سندھ: مختلف شہروں میں “براس” کے حملوں کا خطرہ

1819

حکومت سندھ نے سندھ پولیس اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو آگاہ کیا ہے کہ تین مسلح تنظیموں نے صوبے کے تین بڑے شہروں کراچی،حیدرآباد اور سکھر میں بڑی کاروائیوں کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس حوالے سے متعلقہ اور مذکورہ حکام کو روانہ کردہ خط کے مطابق ان علیحدگی پسند کالعدم تنظیموں میں بلوچستان ریپبلکن آرمی(بی آر اے)، بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس ) اور سندھودیش ریوولوشنری آرمی (ایس آر اے ) شامل ہیں اس مقصد کے لیے مذکورہتنظیموں نے وابستہ افراد میں اسلحہ، گولہ بارود بھی تقسیم کردیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ برہمداغ بگٹی کا سالہ شجاع بگٹی کراچی کے ضلع جنوبی میں رہائش پذیر اور کراچی یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہے وہ ایٹلیجنس کمانڈر کے طور پر اپنی تنظیم کو تیکنیکی معلومات فراہم کرتا ہے ۔

وہ جامعہ کراچی کے طلباء کو اپنی تنظیم میں شامل اور سکھر میں کارروائیوں کا منصوبہ رکھتا ہے جس کے لیے اہداف مقرر کر لئےگئے ہیں ۔

اس کے علاوہ خیر پور بیرس کا زاہد چانڈیو جو بی آر اے سے تعلق رکھتا ہے اسے قانون نافذ کرنے والے دفاتر اور سرکاری عمارتوں کونشانہ بنانے کی ذمہ داری سوپنی گئی ہے ۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد دہشت گرد کےلیے آپس میں مربوط اور تعاونکے لیے کہا گیا ہے۔