سوشل میڈیا پر منفی بحث کرنے والے لوگوں کے اقسام :تحریر: برزکوہی بلوچ

464

بلوچ قومی تحریک میں ایک بار پھر من گھڑت اور غیرضروری پروپیگنڈوں کو ہوا دیا جارہا ہے، سوشل میڈیا کے کھلے میدان میں جو انتہائی خطرناک ثابت ہوگا پانچ سالہ تجربہ کی طرح بقول آہن سٹاہن کے ایک ہی تجربے سے دوبارہ مختلف نتائج حاصل کرنے کی توقع رکھنا احمقی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
پانچ سالہ سوشل میڈیا میں کج بحثی ایک دوسرے پر الزام تراشی، غلط بیانیاں ،بلوچ قومی تحریک کو ایک فیصد فائدہ نہیں پہنچا، بلکہ تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، جس کی سزا آج تک بلوچ قوم، خاص کر ایماندار جہدکار مایوسی بدظنی اور پریشانی کی شکل میں بھگت رہے ہیں اور پنجاپی دشمن اور اس کے زرخرید ایجنٹ خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جو کسی بھی المیے سے کم نہیں، بالکل تحریکوں اور جہدوجہد میں سیاسی بحث مباحثہ تنقید اور اختلاف رائے رکھنا ایک خوبصورت اور مثبت عمل ہے، لیکن سیاسی بحث مباحثہ تنقید اور اختلاف رائے کی آڑ میں انتقامی کارروائی دل کی بھڑاس نکالنا نفرت ،الزام تراشی اور اشتعال انگیز صورتحال پیدا کرنا قومی جہد کیلئے انتہائی خطرناک عمل ثابت ہوگا جو بلوچ قومی تحریک کو مزید نقصان سے دوچار کریگا،پنجاپی ریاست کو موقع اور فائدہ پہچانے کے ساتھ بلوچ قوم میں ایک بار پھر مایوسی اور بدظنی کی لہر کی پھیلائے گا۔
آخر کون لوگ ہیں کیوں پانچ سال کی تلخ تجربے سے سبق نہ سیکھتے ہوئے دوبارہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں؟
کیا بی ایل اے اور یوبی اے کی آپسی جنگ و جدل ،سوشل میڈیا کی نفرت آمیز منفی پروپیگنڈہ اور بحث مباحثہ کاشاخسانہ نہیں ہوا؟نتیجہ کیا نکلا بلوچ قومی تحریک کی مضبوط مورچہ مری استان آج مزاحمت اپنی جگہ لوگ کسی بھی جہدکار کو پانی اور چاہے پلانے کو گوارہ نہیں کرتے ہیں آخر کیوں؟ہے کوئی ایسا مائی کا لعل جو جاکر وہاں لوگوں میں حوصلہ پیدا کرکے وہاں مزاحمت کو ازسرے نو منظم اور متحرک کرے؟ جواب فی الحال نفی میں۔۔۔
سوشل میڈیا میں سرگرم عمل کون ہے اور کیوں ایسے تاریخی قومی جرم کے مرتکب ہورہے ہیں؟
میری اپنے رائے کے مطابق
اول ۔سوشل میڈیا میں منفی بحث و مباحثہ میں وہ لوگ کارآمد ثابت ہورہے ہیں ایک تو وہ ہیں جو اپنی ذاتی مفاد، ذاتی خواہشات ،ذاتی دشمنی یا دیگر وجوہات کی وجہ سے ایک تنظیم یا پارٹی کو چھوڑ کر دوسرے کی وفاداری اور پہلے سے انتقام لینے کیلئے سب کچھ کرتے ہیں یا کرواتے ہیں۔
دوئم۔۔وہ لوگ جو انھیں کسی پارٹی سے نکالا گیا ہو دوسرے پارٹی میں جگہ بنا کر سب کچھ دوسرے کے خلاف کرتا رہتے ہیں تاکہ موجودہ
پارٹی میں کوئی اچھا جگہ مل جائے۔
سوئم۔جو اکثریت کاتعلق بلوچ سرزمین پر غیرموجودگی بلوچستان اور بلوچ قوم کی اس وقت کی صورتحال سے مکمل لاعلم باہرممالک میں بیٹھ کر اور کرنے کیلئے ظاہر ہے خاص کچھ نہیں ہے، بس دل کو بہلانے کیلئے سوشل میڈیا ہی کو قومی تحریک کا ایک بہت بڑا حصہ سمجھ کر حصہ داری کیلئے دن و رات لگے رہتے ہیں۔
چہارم۔کچھ لوگ سوشل میڈیا میں انتہائی سرگرم رکن ثابت ہونے کی چکر میں ہیں، بیرون ممالک بلانے کا گرین سنگل مل جائے، لازم ہے وہاں بغیر سوشل میڈیا کے سرگرم رہنے کے اور کوئی کام اور کارنامہ سرانجام دینا ممکن نہیں ہے، اسی لیے ایک پارٹی کا وفادار بننے کیلئے دوسرے کو ضرور نیچا دکھانے کیلئے بحث و مباحثہ کی آڑ میں خوشامدی ،تعریف ،چاپلوسی، جھوٹ، منفی پروپیگنڈہ، دوروغ گوہی سب کچھ کرنا ہی پڑے گا
پنجم۔ذاتی ضد اور انا کو انتہائی خوبصورت نام دیکر اختلاف رائے اور سیاسی بحث و مباحثہ کی آڑ میں دراصل ایک دوسرے کو بدنام کرنا کمزور کرنا غلط ثابت کرنا سب کچھ کرنا اور کروانا صرف اور صرف اپنی ذات کو اعلیٰ ثابت کرنے کیلئے۔
ششم۔ اور آخری قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے جو آپسی غلط فہمی، بدگمانی اور بے اعتباریوں کو شعوری اور دانستہ طور پر جنم دیکر تحریک کو آہستہ آہستہ مکمل ختم یا کمزور کرنے کی طرف لے جانے کا باقاعدہ فیصلہ کرچکے ہیں ،جن کا تعلق بلاواسطہ یا بالاواسطہ فرشتوں ہی سے ہے۔
مطلب ذاتی مفاد، خاندانی مفاد، گروہی مفاد کے علاوہ قومی مفاد کے حوالے سے کچھ بھی نہیں تو پھر اس بلوچ دشمن سوشل میڈیا بحث و مباحثہ کی مکمل حوصلہ شکنی کرنا ہوگا ،غلط ثابت کرنا ہوگا، غیر اہمیت قرار دیکر نظر انداز کرنا ہوگا، بس مکمل اور ہر وقت اپنی کام اور ذمہداریوں پر توجہ دینا ہوگا اسی سوچ کو آگے لے جانا ہوگا، انتہائی تیزی کے ساتھ،
نہیں تو پورابلوچ قومی تحریک اس دفعہ سوشل میڈیا کے بھینٹ چھڑ جائے گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here