قومی اتحاد پھر، اگر مگر اور لیکن کیوں؟ تحریر:برزکوہی بلوچ

367

بلوچ قومی تحریک میں قومی اتحاد کی باز گشت اور سرگرمیاں کچھ عرصے سے جاری ہیں اور ہر طرف سے کچھ سننے کو مل رہا ہے، مگر کس حد تک اور کہاں تک اس وقت کچھ کہنا قبل ازوقت ہے، لیکن پھر بھی حوصلہ افزاء عمل ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اتحاد کے حوالے سے سب سے پہلا موقف کس نے اختیارکی اور آخر میں کس نے کیا کہا۔ صرف کہنے اور سننے کی حد تک اتحاد یکجہتی اور سنگل پارٹی کا نعرہ، شور شرابہ، دعویٰ اور بیان بازی کافی دیرینہ ہے۔ اصل سوال ذہن میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتحاد کون کرائے گا؟ کون کرسکتا ہے؟ یا اتحاد کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوگا۔ کیا کوئی ایسا مائی کا لال ہے؟ پھر جاکر کریڈٹ لینا، قابل ستائش اور قابل تعریف ٹہرنا، برحق اور جائز ہوگا۔ بہرکیف سب باتیں ہی ہیں اور باتوں کی حد تک کوئی اتحاد سے منکر اور کافر نہیں ہوسکتا کیونکہ پھر یہ مخلص کارکنان، حمایت کاروں اور بلوچ عوام کے خواہشات کو ذبح کرنے کے مترادف ہوگا اس لیے ہر ایک گلاپھاڑ کر اتحاد اور یکجہتی کی بات اور دعویٰ ترند و تیز انداذ میں تو ضرور کرتا ہے لیکن اس کے بعد مگر اور لیکن کے الفاظ استعمال کرکے شرائط کی فہرست بندی کرتا ہے کہ جی اتحاد کیلئے ہم بلکل تیار ہیں، اتحاد چاہتے ہیں مگر یا لیکن ایسا ویسا وغیرہ ہونا چاہیئے، یہاں سے اتحاد کا عمل ہمیشہ لیکن اور اگر مگر کا شکار ہوکر سبوتاژ ہوجاتا ہے یا کچھ مدت کیلئے سرد مہری کا شکار ہوگا۔ کچھ مدت کے بعد ایک بار پھر مخلص کارکنوں اور سادہ لوح بلوچ عوام کے خواہشات کو مدنظر رکھ کر بطور ایشو واپس اتحاد و یکجیتی کی بازگشت سنائی دیگی۔

جب قومی تحریک کے بنیادی تقاضوں کو کوئی مدنظر رکھ کر حسب روایات سے ہٹ کر اگر نیک نیتی اور خلوص سے اتحاد خواہاں ہو تو پھر اتحاد کی عملی شکل کا میدان میں آنا اتنا بڑا اور پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے، جس کو اتنا بڑا اور پیچیدہ بنایا جارہا ہے۔ فرض کریں، ایمانداری سے اگر کسی تنظیم، پارٹی یا گروپ کے پاس خود منظم قوت، مضبوط اور متاثر کن پروگرام اور پالیسیز یا کرشماتی قیادت موجود ہے جو بلوچ قوم کو اپنے جادوئی اور کرشماتی اثرات سے متاثر کرکے تحریک میں ہمسفر بنا سکتا ہے، تو پھر وہ کیوں برملا اور اعلی الاعلان قومی اتحاد کا مخالفت نہیں کرسکتا ہے؟ کیونکہ جو اپنے آپ میں یعنی ایک سے سوتک برابر ہے پھر اتحاد کی خالی خولی جذباتی ایشو پر کارکنوں اور عوام کچھ مدت کیلئے اپنے ساتھ رکھنے کی پالیسی کی کیا ضرورت؟

اگر قومی اتحاد کیلئے، یہ انتظار ہوگا کہ فلاں کیوں نہیں آیا یا کیوں نہیں آئے گا؟، سب کا آنا ضروری ہے ورنہ اتحاد مکمل نہیں ہوگا، پھر اتحاد کا کیا فائدہ اگر سب نہیں، اگر اس طرح کی باتوں میں ہی مَن الجھایا گیا تو پھر اتحاد کوسوں دور ہی رہے گا۔

عوامی حمایت کاروں، کارکنوں اور مدد کرنے والے قوتوں کا دباو اور بات ہے لیکن پھر قیادت کی دوراندیشی حالات کی نزاکت، تحریک کی ضرورت، کرشماتی و جادوگری صفات درمیان میں خود بخود غائب ہوجائیں گے ۔اگر معاملہ ایسا نہیں، پھر اس وقت تک تقسیم در تقسیم اور قومی اتحاد کی عدم موجودگی کیا بلوچ قیادت کا منہ بولتا نالائقی اور کم عقلی کا ثبوت نہیں ہے؟ ویسے بھی رٹے بازی کے ثواب میں کچھ فضول قسم کے دلیل اتحاد کے حوالے سے ہمیشہ سامنے آتے ہیں کہ اتحاد کیلئے باریک بینی، سنجیدگی، صبر و شعور سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا پھر ابھی تک یہ تمام عادات بلوچ قیادت میں ہیں؟ اگر ہے تو پھر ابھی تک اتحاد کا عمل پھر مکمل کیوں نہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایسی قیادت، قومی بیڑہ اٹھا کر کہاں پہنچا دیگا؟ قومی بربادی یا قومی آزادی؟
اب وقت ہے اور حق بھی ہے قوم کی ہر فرذند اور جہدکار کو وہ کم سے کم ہر بار دوکھہ دہی کے تندور میں جلنے سے بچ جاہے اور سوچے کہ میں کیا ہوں اور کیا کرسکتا ہوں کیا سمجھ سکتا ہوں اور قومی اتحاد کے حوالے سے عملا کیا ہورہا ہے اور رکاوٹ کیا اور کون ہیں ۔؟ پھر کچھ بنے گا ضرور

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here