پنجگور: ایران سرحد کی بندش بلوچوں کا معاشی قتل ہے،کاروباری شخصیات

151

بلوچستان کے ضلع پنجگور کے کاروباری شخصیات سعیداللہ، اعجازاحمد بلوچ، وسیم احمد، امان جان، نذیر احمد ساسولی، طیب بلوچ، خالد اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے کی پسماندگی کو دیکھ کر باڈر کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں روزگار ناپید ہے اور روزگار ایران سرحد سے جڑا ہوا ہے یہاں سے جو محدود پیمانے پر تیل اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء جن میں گیس سلنڈر بھی شامل ہے اگر یہ اشیاء ایران کے راستے نہیں آتے تو لوگوں کی بھوک اور پسماندگی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہم سے چھینے جارہے ہیں، تیل اور گیس سلنڈر ایران سے آتا ہے اگر ان اشیاء کی بندش کا سلسلہ جاری رہا تو بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے گا اور لوگ نان شبینہ کے محتاج بن کر رہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار کے علاوہ ایران میں یہاں کے لوگوں کی رشتہ داریاں ہیں، ایک بھائی یہاں آباد ہے تو دوسرا ایران میں، سرحد پر پابندیوں سے لوگوں کی رشتہ داریاں بھی متاثر ہوئی ہیں لوگ ایک دوسرے کے غم اور خوشیوں میں بھی شامل نہیں ہو پا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرحد کو بند کرنے سے پہلے لوگوں کو روزگار فراہم کرے ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کا کاروبار بند کرکے ان کو بھوکا مارا جائے اور بعد میں ہمدردی کے چار لفظ بول دے کہ کاش ایسا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ بیس لاکھ لوگوں کے گھروں کے چولہے ایرانی سرحد کے سہارے چل رہے ہیں، بارڈر سے فوری طور پر پابندیاں ہٹائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نام نہاد ایم این اے احسان ریکی اور قدوس بزنجو کا کام کرنا درکنار علاقے کا دورہ بھی نہیں کرتے وہ لاپتہ ہوچکے ہیں۔ سرحد سے رکاوٹیں دور کی جائیں ہمیں زراعت کے لیے بھی ڈیزل لانے نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر زمباد والوں سے بھتہ وصول کیا جارہا ہے اس وجہ سے زمباد والے زیادہ لوڈ لاد کر حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم مارچ تک سرحد بحال نہیں ہوا تو سسٹم کو جام کردیں گے اور ڈیزل کو پنجگور سے باہر جانے نہیں دینگے ہماری بچوں کی تعلیم سے لیکر دیگر ضروریات بارڈر سے منسلک ہیں اس کے علاوہ ہوٹل گیراج بھی بارڈر کے محتاج ہیں۔ بارڈر پر پابندیاں ہٹا کر لوگوں کو روزگار کرنے دیا جائے۔