بولان فوجی آپریشن، مختلف مقامات پر چیک پوسٹس قائم

220
File Photo

بولان و گرد نواح میں ایک ہفتے سے جاری فوجی آپریشن میں بولان کے علاقوں سجاول، سند میں کٹ اور گرم آف کے مقامات پر چیک پوسٹس قائم کردیئے ہیں۔

فورسز نے بولان و گرد نواح میں ایک ہفتے قبل شدید نوعیت کی آپریشن شروع کی تھی، آپریشن بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں آئی ایس پی آر کے مطابق ان کے 9 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

دوران آپریشن جبری گمشدگیوں سمیت گھروں اور جنگلات کو آگ لگانے کی بھی خبریں موصول ہوئی جبکہ کئی مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی۔

گذشتہ روز بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بولان کے مختلف علاقوں میں کئی روز سے پاکستانی فوج کا زمینی و فضائی آپریشن جاری ہے اورگن شپ ہیلی کاپٹر مسلسل شیلنگ کر رہے ہیں۔ اس آپریشن کو مزید وسعت دی جارہی ہے۔ بولان اور مچھ کے اکثر علاقے پاکستانی فوج کی شدید محاصرے میں ہیں اور آمدورفت کے تمام راستے بند ہیں۔ اب تک درجنوں لوگوں کو پاکستانی فوج نے اٹھا کر لاپتہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب پاکستان بلین ٹری نامی پروجیکٹ کے تحت کروڑوں کی تعداد میں درخت لگارہی ہے لیکن مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج بلوچ قوم کے خلاف بدترین مظالم کے ساتھ ساتھ بلوچ دھرتی پر موجود ہر شئے جو بلوچ سے وابستہ ہے، اسے بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔

بیان میں میں کہا گیا کہ بولان و گرد نواح میں اس سے قبل بھی کئی مقامات پر فورسز کے درجنوں چیک پوسٹ قائم ہیں جن کے وجہ سے مقامی آبادی و بولان آنے والے افراد کو پوچھ تاچ کیا جاتا یے تاہم اب یہاں مزید فورسز چیک پوسٹ قائم کئے جارہے ہیں۔

حکام نے فوجی آپریشن اور مذکورہ مقامات پر چیک پوسٹس قائم کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔