تربت: سانحہ ڈنک کا مرکزی ملزم بری، چار ملزمان کو سزائیں

150

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ڈنک میں گذشتہ سال 26 مئی کو مبینہ ڈکیتی کی واردات کے دوران ایک خاتون کے قتل اور کمسن بچی برمش کو زخمی کرنے کے دو ملزمان کو سزائیں جبکہ مرکزی ملزم کو بری کردیا گیا ہے۔

گذشتہ سال تربت کے علاقے ڈنک میں ایک گھر پر حملے میں فائرنگ کے نتیجے میں ملک ناز نامی خاتون کو قتل اور اس کی کمسن بچی برمش زخمی ہوگئی تھی۔

آج کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اے ٹی سی کورٹ مکران کے جج رفیق لانگو نے چار ملزمان کو سزائیں جبکہ مرکزی ملزم کو بری کردیا ہے۔

ملزمان میں باسط ولد فیض اللہ کو سزائے موت، الطاف ولد مزار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ملزم باسط کو پانچ سال قید اور ملزم الطاف کو پستول برآمد ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی، ملزمان میں مرکزی ملزم سمیر ولد سبزل اور سیف اللہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا۔

سمیر ولد سبزل کی طرف سے ایڈووکیٹ مہراللہ گچکی نے پیروی کی جبکہ استغاثہ کی طرف سے جاڑین دشتی ایڈووکیٹ پیش ہوئے سمیر ولد سبزل کے خلاف 5 الگ الگ مقدمات درج تھے عدم ثبوت کی بنا پر وہ پانچوں مقدمات سے بری کردیئے گئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال تربت کے علاقے ڈنک میں رات کو مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر مبینہ طور پر ڈکیتی کی کوشش کی اس دوران مزاحمت پر مسلح افراد نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون کو قتل جبکہ اس کی چار سالہ بیٹی برمش زخمی ہوگئی تھی۔

بعد ازاں علاقہ مکینوں نے مسلح افراد کو گرفتار کرکے انتظامیہ کے حوالے کردیا۔

واقعے کے ردعمل میں بلوچستان سمیت بیرون ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور بلوچستان میں مبینہ طور پر حکومتی سرپرستی میں چلنے والی مسلح گروہوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈنک واقعہ میں ملوث اصل کرداروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مکران بھر میں جتنے بھی سادہ لباس غیر سرکاری مسلح افراد ہے جن میں سے کچھ اہم شخصیات کے سیکورٹی پر معمور ہیں انہیں غیر مسلح کیا جائے۔

علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر برمش بلوچ کو انصاف فراہم کرنے کے حق میں کمپئین بھی چلایا گیا تھا۔