بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بندش پر طلباء پریشان

77

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 26 نومبر سے 11 جنوری تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے جبکہ یہ اطلاق بلوچستان میں بھی ہوگا۔

گذشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں رائٹ فار پرائیویٹ اسکولز کے چیئرمین بہادر خان لانگو اور صدر داود شاہ کاکڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے 26 نومبر سے سکول بند کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اگر حکومت نے کسی سکول کی رجسٹریشن منسوخ کی تو ملک گیر احتجاج کریں گے۔

پاکستان کے وزیر تعلیم شفقت محمود نے گذشتہ روز صوبائی وزراء کے ساتھ میٹنگ کے بعد یہ اعلان کیا کہ پاکستان میں 26 نومبر سے سکول، کالج اور یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوم ورک آن لائن ہوگا اور جہاں یہ نہیں ہوسکتا وہاں اساتذہ اور والدین اس کا طریقہ طے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ‘کوئی (باضابطہ) کلاسیں نہیں ہوگی۔’

یاد رہے کہ کہ بلوچستان میں کرونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران تعلیمی اداروں کی بندش اور آنلائن کلاسز سے طلباء کو شدید پریشانی کا سامنا رہا، اور بلوچستان بھر میں طلباء سراپا احتجاج بن گئے تھے۔

بلوچستان جہاں اکثر علاقوں میں سیکورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا وہیں کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔

بلوچستان کے طلباء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر، تعلیمی اداروں کی بندش اور آنلائن کلاسز سے بلوچستان کے طلباء کا سال ضائع ہوگا۔

بلوچستان کے طلباء کا مطالبہ ہے کہ حکومت بلوچستان میں انٹرنیٹ سہولت کو بحال کرے تاکہ بلوچستان کے طلباء دیگر صوبوں کی طلباء کی طرح آنلائن کلاسز لے سکیں۔