چیئرمین غلام محمد کی منظور بلوچ سے گفتگو

356

بلوچستان میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر، گیس پائپ لائن کے منصوبے اور بلوچستان میں تیل و گیس کی تلاش کے حوالہ سے نئی سیاسی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل موومنٹ نے باقاعدہ طور پر اشتراک عمل کا آغاز کرتے ہوئے مذکورہ ایشوز پر 15 جون کو آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب محمد اکبر خان اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری کے درمیان بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے مربوط سیاسی جدوجہد پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر مینگل نے بھی نواب اکبر خان بگٹی سے فون پر رابطہ کرکے جے ڈبلیو پی اور بی این پی کے تعلقات کار کو بحال کر دیا۔ اس دوران میں بی این ایم کی مرکزی کمیٹی نے بی این ڈی پی کے ساتھ انضمام کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد اس انضمام پر مختلف حلقوں کی جانب سے رد عمل اور آراء کا اظہار ہو رہا ہے۔ بلوچستان کے ان ایشوز کے حوالے سے گزشتہ دنوں بی این ایم کے سینئر رہنماء اور بی ایس او کے سابق مرکزی چیئرمین غلام محمد بلوچ سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر انہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ”روزنامہ آذادی“ سے ان کی ہونے والی یہ بات چیت نذر قارئین ہے۔

سوال: بی این ایم اور بی این ڈی پی کے انضمام سے متعلق آپ کی رائے کیا ہے؟
غلام محمد بلوچ: اس انضمام کا فیصلہ بی این ایم کی مرکزی کمیٹی نے کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں جہاں بی این ایم کا تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے یعنی اضلاع سے لیکر تحصیل سطح تک ہماری پارٹی کے کارکن اور سینئیر کیڈر کسی سے بھی کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے بلکہ بالائی سطح پر ایک گروپ نے اپنی ذہنی اختراع اور اپنے مفادات کی خاطر مرکزی کمیٹی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جس پر ہمارے سینئیر دوستوں اور کارکنوں کا ردعمل سامنے آچکا ہے۔ اس کے مطابق میں بھی یہ کہتا ہوں کہ مرکزی کمیٹی کا یہ فیصلہ غلط ہے دوم یہ کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا۔ اس کے مقاصد کیا ہیں، اس کی شرائط کیا ہیں۔ اس کی وضاحت تا حال نہیں کی گئی ہے اصول یہ ہے کہ اگر کسی جماعت سے انضمام کرنا ہو بھی تو پہلے اس سے اشتراک عمل ہوتا ہے۔ یا سیاسی اتحاد بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی پروگرام، ہدف اور مقصد کا تعین کیا جاتا ہے لیکن یہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ انضمام بلوچ قوم کے مفاد کیلئے کیا جارہا ہے اگر بلوچ قوم کی مفاد کی بات ہے تو پھر اس کیلئے بی این ایم کے وجود کو کیوں مٹایا جارہا ہے۔ کیا بی این ایم یہ اہلیت نہیں رکھتی کہ وہ بلوچ قوم مفادات کا تحفظ کرسکے۔ کیا بی این ڈی پی طاقتور سیاسی گروپ ہے کہ اس سے مل کر بی این ایم کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوجائیگا؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی این ڈی پی کا اپنا کوئی تنظیمی ڈھانچہ ہی نہیں ہے۔ اس کی مرکزی کمیٹی یا کابینہ کے علاوہ زمین پر اس کا کوئی تنظیمی وجود نہیں ہے۔ کیا بی این ڈی پی کیلئے ایک متحرک پارٹی کو ختم کرنا زیادتی نہیں ہے؟ بی این ایم کی بنیاد بلوچ قومی حق خودارادیت پر رکھی گئی ہے جس کا نکتہ آغاز بی ایس او ہے۔ بی این ایم ایک عوامی اور مضبوط تر بلوچ سیاست کی خاطر تشکیل دی گئی۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان کے لوگوں نے قربانیاں دیں۔ شہداء نے اپنا خون بہایا۔ یہاں کے لوگ مشکلات کا شکار رہے، طاقتور علاقائی شخصیات کے جبر کو برداشت کیا گیا، یہ تکالیف اس لئے اٹھائی گئیں تاکہ بلوچ قومی جدوجہد کو تیز تر کیا جائے۔ اس کو شعوری، فکری اور نظریاتی محاذوں پر مستحکم بنایا جائے بی این ایم ہر اول دستہ بنکر بلوچ قومی تحریک کی رہنمائی کرسکے۔ لیکن اس تمام پس منظر کو یکسر بھلا کر آج کہا جارہا ہے کہ ملک گیر پارٹی بنایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ مجوزہ ملک گیر پارٹی کے دیگر اجزاء کون ہونگے۔ اسی طرح پاکستان ورکر پارٹی سے بھی ان کی (بی این ایم کی بالائی قیادت) کی بات چیت جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ورکر ز پارٹی ایک مسترد شدہ جماعت ہے اس کی عوامی سطح پر کوئی پزیرائی نہیں ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر ملک گیر جماعت کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا پنجاب کا رویہ تبدیل ہوا ہے؟ کیا کسی نئے فریم ورک کے تحت اس نے بلوچ قوم کی حیثیت سے اس کے حق کو تسلیم کیا ہے؟ کیا جبر و بالادستی ختم ہو گئی ہے؟

کیا برابری کی بنیاد پر راہ نکالی گئی ہے اگر پنجاب کا رویہ تبدیل نہیں ہوا تو آپ (بی این ایم کی قیادت) کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں نظر نہیں آ رہا ہے کہ پاکستانی ریاست کی بلوچ سے متعلق پالیسی ہوئی ہے، جب یہ پالیسی نہیں بدلی ہے تو آپ (بی این ایم کی قیادت) قومی تحریک سے منحرف ہوکر ریاست کے مفادات کو کیوں تقویت پہنچا رہے ہیں۔ ریاست چاہتی ہے۔ کہ بلوچوں کی سیاسی طاقت کو مزید منتشر کیا جائے ایک یا ایک آواز اگر موجود ہے تو اس کو بھی ختم کیا جائے۔

سوال : کیا اس حوالے سے آپ کی بی این ایم کے مرکزی عہدیداراں سے باضابطہ بات چیت ہوئی ہے؟
غلام محمد بلوچ: نہیں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

سوال: انضمام کے حوالے سے آپ کی پارٹی کا منشور کیا ہے؟
غلام محمد بلوچ: دستور کہتا ہے کہ مرکزی کمیٹی کونسل سیشن کے فیصلوں کی پابند ہوتی ہے قومی کونسل سیشن میں جو بھی فیصلے ہوں ان میں ترامیم کا اختیار مرکزی کمیٹی کو حاصل نہیں ہے اگر کوئی ہنگامی یا فوری نوعیت کا مسئلہ در پیش ہو تو اس کیلئے بھی کونسل سیشن کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔

سوال: آپ کی پارٹی کے گزشتہ کونسل سیشن میں کیا فیصلے ہوئے تھے؟
غلام محمد بلوچ: فیصلہ ہوا تھا کہ بی این ایم بلوچ قومی جدوجہد اور قومی سوال سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھے گی قومی سیاست کی بنیاد پر جدوجہد کی جائے گی کونسل سیشن میں ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، ڈاکٹر مالک بلوچ کی جانب سے یہ تجویز آئی کہ پارٹی کا نام تبدیل کیا جائے جس کیلئے انہوں نے یہ دلیل دی کہ کراچی اور پنجاب کے بلوچ ہمارے نام کی وجہ سے ہم سے دور ہیں اس لئے نام تبدیل کرکے پنجاب اور کراچی کے بلوچوں کو بھی پارٹی کا حصہ بنایا جائے جس پر بحث ہوئی اور نناوے فیصد ارکان کی رائے یہی تھی کہ بی این ایم کا نام بلوچ نیشنل موومنٹ رکھ دیا جائے تاکہ یہ ہر بلوچ کیلئے قابل قبول ہو تاہم پاکستان کی سیاست کے حوالہ سے پارٹی کے نام میں تبدیلی ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگی کونسل سیشن کے دوران اسلم بلیدی نے کہا کہ قومی حق خوداریت کی شق قابل عمل نہیں ہے یہ انتخابات میں ہمارے لئے باعث رکاوٹ ہے اگر یہ شق برقرار رہتی ہے تو ہمیں الیکشن کمیشن میں رجسٹر نہیں کیا جائے گا لہٰذا اس شق کو تبدیل کیا جائے میں نے اس پر کہاکہ کل ریاست کہے گی کہ ہم اپنے آپ کو بلوچ نہ کہیں تو کیا ہم یہ بات بھی مان لیں گے اگر وہ کہے کہ بلوچستان کو بلوچستان نہ کہا جائے کیونکہ وہ اس سے خوش نہیں ہوتی کیا ہم یہ بات بھی تسلیم کر لیں گے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری جدوجہد کے پھر کیا معنی ہوئے ہم بلوچ حقوق کی جدوجہد کو کس طرح آگے بڑھائیں گے؟ بلوچ قومی حق خودارادیت ہمارا بنیادی نصب العین ہے جس سے انکار کے معنی بلوچ قوم کی حیثیت کو رد کرنا ہے جبکہ ہماری پارٹی اسی شرط کی بنیاد پر قائم ہے یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد پر ہماری پارٹی کو پزیرائی حاصل ہے اس موقع پر بی ایس او کے چیئرمین نادر قدوس نے کہا کہ بی ایس او کا بی این ایم سے تعلق اسی اصولوں کی وجہ ہے اگر اس شق کو چھیڑا گیا تو یہ تعلق برقرار نہیں وہ سکے گا۔ بعد ازاں اکثریت نے ان کی (بالائی قیادت) یہ دونوں تجاویز مسترد کر دیئے اور یہ فیصلہ کی شکل میں سامنے آیا لہذا پارٹی کے نام اور پروگرام کو تبدیل کرنا مرکزی کمیٹی کے اختیار میں نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی کمیٹی نے یہ فیصلہ کرکے قومی کونسل سیشن کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

سوال: کونسل سیشن کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی صورت میں آئینی طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟
غلام محمد بلوچ: ایسی صورت میں تادیبی کاروائی ہوسکتی ہے تاہم پارٹی کے کارکنوں کا مطالبہ یہ ہے کہ کونسل سیشن کا اجلاس بلایا جائے کیونکہ بحرانی کیفیت میں آئینی طریقہ کار کونسل سیشن طہ کرتا ہے لہذا ان معاملات کو طے کرنے کیلئے قومی مرکزی کونسل سیشن کا اجلاس طلب کرے۔ مرکزی قیادت اور مرکزی کمیٹی کے اراکین کی جواب دہی مرکزی کونسل سیشن ہی کر سکتی ہے۔
سوال؛ بعض حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مجوزہ انضمام کی صورت میں بی این ایم تقسیم ہو سکتی ہے؟
جواب؛ قیادت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اپنے کروہی مفادات کو پارٹی پر مسلط کرنے کی کوششیں کر رہی ہے لیکن ہم اور پارٹی کے کارکن پارٹی کے وجود کو برقرار رکھیں گے پارٹی بنیاد پر اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ اب یہ ان کی (بالائی قیادت) کی مرضی ہے کہ وہ بی این ڈی پی سے انضمام کرتے ہیں یا نہیں؟

سوال: ایسا لگ رہا ہے کہ انضمام کی کوششیں سست روی کا شکار ہو گئی ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے؟
غلام محمد بلوچ: انضمام میں سست روی کی وجہ کارکنوں کا رد عمل ہے اس لئے کہ انضمام کے فیصلے کو کسی بھی سطح پر کارکنوں میں پزیرائی حاصل نہیں ہو سکی ہے کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط ہے۔ پارٹی کی قیادت کو اس صورتحال کا ادرا کرتے ہوئے کارکنوں سے معذرت کرنی چاہیئے اور غلطی کا اعتراف کرکے کارکنوں کے رد عمل کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے تاکہ مزید کشمکش کی صورتحال جنم نہ لے کیونکہ اگر اب بھی اس امر کو تسلیم نہیں کیا گیا اور لابنگ کی گئی تو کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ جس سے پارٹی کو فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہوگا۔ اگر قیادت پارٹی سے مخلص ہے تو اسے کونسل سیشن کا اجلاس بلانا چاہیئے اور اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ اس ناکام عمل (مجوزہ انضمام) نے کارکنوں کو مایوس کر دیا ہے۔ تاہم اگر وہ پھر بھی اپنی باتوں پر بضد ہیں تو ان کو پارٹی کی جان چھوڑ دینی چاہئے اور اپنے طور پر جہاں ایڈجسمنٹ ہونا چاہتے ہیں ہو جائیں۔


چیئرمین غلام محمد بلوچ کی یہ گفتگو 26 مئی 2003 میں نامور صحافی و قلمکار منظور سے ہوئی تھی جس کو دی بلوچستان پوسٹ روزنامہ آزادی کے شکریہ کیساتھ آج ان کی برسی کے موقع پر دوبارہ اپنے قارئین کیلئے پیش کررہی ہے۔