میڈیا بائیکاٹ اور مخالفت والی سوچ: تحریر : برزکوہی بلوچ

374

بلوچستان کی حقیقی وبااثرمسلح و غیر مسلح آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے پاکستانی میڈیا کی بلوچ دشمن پالیسی کی شب و روز تشہیر اور بلوچستان کی حقیقی صورتحال سے چشم پوشی کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کے ردعمل میں سرکاری اور نیم سرکاری حلقوں کے ساتھ ساتھ چند مخصوص اور صرف سوشل میڈیا کی حد تک خود کوزندہ رکھنے محدود لوگ بھی اس میڈیا بائیکاٹ پر برہمی اور خدشات کا اظہار کررہے ہیں، تامل ٹیگرز کی ناکامی کا مثال پیش کرکے مہذب دنیا کی ناراضی اور دشمن کے فائدہ اٹھانے وغیرہ وغیرہ کی داستانیں سنا رہے ہیں ۔
سب سے پہلے میں ایک عرض کرتا چلوں ان صاحبانِ لا علم سے، کہ تامل اور دنیا کے دیگر تحریکوں کے خوبصورت اور رٹے والے باتوں سے ہٹ کر آئندہ خدارا کوئی بھی مثال پیش کرنے سے قبل کم سے کم تامل اور دیگر کے بارے میں سنی سنائی باتوں کے بجائے اچھے طریقے سے وسیع پیمانے پر وسیع علم اور وسیع تحقیق کی ضرورت ہے اپنی قوم اور سرزمین اور لوگوں کی حالت اور جغرافیائی حیثیت سماجی زند و گزراں سے بے خبر دور دور تک کی مثالوں کو پیش کرنا چہ معنی دارد؟
کیا مشہور اور سینئر صحافی ڈاکٹر مجاہد چشتی کو 2008 میں بی ایل اے نے قتل کیا اس کے علاوہ بھی کئی صحافی کو جو سرکاری ایجنڈے پر کام کررہے تھے، کیا پھر مہذب دنیا ناراض ہوگیا؟تحریک ختم ہوگئی یا دنیا میں بدنام ہوگیا؟
ایک اور من گھڑت دلیل اگر کل کوکسی صحافی کو خفیہ ادارے والے سازش کے تحت قتل کریں تو اس کی ذمہداری بھی بلوچ مسلح تنظیموں پر عائدہوگی،
جی ہاں پھر اس وقت یواین کے نمائندہ جان سلوکی کو اغواء کے بعد بازیابی کے وقت اگر جان سلوکی کو بھی خفیہ ادارے والے قتل کرتے تو پھر کیا ہوتا؟اس کی ذمہداری کس پر ہوتا؟کیا وہ فیصلہ غلط تھا؟وہ تو ریاستی ایجنڈے پر بھی کام نہیں کرتا، بلکہ مہذب دنیا کے مہذب سپریم ادارہ اقوام متحدہ کا نمائندہ تھا اور بلوچ عوام کیلئے خدمت کررہا تھا۔پھر کیا جان سلوکی کی اغواء کا فیصلہ بھی غلط اور جذباتی فیصلہ تھا؟پاکستان کے صحافی برادری تو صحافت کے پیشے سے بہت کم یعنی تقریبا 5 فیصد وابستہ ہیں بلکہ بلاواسطہ یا بلواسطہ 95 فیصد ریاست اور ریاستی ایجنڈوں پر کام کررہے ہیں یہ پوری مہذب دنیا کو اچھی طرح سے علم ہے، وہ ہم جیسے لاعلم اور سوشل میڈیا کی دنیا، لائک وشیئراور کمنٹ تک محدود نہیں ہے اور ناکہ اتنے اندھے اور بہرے ہیں۔
اگر مہذب دنیا خدا نخواستہ کل بلوچ تحریک کو دہشت گرد قرار دے اور کچل دینے کی فیصلہ کرلے تو پھر میڈیا بائیکاٹ کے علاوہ بھی وہ ایسے جواز اور منطق تلاش کرکے فیصلہ کرلیتے ہیں کہ ہمارے کانوں سے دھواں نکل جاتا پھر اس وقت بیرون ملک چند بینرز اور پلے کارڈ اٹھانے سے مہذب دنیا کو کوئی روک نہیں سکتا اور نہ کہ چند سفید چہروں والوں سے فائیو اسٹار، تھری اسٹار ہوٹلوں میں ملاقات ڈنر اور کافی پینے اور فوٹو لینے سے کچھ ہوگا۔
کیا بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے اور یوبی اے کے آپسی غیر نظریاتی ،غیر اصولی، صرف پیسے اور ہتھیاروں کیلئے آپسی لڑائی و کشت خون یا اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف زہرافشانی اور آخری حد تک جانا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا جو ہنوز ایک حد تک جاری ساری ہے کیا مہذب دنیا کی نظر میں نیک شگون عمل تھا یا تحریک کیلئے باعث بدنامی ثابت نہیں ہوا؟ یا بلوچ قوم میں مایوسی کا سبب نہیں بنا، یا دشمن نے فائدہ نہیں اٹھایا؟پھر ان مذکورہ اقدامات اور فیصلوں کو مدنظر رکھ کر میڈیا بائیکاٹ اقدام یا فیصلہ سے موزانہ کرتے ہوئے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کیا بی ایل اے اور یوبی اے کے ساتھ آپسی غیر نظریاتی و پیسے کی خاطرلڑائی، سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایک دوسرے کو ننگا کردکھانے کا فیصلہ یا قدم وژنری، معتبرانہ، سیاسی اور سنجیدہ عمل تھیں؟جس سے مہذب دنیا یا بلوچ تحریک کے ڈونر بہت خوش تھیں یا ان کیلئے مضحکہ خیز اور نفرت انگیز عمل تھا؟یہ
سب کو اچھی طرح سے علم ہے کہ آپسی چپقلش اور انتشار کی وجہ سے قومی قیادت اور تحریک کی حالت دنیا کے سامنے کیسا اور کس طرح ہے؟اگر ذرہ برابر کسی میں حقیقت پسندی کا عنصرموجود ہوتا تو وہ خود قوم کو بتادیتے کہ ہمارے بچگانہ اور غلط فیصلوں اور ذاتی ضد کی وجہ سے دنیا کے سامنے کیسا امیج بن چکا ہے۔
فی الحال ایسے سچ کہنے والے علامات کہیں بھی ظاہر نہیں ہورہے ہیں، بلکہ ہر ایک سینہ تان کر بھڑک بازی کا سہارا لے رہا ہے ، بس ابھی آزادی نزدیک ہے، امریکہ اسرائیل نیٹو اقوام متحدہ وغیرہ وغیرہ پہنچنے والے ہیں۔
خدارا اب بلوچ قوم پر ترس کھائیں،بلوچوں کو مزید اندھیرے میں رکھنے اور گمراہ کرنے کی تمام جھوٹ اور دکھاوے کے دروازے بند کردیں تاکہ بلوچ قوم خود اپنی نظریاتی و فکری قوت پہ انحصار کرکے ہاتھ پہ ہاتھ پر رکھنے کے بجائے دن رات محنت کریں ، اورآزادی کو پلٹ میں ملنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔نہ تو ایک بار پھر سویت یونین والی خواب دیکھنے کو ملے گا۔
ہمیں ہر چیز سے کیڑا نکالنے والا چارسالہ بیماری اور جراثیم کو اب دل و دماغ سے مکمل طور نکالنا ہوگا بلکہ اور اپنی قومی ذمہداریاں مثبت انداز سے نبھانا ہوگا، تنقید برائے تنقید مخالفت برائے مخالفت والی سوچ پہلے سب کے سب کو برباد کیا اور اگر یہی مزاج و رویہ برقرار رہا تو آگے بھی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here