لاپتہ افراد کیلئے جدوجہد نے پاکستان کا مکروہ چہرہ عیاں کیا – ماما قدیر

128

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4185 دن مکمل ہوگئے۔ اس موقع پر ایکٹوسٹ حوران بلوچ اور ماہ گنج بلوچ اور وہاب بلوچ احتجاجی کیمپ میں موجود تھیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے ناصرف پاکستانی جمہوریت بلکہ انسانی حقوق کے اداروں سمیت میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی بے بسی اپنے آنکھوں سے دیکھی ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے طویل جدوجہد نے ناصرف ایک تاریخ رقم کیا بلکہ پاکستان کا مکرو چہرہ بھی دنیا کےسامنے عیاں کردیا مگر ان تمام چیزوں کے باوجود بھی اقوام متحدہ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے اب تک ناکام ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی فریاد کو سنجیدگی سنیں۔

ماما قدیر نے مزید کہا کہ پاکستانی حکمران بلوچوں کی پرامن جدوجہد سے خوفزدہ ہیں کہ بلوچ کے پرامن جدوجہد آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے مزید شرمندگی کا باعث بنے گا کیونکہ آنے والے دنوں میں لاپتہ افراد بازیابی کے لئے اٹھائے جانے والی آواز بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط ہوگی اور وسعت بخشے گی۔