‏سوشلزم اور بلوچ قومی تحریک؛ مکالمہ بازی ۔ ‏حاجی حیدر

219

‏سوشلزم اور بلوچ قومی تحریک؛ مکالمہ بازی

تحریر: ‏حاجی حیدر

دی بلوچستان پوسٹ

‏صحیح اور غلط، منفی اور مثبت، انقلابی اور رد انقلابی، سیاسی اور غیر سیاسی کون؟ ہم اس مضمون میں کوئی فیصلہ نہیں کرنے جا رہے ہیں اور اس پر پہلی بار بات نہیں کی جا رہی ہے اور ہم کسی نظریے کو رد نہیں کر سکتے۔ کوئی جانتا ہے، کس کو پتہ ہے یا نہیں پتہ، یہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

‏مارکس کے فلسفے پر سب سے پہلے خود سوشلسٹ انقلابیوں نے تنقید کیا، جیسا کہ ٹیری ایگل نے کمیونسٹ مینوفیسٹو کو ایک پروپیگنڈہ کتاب قرار دیا۔ بنیادی طور پر یہ تضادات فرسٹ انٹرنیشنل میں سامنے آئے جس میں کارل مارکس اور میخائیل کے درمیان اختلاف کھل کر سامنے آئے مزید اختلافات دوسری انٹرنیشنل میں پیدا ہوئے، جس میں ایڈورڈ برنسٹین نے ( جو کہ خود مارکس اور اینگل سے قربت رکھتے تھے) نے کہا کہ مارکس کی کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھتے وقت سوچ ناپختہ تھی اور وہاں سے سوشلزم دو جگہوں میں بٹ جاتا ہے۔

‏ایک ارتقائی اور دوسرا انقلابی سوشلزم کے پیروکار۔ انقلابی سوشلزم میں لینن قابل ذکر ہے۔ اور ان کے درمیان اختلافات میں سے ریگن کا ایک مشہور فقرہ ہے ” سوشلزم دو جگہوں پرکام کرسکتا ہے ایک جہنم میں دوسرا جنت میں، جنت کی انہیں ضروت نہیں ہوتی، اور جنم میں وہ پہلے سے موجود ہیں۔”اور ہینرو نے کہا کہ سوشلزم کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے اس نظریہ کے کہ نوکر کہتا ہے کہ وہ اپنے آقا سے زیادہ مذہبی ہے جبکہ رچرڈ نے کہا کہ سوشلزم در اصل ایک مذہب ہے جو کہ دوسرا اپنا مذہب چھوڑ کر اس میں داخل ہوجاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جو ممالک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے آزاد ہوئے ہیں ان میں سرفہرست روس، چین، کیوبا اور کچھ مشرقی اور سینٹرل یورپ میں جو برابری، آزادی اور جمہوریت کے وعدے کیے ہیں کیا وہ پورے کیے گئے؟ کیا اسکا جواب نفی میں ہے یا نہیں؟ اسکے برعکس روس،کیوبا اور چین میں سارے جمہوریت لانے کیلئے خود کامیاب ہوئے کیا ؟ اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق رومانیہ اور بلغاریہ اپنے حالات میں سرمایہ دارانہ ریاستوں کے طور پر اس سے بھی بدتر تھے اور اس طرح ماو کے ” کلچر انقلاب” نے جو غیر اخلاقی اور غیر انسانی رجحانات پیدا کیے تھے ان کی کسی بھی انقلاب میں مثال نہیں ملتی تو اب سوال یہ ھیکہ کیا کمیونزم اور سوشلزم آزاد ممالک میں کامیاب ہوئے اگر نہیں پھر بلوچ جو غلام ہیں، دشمن کیخلاف مرحلہ وار محاذ پر ہیں اور ڈی کالونائزیشن کے فیز میں ہے اور کالونائزر ہر میدان میں بلوچ قوم کا استحصال کرکے سی-پیک جیسی استحصالی منصوبہ بندی کے تحت قومی ساحل وسائل کو لوٹ کر بلوچ قوم کو سازش اور منصوبہ بندی کے تحت ہمیشہ کیلئے غلام بنانے کے حکمت عملی پر پیرا ہیں لیکن اگر ہم قومی شناخت، قوم پرستی کو پس پشت ڈال کر سوشلزم کا نعرہ لگاتے ہیں تو کیا ہم اپنے جدوجہد میں کامیاب ہونگے؟ اور ریاست یہ پروپیگنڈہ تواتر کیساتھ کر رہی ہےکہ بلوچ قبائلی ہیں، بلوچ سردار ہیں، ترقی مخالف ہیں اور انکی زبان اور کلچر کے درمیان میں فرق ہے اور مذہبی کارڈ کو بھی بہت استعمال کیا جارہا ہے۔ بلوچ تاریخ، ہیروز، کلچر کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ بلوچ ہیروز کی جگہ محمد قاسم کو نصاب میں شامل کیاگیا ہے، حالانکہ اسلام سب سے پہلے ایشیا میں بلوچستان میں آیا تھا اور بلوچ حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ہوئے تھے اس لیے کچھ بلوچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ بلوچ پنجابی کے اسلام کے محتاج نہیں بلکہ وہ ہمیشہ مسلمان اور بلوچ ہوکر بھی دوسرے مذاہب کا احترام اور تحفظ کرتے آرہے ہیں، اس لیے کہتے ہیں کہ تقسیم کے دوران سینکڑوں لوگ مارے گئے، بلوچستان میں ایک بھی اقلیت کو نقصان نہیں پہنچا یہ بلوچ کی سیکولر سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

ریاست نے بلوچ نیشنلزم کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے، خواہ وہ پروجیکٹیڈ سردار کی شکل میں ہو، مذہب کی شکل میں ہو یا تربت شہر کی پروجیکٹیڈ urbanization پا پھر آج کے لاہوری سوشلسٹ کی شکل میں ہو۔

‏ فرینکفرٹ سکول آف تھاٹ کے مکتبہ فکر کے مطابق، ریاست محکوم کے اندر اسکی یہ احساس (محکوم) ہونے کے اس طرح چھین لیتی ہے کہ وہ محکوم ہے وہ ایک “عام فہم” پیدا کرتی ہے اور اس طرح محکوموں کی ثقافت کو مجروح کیا جاتا ہے. اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہیں کہ آپکی شناخت، آپکی زبان بہت کمزور ہے اور ریاست کی اس پروپیگنڈے کو پھیلانے میں بقول گرامشی سول سوسائٹی اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میں وہ آکیڈمیکلی اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں اپنا بیانیہ پیش کرتی ہے۔ اسلیئے اس وقت تک بلوچی کو بلوچستان میں نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ زبان قوموں کی نمائندگی کرتی ہے اور بلوچستان ایک کالونی ہے۔ بلوچستان میں اب سڑکوں اور نالیوں کی سیاست نہیں رہی اور نہ پارلیمانی سیاست کی گنجائش اب باقی رہی ہے بقول آرندوھتی رائے کے محکوموں کے لیے امن ہی جنگ ہے۔ اس لیے بابا مری کا بھی ماننا تھا کہ ایک طرف آپ میری شناخت کو تباہ کررہے ہو مجھے کہیں کا نا رکھا اور یہ گلہ بھی مجھ سے کہ میں مزاحمت کو کیوں ترجیح دے رہا ہوں کیونکہ بابا مری کیلئے ترقی جنگ ہے، مزاحمت ہے ۔

‏اسی طرح اس نے اس جنگ کو اس مرحلے تک پہنچا دیا جہاں استعماری طاقتوں کو چیخنا چلانا پڑا اور بلوچ قومی سوال کو زبان مل گئی اور وہ دن بدن طاقتور ہوتا گیا اور بابا مری کے کاروان میں مختلف طبقہ فکر کے لوگ آئے اور شامل ہوئے، بلاشبہ، جنگ اپنے ساتھ شعور اور بیداری لاتی ہے، جو سارتر کے مطابق، موت آزادی کی حتمی تصدیق ہے، اور کرد حارژن کی طرح “جب تک آخری جہد کار قتل نا ہوچکا ہو، سرحدوں پر مزید وائی پی جی موجود نا رہیں، پہاڑ ختم ہوجائیں اور اوکلان کی تہنا بغاوت کرنا ہمیں روشنی فراہم کرنا بند کردے اس دن یہ کہنا کہ اب کرد نہیں رہے۔”

‏امام بلوچ خیر بخش مری کے ہاں نیشنلزم کسی مقدس مذہب سے کم نہیں تھی۔ بلکہ وہ لیوناس کی طرح جانتا تھا پہلے آپکو ڈیفائن کرکے بعد میں ٹریٹ کیا جاتا ہے پاکستان میں لیفٹ سے جڑے کچھ لوگوں کا ماننا ہیکہ شناخت کی سیاست دراصل تنگ نظری ہے اور اسے فاشسٹ سمجھا جاتا ہے۔

یہ وہ انٹلیجنشیاہ ہے جسے ریاست کیطرف سے پروجیکٹ کیا گیا ہے اور پھر مارکس وادیوں کا اس “identity politics ” پر dishonest ہونا ہم سمجھتے ہیں کہ پسے ہوئے اقوام کیساتھ زیادتی ہے اور تب تک عالمی ہمدردی اور یکجتی بے معنی ہے، اور بابا مری نے ان اصطلاحات کے کھیل کو محکوموں کی سوچ کو زیر کرنے کےسوا کچھ نہیں سمجھا اور اس نے بدھا کیطرح بلوچ شناخت کیلئے جنگ آزادی کی سفر کو کارآمد سمجھا اور انکے یہاں محکوم اور حاکم کا تعلق مزاحمت میں ہے۔

‏میرے خیال میں ہمیں اس بحث کو (age of of enlightenment ) کے دور کی طرح شروع کرنا چاہیے، جہاں ہم کردار کشی کے بجائے موثر تنقید کو اپنا حصہ بنائیں، جہاں اختلاف رائے کو اہمیت دی جائے اور حوصلہ افزائی کی جائے، نا کہ ماو کے ثقافتی انقلاب کیطرح گالم گلوچ اور سرٹیفیکیٹ بانٹنا شروع کریں بلکہ جو آپ سمجھتے ہیں اسے قوم کے سامنے منطق اور دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔

اگر واقعی سوشلزم قوم کیلئے ایک موثر نظریہ ہے اور بلوچوں کو غلامی سے نجات دلائے گا ؟ اور سوشلزم کے تحت اگر قومی آزادی کا حصول ممکن ہے اور بلوچ آزاد ہوسکتے ہیں تو ہمیں قومی مفاد اور غلامی سے نجات کیلئے یہ نظام بھی قبول کرنا چاہیے اگر ہاں تو کیا آج کے چین،کیوبا، لاوس، ویتنام بلوچ جدوجہد کو پولٹیکلی سپورٹ کرینگے؟ اگر نہیں تو بلوچ سوشلسٹ انقلابیوں کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ قوم کو واضح پالیسی دیکر قوم کو اس کنفیوژن سے نکال کر اصل معاملے کو زیر بحث لاکر قوم کے سامنے جہد کیلئے اپنی پوزیشن واضح کرکے بقول ابولکلام آذاد کے سنگل مائنڈڈ اور سارا وقت اپنے مقصد کے لیے وقف کرنا ہوگا۔

اگر ہم اسی طرح ریاست کی “اصطلاحی ” سیاست سے باہر نہ نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑتے رہیں تو پھر انقلاب لانا یا اپنی مضبوط پوزیشن واضح کرنا ردانقلابی عمل ہوگا یا پھر اپنی مضبوط پوزیشن واضح کرکے کہ کیا ہم سوشلزم کو فروغ دے کر اپنے قومی مفادات حاصل کرسکتے ہیں۔؟ یا ہمیں بدھا اور بابا مری اور ہیگلی فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے مزاحمت کی راہ پر چلتے ہوئے قومی جدوجہد کرنی ہے جو کہ بقول بابا مری کی جنگ جاری ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں