پاکستان کے ساتھ سی پیک منصوبوں پر عملی تعاون کے لیے تیار ہیں – چینی وزارت خارجہ

137

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ سی پیک منصوبوں پر عملی تعاون کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔

چینی وزارت خا رجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین میں چار نئی راہداریوں، ڈیجیٹل، صنعتی، سبز اور صحت کے شعبوں میں تیزی سے کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چین نے صوبہ بلوچستان کو سولر پینل عطیہ کیے ہیں جب کہ گوادر گرین پراجیکٹ کے علاوہ دونوں ملکوں نے کورونا کے خلاف موثر تعاون کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق سی پیک پا کستان اور چین کے تعاون کا اہم منصوبہ ہے جس نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی اور خطے کے رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جبکہ سی پیک کو بلوچ سیاسی و عسکری حلقوں کی جانب سے استحصالی منصوبہ قرار دیا جاچکا ہے جس کے ردعمل میں سیاسی حلقوں کی جانب سے اندرون و بیرون ملک مختلف فورمز پر احتجاج کرنے سمیت بلوچ مسلح آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے سی پیک و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

سی پیک، سیندک اور دیگر پراجیکٹس کے باعث بلوچستان میں چائنیز انجینئروں و دیگر اہلکاروں پر سال 2018 سے خودکش حملوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔

سال 2018 کے اگست کو بلوچستان کے ضلع دالبندین میں چائنیز انجینئروں کے بس کو، اُسی سال 23 نومبر کو کراچی میں چائنیز قونصلیٹ کو اور 2019 کے 11 مئی کو گوادر میں پانچ ستارہ ہوٹل کو بلوچ خودکش حملہ آوروں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا جبکہ گذشتہ سالوں پاکستان اسٹاک ایسکچینج اور چینی باشندوں کو کراچی میں خود کش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا تھا۔

مذکورہ تمام حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے بیانات میں واضح کیا کہ مذکورہ حملے بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے ارکان نے کی۔ علاوہ ازیں بی ایل اے سمیت بلوچستان میں سرگرم بلوچ مسلح آزادی پسندوں کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاروں کو مختلف اوقات میں بلوچستان میں حملوں کا نشانہ بنانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔