کوئٹہ: کرونا وائرس کے پیش نظر حکومت بلوچستان کی لاک ڈاؤن، تاجروں نے مسترد کرکے دھرنا دیا

82

کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے این سی او سی کے فیصلوں کی روشنی میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 8 سے 16 مئی تک کاروباری سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی تھی۔

تاہم انجمن تاجران نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عید سے پہلے دکانیں کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

آج بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں تاجروں کی بڑی تعداد نے شہر کے مرکزی چوک پر دھرنا دے کر ٹریفک کو معطل کردیا۔ اس دوران بہت کم افراد ماسک لگائے نظر آئے جبکہ سماجی فاصلوں کا نام ونشان تک دکھائی نہیں دیا۔

اس حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر دکانیں مکمل بند کرنے سے وہ مزید قرض دار ہوجائیں گے۔

اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رحیم کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ تاجربرادری نے دھرنا عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا، وزیراعلیٰ نے مزاکرات کیلئے بلایا، وزیراعلیٰ سے مزاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو کل سے دکانیں کھولیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ عید تک ہر صورت دکانیں کھولیں گے ہم سے پہلے کہا گیا تھا کہ مکمل لاک ڈاون نہیں لگایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکمل لاک ڈاون نا کرنے کی یقین دہانی پر تاجربرادری نے عید کیلئے اربوں روپے کی خریداری کی اگر عید تک مکمل لاک ڈاون رہاتو تاجربرادری کو بہت نقصان ہوگا۔

دریں اثناء گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لئے تاجر برادری اور انتظامیہ میں تکرار ہوا تھا۔