غزہ میں آٹھ اسرائیلی فوجی بم دھماکے میں ہلاک، جنگ میں وقفے کا بھی اعلان

140

 جنوبی غزہ میں ہفتے کو آٹھ اسرائیلی فوجی دھماکے میں اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ایک بکتر بند گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اتوار کو جنوبی غزہ میں حماس کے خلاف کارروائیوں کے دوران حکمتِ عملی کے طور پر وقفے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئل ہگاری کا کہنا تھا کہ بکتر بند گاڑی یا تو حماس کے نصب کردہ بارودی مواد کا نشانہ بنی یا اس پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے لیے ہفتے کو ہونے والی ہلاکتیں ایک دن میں اب تک ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

گزشتہ برس 27 اکتوبر کو غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مکمل زمینی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اس کے فوجیوں کی مجموعی اموات کی تعداد کم از کم 306 تک پہنچ چکی ہے۔

اسرائیل اور حماس کا حالیہ تنازع سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق اب تک 37 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا ہفتے کو ایک بیان کہنا تھا کہ اس کے فوجیوں نے رفح میں حماس کے زیرِ تعمیر ایک وسیع زیر زمین سرنگ کے نیٹ ورک اور اس کی دیگر تنصیبات سے بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے جمعے کو وسطی غزہ سے راکٹ فائر کیے تھے۔

واضح رہے کہ حماس کو امریکہ سمیت متعدد مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

دوسری طرف غزہ کی ایک اور عسکری تنطیم ’اسلامی جہاد‘ کے القدس بریگیڈ نے سوشل میڈیا میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ ہفتے کو سامنے آنے والی ویڈیو میں حماس کی حامی اس عسکری تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ سے اپنے یرغمالوں کو صرف اس صورت واپس لے جاسکتا ہے اگر وہ جنگ مکمل طور پر ختم کر دے اور اپنے فوجیوں کو غزہ سے نکال لے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا ہفتے کی شام ایک ویڈیو میں کہنا تھا کہ اسرائیلی یرغمالوں کو بازیاب کرانے کا واحد طریقہ حماس کی شکست ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بھی ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر اور مصر کے ثالث جلد ہی حماس کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ غزہ جنگ بندی کی تجویز کو آگے بڑھانے کا کوئی طریقہ ہے یا نہیں۔

امداد کی ترسیل کے لیے جنگ میں وقفہ

اسرائیلی فوج نے اتوار کو جنوبی غزہ پٹی میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران حکمت عملی کے طور پر وقفے کا اعلان کیا ہے تاکہ بڑی تعداد میں اکٹھی ہوتی انسانی امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق وقفے کا آغاز صبح آٹھ بجے سے ہو گا جو کہ شام سات بجے تک جاری رہے گا۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ اگلے اعلان تک برقرار رہے گا۔

فوج کے مطابق جنگ میں وقفے کا مقصد امدادی ٹرکوں کو اسرائیل کے زیر انتظام کریم شالوم گزر گاہ تک پہنچانا ہے جو کہ امداد کا داخلی مقام ہے جہاں سے امداد شمال جنوبی سڑک صلاح الدین ہائی وے کے ذریعے غزہ کے دیگر حصوں تک پہنچ سکے گی۔

فوج کا مزید کہنا ہے کہ جنگ میں وقفے سے متعلق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی کے اوائل میں اسرائیلی زمینی دستوں کی رفح میں منتقلی کے بعد سے گزرگاہ پر مشکل حالات ہیں اور اس کے ذریعے امداد کی ترسیل ناممکن ہو چکی ہے۔

امدادی اداروں کے مطابق حماس کے عسکریت پسند گروپ کے خلاف اسرائیل کی آٹھ ماہ کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں غزہ کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے بڑے پیمانے پر بھوک اور لاکھوں افراد کے قحط کے دہانے پر جانے سے متعلق خبردار کیا ہے جب کہ عالمی برادری نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بحران کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق چھ مئی سے چھ جون تک اقوام متحدہ کو روزانہ اوسطاً 68 ٹرک امداد موصول ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق یہ تعداد اپریل میں ایک دن میں موصول ہونے والے 168 ٹرکس سے کم ہے اور یہ امدادی گروپوں کی مطلوبہ تعداد 500 ٹرک امداد یومیہ سے بہت کم ہے۔

جنوبی غزہ میں جوں جوں انسانی امداد کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، امداد کی ترسیل میں کمی دیکھی گئی ہے۔

دس لاکھ سے زائد فلسطینی جن میں سے بہت سے پہلے ہی بے گھر ہو چکے تھے، حملوں کے بعد رفح سے فرار ہو کر جنوبی اور وسطی غزہ کے دوسرے حصوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

یہ فلسطینی اب خیمہ بستیوں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں سڑکوں پر کھلے سیوریج کے ساتھ خندقوں کو بطور بیت الخلا استعمال کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی غزہ میں امداد کی تقسیم کرنے والے ادارے باڈی کوگاٹ کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کے داخلے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے اور آٹھ ہزار سے زائد ہر قسم کے ٹرک (امدادی اور کمرشل) دو مئی سے 13 جون کے درمیان تمام داخلی راستوں سے داخل ہوئے جن کی اوسط 201 ٹرک یومیہ بنتی ہے۔

تاہم کوگاٹ کے مطابق پہنچنے والی امداد کی اکثریت گزرگاہوں پر اکٹھی ہو گئی اور حتمی منزلوں تک نہیں پہنچ سکی۔

کوگاٹ کے ترجمان شیمن فریڈمین کا کہنا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کا قصور ہے کہ اس کے کارگو غزہ کے کریم شالوم والی سائیڈ پر اکٹھے ہوتے رہے۔

تاہم اقوام متحدہ نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ غزہ میں موجود ٹرکوں کے لیے کریم شالوم کی گزرگاہ کی طرف سفر کرنا اکثر مشکل بنا دیتی ہے جو کہ اسرائیلی سرحد کے بالکل ساتھ واقع ہے۔