتھیوں سے رابطے میں ہیں، جن ساتھیوں میں اس حوالے سے مکمل اتفاق پایا جاتاہے ہے، ان کے ساتھ ملکر ہم نے گراونڈ پر کام شروع کردیا ہے، باقی ساتھیوں  سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ کچھ پیچیدگیاں اور رکاوٹیں ہیں، جنکو ہم باہمی اعتماد سے دور کرنے کے حق میں ہیں۔ مجموعی حوالے سے یہاں قبائلی رشتے ہیں، خاندانی رشتہ داریاں بھی، جو کہیں نہ کہیں جاکر ہمارے کام پر اثر انداز ہورہے ہیں، ہم اپنے گذشتہ خامیوں کے بنیاد پر ساتھیوں کے ساتھ ملکر بہتر حکمت عملی بنانے پر متفق ہیں، کام ہورہا ہے۔ مضبوط تعلقات اور اشتراک عمل کے حوالے سے بنیادی تمام ضروریات، پالیسی سازی وحکمت عملی سے لیکر جوابدہی تک سب کو دستوری طور ادارتی طریقہ کار میں ترتیب دینے پر کام کررہے ہیں۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: بلوچ تجزیہ کار سی پیک کو بلوچ قومی شناخت کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔ کیا بلوچ مسلح طاقتیں اس بارے میں متحدہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں؟ کچھ تجزیہ کار خیال کرتے ہیں کہ ایک مشترکہ ٹاسک فورس کسی حد تک خطے میں بلوچ طاقت کو ظاہر کرنے کیلئے کارآمد ہو سکتا ہے، کیا اس بارے میں کوئی پیش رفت ہوسکی ہے؟

اسلم بلوچ: سی پیک نا صرف اس خطے کے امن کیلئے بلکہ بلوچ قوم کے بقاء کیلئے بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے، اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مزاحمتی حوالے سے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر تمام مزاحمتی ساتھیوں میں اتفاق پایا جاتاہے، اس حوالے سے مشترکہ  حکمت عملی ترتیب دینے پر کام ہورہا ہے، خصوصاً بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ساتھیوں کے بیچ اس بابت اشتراکِ عمل پایہ جاتہ ہے اور دیگر آزادی پسند مزاحمتی ساتھیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ جلد از جلد اس حوالے سے عملی کام کو ترتیب دیکر آگے بڑھائیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: ایک رائے ہے کہ پاکستانی ریاست کسی حد تک بلوچ تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ کیا اس میں کوئی صداقت ہے؟ آپکے خیال میں کس طرح بلوچ تحریک کو  ایک بار پھر جدید خطور پر منظم کرکے کامیابی کی جانب گامزن جا سکتا ہے؟ 

اسلم بلوچ: موجودہ حالات میں لفظختمکو کم از کم میں  مناسب نہیں سمجھتا، ہاں! ماضی کے نسبت پچھلے کچھ عرصے میں تحریک کے حوالے کچھ وقتی کامیابیاں ضرور دشمن کے حصے میں آئے ہیں، لیکن تحریک کو ختم کرنے کے حوالے سے وہ مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ دوران جنگ بہت سے وجوہات ہوتے ہیں، جو وقتی کامیابیوں اور ناکامیوں کے سبب بنتے ہیں، یہاں بھی اس مرحلے کیلئے جو وجوہات وجہ بنے ان  کو مدنظر رکھکر کام کیا جارہا ہے، تحریک کو مزید منظم کرکے وسیع پیمانے پر متحرک کرنے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔

اس وقت مجموعی حوالے سے اپنی قوت کو یکجاء کرنے کی شدید ضرورت ہے، ہم ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر کامیابی حاصل نہیں کرسکتے، ہمیں مشترکہ طور پر  بیرونی حمایت،وسائل اور تربیت وغیرہ کیلئے بہت زیادہ اور تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اندرونی طور کچھ مشکلات و رکاوٹیں ہیں، جن پر قابو پانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ اندرونی معاملات میں اگر ہم اپنے دشمن کو مدنظر رکھکر توازن رکھ سکیں تو ہمارے مشکلات کافی حد تک کم ہونگے، پچھلے تمام تجربات کو مدنظر رکھکر ہمارے لیئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئیےکہ اندرونی معاملات اور دشمن کے خلاف کرنے والے اپنے کام میں توازن نا رکھ سکنے کے کتنے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں، تو تحریک کو توانا اور مضبوط کرنے کیلئے ہمیں باہمی اعتماد کے ساتھ مشترکہ طور پر اپنے خامیوں اور کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستانی ریاست کیجانب سے بلوچ عورتوں اور بچوں پر مظالم کیخلاف اسی طریقے کی پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے، جبکہ کچھ حلقے ایسے کسی پالیسی کو بلوچ روایات کے منافی اور تحریک کیلئے عالمی اسٹیج پر نقصاندہ گردانتے ہیں۔ بی ایل اے یا دوسرے آزادی پسند قوتوں کا اس بارے میں کیا پالیسی ہے؟ آپکے خیال میں کس طرح سے معصوم بلوچ عورتوں اور بچوں پر مظالم روکے جا سکتے ہیں؟ 

اسلم بلوچ: ہمارے جدوجہد کا محور ہی آزادی ہے، جب کسی قوم کی آزادی کو بزور قوت سلب کیا جاتا ہے تو طاقت کے استعمال میں بنیاد ہی ظلم و جبر بنتا ہے، ہم قومی جبر کا شکار ہیں، کسی ماں کے لال، بہن کے بھائی یا کسی عورت کے شوہر کو اغواء یا قتل کرنے جیسے ظالمانہ اقدام میں آپ ان عورتوں کے تکلیف اور مشکلات کو ان پر ظلم نہیں سمجھتے؟ بلوچ خواتین تو شروع سے ہی اپنے حصے کی تکالیف اٹھاتے آرہے ہیں۔  ہاں براہِ راست عورتوں کے اغواء، ان پرتشدد یا انکا قتل عام کا ذکر کیا جائے تو بلوچ سماج اور بلوچی روایات میں یہ قابل نفرت عمل ہے، مگر پنجابی تاریخ کچھ اور ہی بیان کرتی ہے۔ ہمارے مدمقابل کون ہیں؟ ہم اور ہماری تاریخ کیا ہے اور مقصد کیا ہے اور ہم کس لئے جنگ لڑ رہے ہیں؟ ان تمام کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔  ہمیں اپنے عورتوں اور بچوں پر ہونے والے ظلم کا ردعمل ضرور دِکھانا چاہیئے، مگر عورتوں اور بچوں پر ظلم کرکے نہیں بلکہ دشمن پر انکے انفراسٹرکچر پر شدید حملے کرکے جواب دینا چاہئیے، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے روایات اور ہمارا مقصد ہمیں بےگناہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: پچھلے کچھ مہینوں سے بی ایل اے کی کاروائیوں میں انتہائی تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ جو بی ایل اے کے حالیہ چند سالوں کے سست کارکردگی کے برعکس ہے، جس کی وجہ سے یہ کچھ حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ بی ایل اے میں اگر اب تک صلاحیت موجود تھی تو پھر جنگ کے رفتار میں سستی لانے کی وجہ کیا تھی، جو دشمن کے حوصلے بلند کرنے کی وجہ بنتی ہے؟ 

اسلم بلوچ: یہ صرف بی ایل اے کے زیر اثر علاقوں کی بات نہیں ہے بلکہ مجموعی حوالے سے جب دشمن نے اپنے حکمت عملی میں تبدیلی لاکر اپنے فوجی جارحیت کو بڑھاوا دیا اور بہت سے علاقوں پر اپنی پوری فوجی قوت کے ساتھ حملہ آورہوا تو حکمت عملی کے تحت مزاحمتی تنظیموں نے دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ ہم گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں، یہ جنگ اپنے طاقت، وقت و حالات اور مقام کو مدنظر رکھ کر لڑی جاتی ہے یعنی آپ اپنی طاقت کو وقت و حالات اور مقام کو مدنظر رکھکر استعمال کرتے ہیں۔ جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، گوریلا حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا جاتا بلکہ اسکو خاموشی سے سرانجام دیا جاتا ہے، جنگ میں حالات ایک جیسے نہیں ہوتے کیونکہ آپ کے خلاف ایک فوجی ریاست کام کررہی ہوتی ہے جہاں تک بات ہمارے کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی ہے تو لازمی بات ہے ایسے موقعوں کو کیسے دشمن ہاتھ سے جانے دے گا۔

اس بیچ دشمن بھی ہمارے کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے، باز مقامات پر علاقائی حالات اور فردی غلطیاں بھی دشمن کے حق میں کام کرجاتے ہیں جن کا فائدہ براہِ راست دشمن کو ہوتا ہے۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: آپ قوم کے نام خصوصاً نوجوانوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

اسلم بلوچ: میرا پیغام اس وقت یہی ہے کہ نوجوان زیادہ سے زیادہ قومی جنگ کا حصہ بنیں، دشمن کے جارحیت کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں، قومی تحریک میں شامل مسلح تنظیموں اور آزاد پسند سیاسی پارٹیوں کا ساتھ دیں، دشمن کے ناروا مظالم و بربریت کے خلاف یکجاء  ہوکر آواز بلند کریں۔ 

دی بلوچستان پوسٹ: ہمارا ادارہ آپکا انتہائی شکر گذار ہے کہ آپ نے ہمارے لیئے وقت نکالا اور نا صرف اپنا موقف سامنے رکھا بلکہ موجودہ بحران کی تشریح بھی ایک بہترین طریقے سے کی۔

اسلم بلوچ: دی بلوچستان پوسٹ کے دوستوں کا شکریہ جنہوں نے میرا نقطہ نظر لینا ضروری سمجھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here