دشمن سے دو مختلف جھڑپوں میں تین ساتھی شہید ہوئے – براس

736

بلوچ آزادی پسند مزاحمتی تنظیموں کی امبریلا آرگنائزیشن براس کے ترجمان بلوچ خان نے نامعلوم مقام سے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیچ میں دشمن فوج سے دو مختلف جھڑپوں میں اتحادی تنظیموں کے تین جانباز ساتھیوں نے شہادت قبول کی جبکہ ان مقابلوں میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک کیئے گئے۔

بلوچ خان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دشمن فوج سے پہلی جھڑپ کیچ کے پہاڑی علاقے کلبر میں مورخہ 25 اکتوبر کو اس وقت ہوئی، جب دشمن نے بھاری تعداد میں براس کے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر براس کے جانباز سرمچار مبشر ہوت عرف شاہ دوست اور میرجان عرف عاجز نے دشمن کا گھیرا توڑکر گھنٹوں تک جانفشانی سے دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور اپنے تمام ساتھی سرمچاروں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوئے اور خود طویل مزاحمت کے بعد شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔

شہید میرجان بلوچ عرف عاجز اتحادی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ایک کہنہ مشق ساتھی تھے۔ آپ سنہ 2013 سے بلوچ قومی تحریک آزادی میں ایک متحرک اور مثالی کردار ادا کررہے تھے۔ آپ تمپ، دشت اور مند کے محاذ پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے تھے۔

فوٹو: براس میڈیا

شہید مبشر ہوت عرف شاہ دوست اتحادی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک جانباز ساتھی تھے۔ آپکی بہادری و جرائت اور شعور کی پختگی اپنی مثال آپ تھی۔ آپ نے مسلح جدوجہد کا آغاز سنہ 2017 سے کی اور تربت، زامران، بلیدہ، کلبر کے محاذ پر دشمن پر کاری ضربیں لگاتے رہے۔

براس ترجمان نے مزید کہا کہ دشمن فوج سے دوسری جھڑپ کل کولواہ کے علاقے آشال میں تب ہوا جب سرمچار معمول کے گشت پر تھے۔ دشمن فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی لیکن جانباز سرمچار مختار جان عرف کنر نے بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے، دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک کرکے اپنے ساتھیوں کو گھیرے سے نکالنے میں کامیاب ہوئے اور گھنٹوں تک دشمن سے دوبدو لڑتے رہے۔ اس طویل مزاحمت میں مختار جان نے بالآخر شہادت قبول کرلی۔

شہید مختار جان عرف کنر اتحادی تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے پلیٹ فارم سے گذشتہ پانچ سالوں سے کیچ، کولواہ اور آواران کے محاذ پر متحرک تھے۔ آپ انتہائی مخلص، ایماندار اور بہادر قومی سپاہی تھے۔ قومی تحریک میں آپکی مزاحمتی زندگی اور آپکی قربانی آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔

بلوچ خان نے مزید کہا کہ ان دو مقابلوں میں دشمن فوج کے درجن بھر سے زائد کرائے کے سپاہی ہلاک کیئے گئے، لیکن انہیں گمنام تابوتوں میں بند کرکے گمنام قبروں میں اتارنے کیلئے حسبِ معمول بھیج دیا گیا لیکن شہید سنگت مختار بلوچ، شہید سنگت مبشر ہوت بلوچ اور شہید سنگت میرجان بلوچ اپنی بہادری و جرائت اور مثالی مزاحمت کی وجہ سے نا صرف قوم کے حافظے بلکہ تاریخ میں بھی امر ہوگئے۔