کوئی زخم چراغوں اور دئیوں کی مانند متقل بھی ہونی چاہئیں ۔ محمد خان داؤد

133

کوئی زخم چراغوں اور دئیوں کی مانند متقل بھی ہونی چاہئیں

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

یہ دنوں کی کہانی ہیں، یہ زمانے کی کہانی ہے
جس میں بس پیر نہیں جھلسے، دل نہیں جلے، چہرے نہیں جھلسے پر روح بھی جھلس گئے ہیں
جس میں بس پیر نہیں تھکے، دل نہیں تھکے، چہرے نہیں مر جھائے،پر روح بھی مر جھا گئے ہیں
یہ سفر دنوں کا نہیں،یہ سفر زمانے کا ہے!
وہ صدا،دبی دبی نہیں پر وہ صدا بازِ گشت ہے
ایسی صدا جس میں بس پیروں سے دھول نہیں لپٹ جا تی،پر معصوم بچے بھی پیروں میں دھول بن کر لپٹے رہتے ہیں اور بے واؤں جیسی سہاگنیں اور سہاگہنوں جیسی بیوائیں یہ درد بیان کرتی رہ جا تی ہیں کہ
”وہ کہاں تھیں جب ان کے سہاگوں کو وہ پیٹتے
مارتے
گھسیٹتے
اور گالیاں دیتے لے گئے!“
وہ بیان کرتی ہیں درد میٹھی،پھیکی گلابی اردو میں جب الفاظ ختم ہو جاتے ہیں تو وہاں سے وہ محبوب اور ماں کی بولی میں شروع ہو جا تی ہیں،جب ماں اور محبوب کی بولی بھی ساتھ چھوڑنے لگتی ہے تو وہ اپنی بات درد،کراہ،سلگتے دل غم زدہ چہرے اور آنسوؤں سے بیان کرنے لگتی ہیں،وہ چُپ ہو جا تی ہیں اداس چہروں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اور باقی دردیلی کہانی آنسوؤں ہی بیان کرتے رہ جا تے ہیں
ان کے سفروں کو اگر بہت ہی تھوڑے الفاظ میں بیان کیا جائے تو شاید اتنے ہی الفاظ درکار ہوں کہ
”گریزد از صفِ ما ہر کہ مردِ غوغا نیست
کسے کہ کشتہ نشُد از قبیلہ ء ما نیست
وہ ہماری صفوں سے نکل جائے جو آواز اٹھانے والا نہیں،جو قتل نہ ہواوہ ہمارے قبیلے سے نہیں“
وہ درد بھری قطارے ہیں،وہ درد بھری صفیں ہیں،وہ دھول آلود پیروں والے مسافر ہیں،وہ درداں دی ماری دلڑی والے چہرے ہیں،ان کا ہجر بے سبب نہیں ان کا درد بے سبب نہیں ان کا راہوں میں چل چل کر دھول ہو جانا بے سبب نہیں ان کا گھروں کو چھوڑنا بے سبب نہیں ان کا درد بن جانا بے سبب نہیں!
ان صفوں میں کوئی شامل نہیں ہوتا،ان قطاروں میں کوئی شامل نہیں ہوتا
وہ صفیں جب بھی اتنی ہی قلیل اور مختصر تھیں جب ان پر زمینی خداؤں نے قہر نازل کیے
اور اب جب سخت ہوا اور سردی میں وہ کراچی پریس کلب کے باہر اپنا درد بیان کر رہے ہیں
جب بھی وہ اتنے ہی مختصر
اتنے ہی تھوڑے
اور اتنے ہی قلیل ہیں
درد کی اُٹھتی دل میں ٹھیس کی طرح.
چلتے دل کے بھڑتے درد کی طرح
اور چلتے،چلتے رُکتے رُکتے،دل کی طرح!
وہ سسئی ہیں سسئی کی بہنیں ہیں،ان کا درد تو طویل سے طویل تر ہو رہا ہے پر ان کا قافلہ کیوں نہیں بڑھ رہا؟شہر یاراں ان کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہو رہا،گاؤں،گوٹھوں،گلی کوچوں میں ان کی صدا کیوں نہیں گونجتی؟ایسا نہیں کہ ان کے پیر بس وہیں ٹھہرے ہو ئے ہوں جہاں وہ درد سے آشنا ہوئیں
نہیں ایسا تو ہر گز ہر گز نہیں،جب وہ درد سے آشنا ہوئیں جب درد ان کے دامن گیر ہوا
تو وہ پیر،پیر نہیں رہے وہ پیر پیر یاراں بنے اور وہ پیر انہیں ان شاہراؤں پر لے گئے جن شہراؤں پر عموماً پیر نہیں چلتے دوڑتی چلتی پھرتی گاڑیوں کے ٹائر دوڑتے ہیں
پر وہ ان شہراؤں پر بھی اپنے وجود کے پیروں سے چلی ہیں
پیر کیا پر وہ تو نینوں سے چلی ہیں
نین کیا وہ تو آنکھوں سے چلی ہیں
آنکھیں کیا وہ تو دل سے چلی ہیں
دل کیا وہ تو آنکھوں کو پیر بنا کر چلی ہیں
جس کے لیے لطیف نے کہا تھا کہ
”انکھوں پیر کرے،پرین ء ڈے وینجییں!“
”آنکھوں کو پیر بناکے محبوب کے پاس جاؤں!“
دن گزر کر شاموں میں ڈھل گئے،شامیں راتوں میں بیت گئیں اور دن ماتموں میں ڈھل گئے
پھر بھی وہ قطاریں طویل نہ ہوئیں،پھر بھی دیس باسی درد کو نہ جان پائے،پھر بھی وہ چلتی گاڑیوں اور سرد دنوں میں ونڈو اسکرین سے اپنی گرل فرینڈ سے یہی پوچھتے رہ گئے کہ
”یہ کیا ہو رہا ہے؟!!“
یہ دردوں بھرا سفراب تک بس یہاں تک ہی پونچھ پایا ہے کہ
”یہ کیا ہو رہا ہے؟!“
کوئی تو انہیں بتائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
کوئی تو انہیں ان دنوں کا حساب بتائے جن دنوں میں مائیں روئی ہیں اور ان کے چہروں پر ماتم چھا گیا ہے
کوئی تو انہیں بتائے کہ انہیں تلاش کرتے کرتے محبوبائیں بوڑھی ہو گئی ہیں
کوئی تو انہیں بتائے کہ اب مائیں گھروں میں نہیں پر کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں
کوئی تو انہیں بتائے کہ انہیں تلاشتے تلاشتے چھوٹی بچیاں جوان ہو گئی ہیں
کوئی تو انہیں بتائے کہ یہ دنوں کی کہانی نہیں زمانے کا قصہ ہے
کوئی تو یہ جان پائے کہ یہ سسیاں مردِ کامل ہیں جس کے لیے علی نے فر مایا تھا کہ
”مردِ کامل وہ ہے جو تقدیر کا مقابلہ کرے نہ کہ اس کے آگے سر نگوں ہو جائے!“
یہ خدا کی بندیاں ہیں اس خدا کی جو خدا
”اپنے بندوں کا خدا اپنے بندوں کو ہنستا،مسکراتا دیکھنا چاہتا ہے
ریاست اور حکومت،پادری،اور مُلا کا خدا جانے کیسا ہے؟!
رُلتا ہی رہتا ہے،ڈرتا ہی رہتا ہے!“
کاش ان سسیوں کے دردوں کو کوئی تو تھا لیتا
کاش ان ماؤں کے آنسوؤں کو کوئی تو پونچھ لیتا
کاش ان بہنوں بیٹیوں کے دھول آلود پیروں سے کوئی تو دھول صاف کرتا!
”آرفئیس!وہ یونانی مطرب جس کے ساز بہتے دریاؤں کو تھام لیتے تھے
اگر لوٹ آتا پھر سے ترنم ریز اور اشک بار ہوتا
آگ بجھ جاتی
آ گرے کے تان سین جیسا کوئی ملہار اُٹھاتا
بادل برس اُٹھتے
اور آگ بجھ جا تی
خطاب کے فرزند جیسا کوئی ہوتا تو برہم پترا بھپرتا
نہ شہر میں آگ لگتی
ابوتراب کے دلبند بنی فاطمہ کے حسن کا کوئی پیروکار ہوتا تو
میدان سجتا نہ ہتھیار بجتے
دوسرا عمر کوئی ہوتا تو رائیگاں سالوں کی بھی تلافی کردیتا
عراق ابا بیل کہیں ہو تی تو آتشِ نمرود پر
پھر سے پانی کا لوئی قطرہ گراتی
لیکن ان ماؤں
سسیوں کے لیے کوئی بھی نہیں
نہ دل جوئی کے واسطے
نہ دلاسے کے واسطے“
کاش یہ درد،دکھ زخم دئیوں اور چراغوں کی ماند منتقل ہو تے
تو پورا شہر جل دیس جل اُٹھتا
پورا شہر چیخ اُٹھتا!
کاش
کاش
کاش


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں