زباں اور الفاظ ساتھ چھوڑ جا تے ہیں – محمد خان داؤد

86

زباں اور الفاظ ساتھ چھوڑ جا تے ہیں

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

”گوتم
ہوووم
تم کیوں پڑھتے ہو
پڑھوں نہیں تو پھر کیا کروں
گوتم!اتنا مت پڑھا کرو
زباں اور الفاظ ساتھ چھوڑ جا تے ہیں“
یہ پیراگراف قرت العین حیدر کے لکھے ناول آگ کا دریا کا ہے جس میں ایک بکھشو دوسرے بکھشو گوتم کو بہت سا پڑھنے پر منع کرتا ہے اور گوتم کو زیادہ علم حاصل کرنے سے یہ کہہ کر روکتا ہے کہ
”اتنا مت پڑھو الفاظ اور زباں ساتھ چھوڑ جا تے ہیں! انسان بہت سے وعدے کرتا ہے اور پھر ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوتا، یہ سب علم کرواتا ہے،کتابیں کرواتی ہیں۔زباں کرواتی ہے
اور جا کہ بات وہیں پہ ختم ہو تی ہے کہ گوتم اتنا مت پڑھو کرو“
معصوم گوتم جواب دیتا ہے کہ ”پڑھوں نہ تو پھر کیا کروں؟“
پڑھوں نہیں اور کیا کروں اس کا جواب نہ تو اس بکھشو کے پاس تھا جوگوتم کو کتابوں،دلاسوں،وعدوں اور زبانوں کے نفع اور نقصان سے آگاہ کر رہا تھا۔نہ تو گوتم کے پاس اس سوال کا جواب تھا کہ وہ پڑھے نہ تو پھر کیا کرے اور پڑھنے اور نہ پڑھنے کے بیچ کا سوال اور اس کا جواب تو اس گوتم کے پاس بھی نہ تھا
جو ”سروم دکھم دکھم“ کا فلسفہ لیے دنیا میں وارد ہوا
تو وہ کیا کریں جو کچھ نہیں پڑھتے
اور وہ کیا کریں جو بہت سا پڑھتے ہیں؟

ایسا ہی ہے عمار علی جان جو بہت سا پڑھتا،پڑھتا ہے،پڑھتا ہے اور جب تھک سا جاتا ہے تو پھر سے پڑھنے لگتا ہے
اور پھر اس کے پاس بہت سے الفاظ آتے ہیں،اس کی زباں الفاظ سے بھر جا تی ہے۔اس کے پاس وعدے اور دلا سے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں اور اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو وہ دکھائے جو اسے نظر آتا ہے
لفظوں کا جہاں
اعتبار کا ملک!
پر ہر بار اس ریا ست نے اس سے بے اعتباری کی ہے اور وہ بے اعتباری کا شکار کیوں رہا ہے؟
اس لیے کہ وہ بہت سا پڑھتا ہے۔وہ سوالوں کے جواب تلاشتا ہے بہت سے سوالوں کے جواب اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں اور وہ اپنی زباں سے اپنے الفاظ سے ان پے چیدہ سوالوں کے جوابات بتانے لگتا ہے جواب تو کیا ایسے سوال بھی اس ریاست میں حرام ہیں پر عمار علی جان ان سوالوں کے جوابات اپنی زباں سے بیان کرنے لگتا ہے،تو پھر کبھی اسے پنجاب یونیورسٹی سے نکال دی جا تی ہے، تو کبھی اس پر ایف سی کالیج لاہور کے در بند کر دیے جا تے ہیں، حالانکہ ہونا تو ایسا چاہیے تھا کہ یہ گنجلک ریاست آگے بڑھ کر عمار علی جان سے پیچیدہ سوالوں کے جوابات چاہتی اور ان جوابات کو قلم زدہ کر کے عوام میں عام کرتی پر ایسا نہیں ہو رہا۔اور کچھ بھی نہیں ہورہا۔اس ریا ست میں علم و عقل پر بھی بندوق کا سایہ ہے جان تو جان پر یہاں تو کتابوں اور لکھے چھپے الفاظ پر بھی بندوق لہرا رہی ہے تو ایسے میں گوتم کا بھائی عمار علی جان کچھ پوچھتا ہے۔کچھ لکھتا ہے۔کچھ کہتا ہے تو سزا وار ٹہرتا ہے
پر ہم جانتے ہیں وہ پھر بھی کہے گا
کیونکہ
وہ بہت سا پڑھ گیا ہے
ایک فرد بہت سا پڑھ گیا ہے
اور ایک ریا ست جہل میں بسر کر رہی ہے
حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریا ست پڑھے اور جہل میں بسنے والے انسانوں کو روشنی کی طرف لے آئے پر ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ریاست جہل میں رہ رہی ہے اور اپنے ہی بچے کھا رہی ہے اور جو پڑھ رہے ہیں ریاست ان کو بھی کھا رہی ہے
ایسا ہی ہو رہا ہے اس عمار علی جان کے ساتھ جو بہت کچھ پڑھ چکا ہے
جس کا اوڑھنا بچھونا کتابیں ہیں
جو بات دلیل دے کرتا ہے
جس کے آس پاس بس کتابیں رہتی ہیں
جو کتابوں سے باتیں کرتا ہے
جو بس کہتا نہیں پر سدھارتھ کی مانند سنتا بھی ہے
جو بس کتابوں سے کہتا نہیں
پر جو کتابوں کو ایسی ہی شائستگی سے سنتا ہے
جیسے سدھارتھ بہتی ندی کو خاموشی سے سنتا تھا
جس کے پاس بس لوگوں کا علاج نہیں
پر جس کے پاس اس جہل بھری اندھی ریا ست کا بھی علاج ہے
جو اپنی باتوں سے اس بیمار ریاست کا نسخہ لکھتا ہے
ایسا نہیں نسخہ لکھتے لکھتے لاہور کے کمشنر نے عالم عمار علی جون کو کوٹ لکھ پت میں بند کر دیا ہے۔

اس سے کیا ہوگا؟کیا اس سے ریا ست کا جہل ختم ہو جائیگا؟یا عمار علی جان باہر آنے سے پھر خاموش رہے گا ایسا تو کچھ نہیں ہوگا وہ باہر آنے سے پھر وہی نسخہ لکھے گا جو اس ریا ست کو درکار ہے یہ وہی مرہم ان زخموں پر رکھے گاجو ریا ست نے عوام کو دیے ہیں
تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے سے کیا فائدہ؟
پر عمار علی جان کو دیکھتے گوتم کے یہ الفاظ بے معنیٰ سے ہو جا تے ہیں کہ
”گوتم
ہوووم
تم کیو ں پڑھتے ہو
پڑھوں نہیں تو پھر کیا کروں
گوتم!اتنا مت پڑھا کرو
زباں اور الفاظ ساتھ چھوڑ جا تے ہیں!“
پر ہم دو قدم آگے بڑھ کر گوتم کو یہ بتا دیں کہ
عمار علی جان کی زباں، الفاظ،واعدے،دلاسے ساتھ چھوڑ جانے کے لیے نہیں
پر وہ تو ایسا رشی ہے جس کے پاس دردوں کی دوا ہے
پر کوئی اس سے دردوں کی دوا کا نسخہ لکھواتا ہی نہیں
وہ پھر بھی وادی،وادی،چپہ چپہ گھومتا رہتا ہے اور وہ کچھ لکھ جاتا ہے جس سے لوگ تو لوگ پر بیمار بستیاں بھی صحت مند ہونے لگتی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں