مہر گہوش کے نام – امجد دھوار

78

مہر گہوش کے نام

تحریر: امجد دھوار

دی بلوچستان پوسٹ

سوچ رہا ہوں آج کہاں سے شروع کروں کیونکہ آج ایسا لکھنے جارہا ہوں کہ لکھنے سے پہلے ہاتھ کانپ رہے ہیں، ذہن میں بہت سے خیالات آرہے ہیں کہ کہیں میں کچھ غلط نہ لکھ دوں۔ وہ دوست سن رہا ہو گا کہ نہیں، کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے وہ رابطے میں نہیں ہے، پتہ نہیں وہ کہاں اور کن حالات سے لڑرہا ہوگا، کیوں وہ نہیں لکھ رہا ہے دل میں بہت وسوسیں آرہے ہیں۔ مگر یہ گوریچ کی ہوا تیرے قلم اور سلامتی کی نوید سنا رہی ہے۔

شروعات آپ ہی کی باتوں سے کرتا ہوں جہاں آپ نے ”حیوان نما انسان” میں یوں لکھا تھا کہ “ٰٰٰمطالعہ نفسیات کے مطابق انسانی دماغ بے شمار چھوٹے چھوٹے اجزا کا مجموعہ ہے اور یہ اجزا پیدائشی طور پر خوابیدہ حالت میں ہوتے ہیں اور ان کو متحرک کرنے کے کچھ مختلف ذریعے ہوتے ہے اور وہ مشکلات چیلنج اور خطرات جب انسانی زندگی کے ہر موڑ میں ہر طرح کی حالات جب اسے درپیش ہوتے ہیں ،جب ان کا مقابلہ کرے گا تب انسان کی دماغی ذرات متحرک ہوتے ہیں جب تک انسانی دماغ کے وہ ذرات غیر متحرک اور خوابیدہ شکل میں ہوں، دماغ میں وہ زرات غیر فعال شکل میں ویسے کے ویسے پڑے ہوتے ہیں، اس وقت تک انسان ایک انسان نما جانور کہلانے کا مستحق ہوتا ہے”

مجھے یاد ہے آپ کی تحریروں سے پہلے بہت سی پیچدگیاں ہمارے ذہنوں میں گردش کرتے تھے ہم ان میں الجھے ہوئے رہتے تھے۔ مگر ایک دن کسی دوست نے وٹس ایپ پر آپ کے کسی تحریر کا لنک بھیج دیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس وقت تو میں فزکس ڈپارٹمنٹ کے ایک ایسے کلاس میں بیٹھا تھا جہاں میں لیکچر کو روز خود پہ ایک بوجھ سمجھتا رہتا تھا، آج بھی کچھ ایسا ہی تھا جب موبائل ہاتھ میں تھام کر لنک کھول دیا تو مجھے آپ کی تحریر پڑھنے کا موقع ملا۔ پڑھتے پڑھتے میری نظر اس تحریر پہ اور شاید سر مزمل کی نظر مجھ پہ پڑ گئی تو انہوں نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، ہوش کہاں ہے تمہارا؟ کیا کر رہے ہو ؟ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ سوال بھی کر ڈالا what is Guses law میں تحریر کے خیالوں میں تھا پتہ ہی نہیں تھا لیکچر میں سر نے کیا کہا Guses law میرے لئے مشکل پہلی ہی بن گئی ساتھ میرے پاس بیٹھا ساتھی دہیمی آواز میں مجھ پہ ہنس رہا تھا، اور کچھ دیر بعد ہماری کلاس ختم ہوئی۔

کلاس کے بعد ہم کینٹین چلے گئے، میں فیسو اور چراغ اس تحریر پہ باتیں کرنے لگے، اچانک ہی فیسو کے کچھ دوست اس سے ملنے آئے اور ہمارے پاس بینچ پر بیٹھ گئے ، بس یہ ٹاپک یہاں رہ گیا جب ہم ہاسٹل چلے گئے اور تحریر کو سنجیدگی سے سمجھنے لگے کہ ایک تو نفسیات کا استاد ہے تو یہ تحریریں ہمیں کمپنی دینے لگے روز ہم ان تحریروں کے انتظار میں ہوتے تھے، ان کو پڑھتے ان پہ غور کرتے بس یہی ہی محسوس کرتے کہ مہر گہوش کی لکھی تحریریں تو ہماری زندگیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ جو بھی خامیاں مہر گہوش بیان کرتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہم میں ہے۔ اور جو کچھ ہونے والے حالات کے بارے میں لکھتا ہے وہ بلکل ہی ایسا ہے، روز ہم مہر گہوش کو سرچ کرتے روز پڑھتے ان کی تحریروں نے ہمیں دیوانہ ہی کر رکھا تھا وقت نے ہمیں اتنا ہی بےبس بنا دیا تھا کہ نہ ہم ان کی تحریروں پر کوئی کمنٹ کرتے تھے پتہ نہیں ہم ڈرپوک تھے، یا حالات ہی ایسے تھے، ہمیں ایسے لگتا تھا کہ ہم تینوں سمیت اور بھی ایسے بہت سے لوگ ہونگے جو ہماری طرح ان تحریروں پر غور فکر بہت کرتے ہونگے مگر مجبورا کومنٹ اور لائیک نہیں کرتے ہونگے۔

ایسے ہی وقت گذرتا گیا، دن بدلتے گئے ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ اکاؤنٹ کہیں گم ہوگیا۔ جس کے ڈی پی پر درویش کا مسکراتا ہوا دروشم تھا اور کاور پہ ایک شاہین نظر آتا تھا۔ شروع میں ہمیں ایسا لگا تھا کہ شاید آپ مصروف ہونگے اسی لیے آپ نے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کی ہو گی، بس اسی امید کیساتھ ہم روز سرچ کرتے اور نا امیدی ہوتی بس ایسے ہی رفتہ رفتہ وقت اور حالات گزرتے گئے ہم یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہوئے مگر مہر گہوش کی تحریریں پڑھنے کو دوبارہ نہ ملے۔

مگر اس کی ایک شاعری جو اکثر میں پڑھتا رہتا ہوں اس سے یہ محسوس ہوتی ہے کہ آپ نے شاعری پر بھی عبور حاصل کی ہے آپ کی شاعری میں ایک ایسا درد چھپا ہواہے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایسے سفر میں ہیں جہاں روز سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے لب خشک ہوتے ہیں مگر سامنے دوست کی مسکراہٹ اس پیاس کو بجھا دیتی ہے سنگت مہر گہوش آپ کی شاعری جو اب بھی میں پڑھ کر یہاں تحریر کر رہا ہوں

نا ڈکھ و بیوسی نظر بفک کنے
در پہ در نا زندگی نظر بفک کنے
نی خواجہ اوس ولے ھیت اس پاو
نا بیخواجہ ہی نظر بفک کنے
ای رومب اوٹ رند ئٹی دستار ئنا
نا لنگڑی و بزگی نظر بفک کنے
ہر اسٹ کہ پارے ای، ای اوٹ
گڑا نا آ سودئی نظر بفک کنے

آپ کی اس شاعری کو پڑھ کر 7 اپریل 2014 کا قصہ یاد آتا ہے، جس کے حوالے سے میں نے سنا تھا کہ شور میں چارسو باردو کے دھویں، آتش دشمن برسا رہا تھا اور امیر کی وہ نہ ختم ہونے والی داستان شاید یہ شاعری بھی انہی داستانوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

مہر گہوش صاحب کئی سالوں کے انتظار کہ بعد شاید ہی یہ تحریر آپ تک پہنچ جائے، آج ہم سالوں بعد بھی آپ کی انہی تحریروں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ میرے خیال سے میرے اور میرے دوستوں سمیت دوسرے ہزاروں لوگ بھی آپ کی تحریروں کے انتظار میں ہوتے ہیں اور شاید وہ سب بھی آپ کی تحریروں کی کمی کو محسوس کر رہے ہونگے مہر گہوش صاحب امید ہے آپ اس تحریر کو پڑھ رہے ہونگے اور جلد ہی دوبارہ ہمارے ذہنوں کو اپنے تحریروں سے روشناس کریں گے۔


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں