جبری گمشدگیوں کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھائیں – ماما قدیر بلوچ

136

جبری گمشدگیوں کے شکار بلوچ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4569 دن مکمل ہوگئے-

کراچی پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ میں آج سندھ سجاگی فورم کے مرکزی رہنماء سارنگ جویو، سید مسحود شاہ، جان محمد خاصیحلی، یٰسیں اور دیگر رہنماؤں اظہار یکجہتی کی –

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ آج ہزاروں کی تعداد میں بلوچ اور سندھی اپنے قومی حقوق کی جدوجہد کے پاداش میں ریاستی اداروں کے ٹارچر سیلوں میں اذیت سہے رہے ہیں –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اس ہجوم میں سے عظیم ماؤں کے عظیم فرزندوں کی طرح چند لوگوں ہی الگ ہوکر ایک خوشحال اور مستقبل کے لیے اپنی سنہری خواہشات کا گلہ گھونٹ کر میدان میں نکل آتے ہیں اور اپنے قوم کو مستقبل کے لئے اپنا آج قربان کرتے ہیں –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سندھ اور بلوچ لاپتہ افراد کی لواحقین کو ایک ساتھ ملکر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہونا چاہیے –

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک ساتھ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو انصاف کی توقع اتنا ہی جلدی ہوگا –

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں بدترین ریاستی جبر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو جبری گمشدگیوں کا شکار بنایا جارہا ہے –