کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کیلئے احتجاج جاری

65

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4471 دن مکمل ہوگئے۔ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما شمع اسحاق، عبدالغفار قمبرانی اور دیگر مرد خواتین نے شامل تھے۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہوکر کہا کہ جبری گمشدگیاں، اغواء اور اب ہر دن کسی علاقے سے تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی دہشت گردی کے ایسے انمنٹ نقوش ہے جس کا خاتمہ صرف بلوچ پرامن جدوجہد کی کامیابی اور لاپتہ افراد کی بازیابی اور غلامی سے نجات کی صورت میں ممکن ہوگی۔ خوف کے ذریعے غلامی کے تسلط کو زیادہ دیر برقرار نہیں رکھا جاسکتا کیونکہ خوف مظلوم سے نکل جائے تو ظالم کو لاحق ہوگی ہمیں موت کا خوف نہیں کہ وہ کس سازش اور شکل میں آئے بلکہ بلوچ پرامن جدوجہد کی کامیابی پر یقین اور فکری وابستگی بالادست قوتوں کو اپنی تسلط کردہ سامراجی استحصالی نظام کو برقرار رکھنے اور بلوچوں کی جدوجہد کو بزور طاقت کچلنے کی کوشش کی ناکامی کے خوف نے انہیں اندر سے کھوکھلا کردیا ہے لہذا دہشتگردی میں مزید اضافہ اور وحشیانہ ظلم جبر کو ہتھیار کے طور پر شدت سے استعمال کرنے کا آزمایا جائے گا۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ ایک باعمل انسان کی زندگی کی سمت کیلئے روشنی اور اسکی موت تاریخ میں اپنے آدرش کیلئے سنگ میل اور مشعل راہ ہوتی ہے کیونکہ ایک سچا آدمی وہ راستہ اختیار کرتا ہے جہاں فائدہ ہو بلکہ وہ راستہ اختیار کرتا ہے جہاں اسے فرض پورا کرنا ہو یہی عملی آدمی ہے ایسا مختلف تہذیبوں ہوتے دیکھتا ہے وہ کل قانون ہوگا۔ ایسا اس لیئے ہیں کہ اس نے تاریخ کا اتارچڑھاؤ کو ہر معاملے میں مستقبل میں کامیابی ان ہی لوگوں کی ہو جو فرائض کے حامی ہے جو چیزیں انسان کی خوبصورتی بدصورتی یا ٹھہراو پیدا کرتی ہے وہ انقلابی فریضے کی نبھانے کا عزم ہے جوکہ موت سے پہلے اس کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہے، وفادار مقابلہ کرتے ہیں غدار دھوکہ دیتے ہے، بہادر جدوجہد کرتے ہیں اور کمزور ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔