گوادر: بارڈر کی بندش اور کوسٹ گارڈز کیخلاف تاجروں کا احتجاج

84

کنٹانی بارڈر کی بندش اور کوسٹ گارڈ کی رویہ کے خلاف کنٹانی بارڈر پر کاروبار کرنے والے تاجران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر گوادر کے آفس کے باہر احتجاجی دھرنا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بارڈر پر رہنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش صدیوں سے صرف بارڈر ہی ہے جہاں پر لوگ محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں، بارڈر کی بندش سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو کاروبار کے بہترین مواقع میسر ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں بارڈر پر بسنے والے لوگ نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے کنٹانی بارڈر کو ہر قسم کے کاروبار کے لیئے بند کردیا گیا جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، لوگوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کا معاشی قتل بند کیا جائے۔ ضلعی انتظامیہ اور ادارے عوام کے روزگار کو تحفظ فراہم کریں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہم تاجران چھ مہینے تک بے روزگار رہیں جس سے ہمارا کاروبار بری طرح متاثر رہا۔ ادارے عوام کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پریشانی کا سبب بن رہے ہیں۔ کوسٹ گارڈز نے کنٹانی بارڈر پر کاروبار پر پابندی عائد کرکے عوام کو روزگار سے محروم کردیا ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کنٹانی بارڈر پر پوری طور پر کاروبار بحال کرکے عوام کو کاروبار کے مواقع فراہم کیئے جائیں۔