دنیا میں مادری زبان کا کیسے خاتمہ ہوتا ہے ۔جلال بلوچ

142

دنیا میں مادری زبان کا کیسے خاتمہ ہوتا ہے

تحریر:جلال احمد

دی بلوچستان پوسٹ

زبان اظہارِ رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے۔کسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف اسکی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ایک قوم کی ترقی اسکے زبان اور تقافت پر منحصر ہوتا ہے۔

ہر قوم کی اپنی زبان اور ثقافت ہوتی ہے ۔ ہر قوم اپنے مادری زبان ،ثقافت رہن سہن اور بول چال کے وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔

پوری دنیا میں تقریبََا چھ ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں اور جن میں کچھ ایسی زبانیں ہیں جو عروج پر پہنچ گئے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں دن بدن ختم ہونے کی طرف جا رہے ہیں. تو ان کی تعداد میں تیزی سے کمی ہو رہا ہے کیونکہ ان میں کچھ ایسی زبانیں ہیں. شاید ان کے بولنے والے لاکھ سے بھی کم ہو سکتے ہیں. اور چھ ہزار زبانوں میں سے پانچ سو سینتیس ایسی زبانیں ہیں ان کے بولنے والے پچاس سے بھی کم ہیں۔

اقوام متحده کے ادارے یونیسیکو نے کہا ہے کہ دنیا میں بولی جانے والے ڈهائی ہزار زبانوں کا خاتمہ ہونے کی خطره ہے. جن میں سے براہوی سمیت ستائیس پاکستانی زبان ہیں اور ایک سو چھیانوے بھارتی زبانیں بھی شامل ہیں. ستائیس پاکستانی زبان اور پوری دنیا میں دو ہزار زبانوں کے خاتمےکا خطره ہے۔

اب یہ ایک سوال بنتا ہے کہ کیوں اور کس لیے زبانوں کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے؟

ہم دیکھیں ماضی میں بہت ساری ایسی زبانیں تھیں کہ آج کے دور میں اُن کی نام و نشان ہی نہیں، اب جیسے باہر کے زبانوں کو چھوڑو پاکستان کی مثال لو کچھ زبانوں کا خاتمہ ہوا ان کی نام یہ ہیں ” کلاشہ، گاورو، چلیسُو، گوار اور باٹی” ہیں. اِن زبانوں کی خاتمہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ شاید ان کی وجوہات یہ ہوسکتے ہیں کہ ان قوموں نے اپنی زبانوں کی قدر نہ کی اور اپنی زبان کے لیے جدوجہد نہیں کی ہو سکتا ہے ان قوموں نے اپنی زبان سے محبت نہ کی اپنی زبان سے زیاده دوسرے سامراجی زبانوں کو استعمال کیا یا پھر ان قوموں پہ کسی اور طاقتور قوم کا قبضہ تھا اور انهوں نے غلامی میں اپنا وقت گزارا اور غیروں کی زبانوں کو جنم دیا اور قبضہ گیروں کی زبانوں کو فروغ ملا اور وه اپنی زبان کھو چکے ہیں۔

یہ کچھ نشانیاں ہیں ہر قوم کے لیے مثال بن چکے ہیں۔اگر کسی قوم نے زبانوں کے آگے لے جانے کے لیے کوشش نہیں کی تو حقیقت میں وه اپنی زبان کے ساتھ اپنی ثقافت بھی کهو دیتے ہیں۔اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ بِنا کوشش اور جدوجہد کے کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہر چیز کے لیے محنت ضروری ہے.

دیکھیں ایک قوم اپنی زبان کی سربلندی کے لیے کوشش و جدوجہد نہیں کرے گا ۔ اپنی زبان سے بڑھ کر جو کہ وه قبضہ گیر کی زبان ہے اس زبان میں بات چیت کرنے لگے گا تو خود بخود اس کی ذاتی زبان کو خطره ہوگا کیونکہ ایک سامراجی زبان ایک باہر کے زبان آپ کی سرزمین پر لایا جائے گا جس سے اُس سرزمین کی قومی زبان پر بہت زیاده اَثر پڑے گا کیونکہ وه سامراجی زبان اس لیے آپ کی زبان کے لیے خطره بنے گا کہ اِدهر کے لوکل لوگ اپنی زبان کو فروغ دینے سے بڑھ کر اس کو بولنے لگتے ہیں۔

ہم بلوچوں پر قبضہ ہے تو ہم سب کو دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہماری زبان بھی سست روئی کی طرف جا رہا ہے۔ ہم بلوچ اپنی مادری سرزمین پر اگر دوسرے زبان کو استعمال کریں تو اس سے ہماری زبان کا تو بیڑه غرق ہو جائیگا کیونکہ ہم اسکولوں، کالجوں اور مدارس میں غیروں کی زبانوں میں بات کر رہے ہیں اس سے ہمارے بلوچی زبان کو بہت سارے مسائل درپیش ہونا پڑتا ہے۔ جیسے کہ ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری سرزمین پر غیروں کا قبضہ ہے اور ہماری پیاری سرزمین پر اردو اور پنجابی زبانیں راج کر رہے ہیں۔

ایسا نہ ہوجائے کل خدا نہ کرے ہماری زبان کا بھی خاتمہ ہو جائے ہماری سب بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم اپنی زبان کو اچھی طرح سمجھنے کے بجائے دوسرے زبانوں کے پیچھے پڑے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی زبان کو خود خاتمے کا شکار کر رہے ہیں، ہم سب کو ہوش کے ناخن لینا ہوگا اور تمام سامراجی اور دوسرے زبانوں کو چھوڑ کر اپنی زبان کو فروغ دینا ہے۔ تاکہ پوری دنیا میں ہماری زبان کی سربلندی دیکھنے میں آئے۔

ہمیں چاہیئے کہ ہم بلوچی میں بات کریں، بلوچی پڑھیں اور لکھیں اور کل تاریخ گواه رہے کہ ایک دلیر اور بہادر قوم کے قدموں کے نشان دنیا میں تھے اور وه ایک اچھے زبان کے مالک بھی تھے۔جس نے غلامی اور قبضہ میں ہونے کے باوجود اپنے زبان میں بات کرنا نہیں چھوڑا اور اپنے زبان کو اہمیت دی ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں