بلوچستان: پانچ سالوں میں بارودی سرنگ کے 176 واقعات، 118 افراد ہلاک

74

بلوچستان میں پانچ سالوں کے دوران بارودی سرنگ کے 176 واقعات رونماء ہوئے جن میں 118 افراد ہلاک جبکہ 168 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں سال 2015 سے 2019 کے دوران بلوچستان بھر میں بارودی سرنگ کے 176 واقعات ہوئے ہیں جن میں کوئٹہ میں 2 واقعات میں ایک شخص ہلاک، قلعہ عبداللہ میں ایک واقعے میں 3 افراد ہلاک، چاغی میں ایک واقعے میں ایک شخص زخمی، ڈیرہ بگٹی میں 101 واقعات میں 28 افراد ہلاک جبکہ 97 زخمی، کوہلو میں 20 واقعات میں 18 افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی، سبی میں 18 واقعات میں 11 ہلاک، 13 زخمی، نصیر آباد میں 12 واقعات میں 8 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی، جعفر آباد میں 7 واقعات میں 4 افراد ہلاک، 2 زخمی، ژوب اور پنجگور میں ایک ایک واقعہ میں ایک ایک شخص ہلاک، خضدار میں ایک واقعہ میں 3 افراد ہلاک ایک زخمی، آواران میں 2 واقعات میں ایک شخص ہلاک، قلات میں 4 بارودی سرنگ کے واقعات میں 2 افراد ہلاک جبکہ 6 زخمی، مستونگ میں 2 واقعات میں 5 افراد زخمی، بارکھان میں 3 بارودی سرنگ کے واقعات میں 8 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

خیال رہے آزاد ذرائع کے مطابق مذکورہ واقعات اور ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد سرکاری اعداد شمار سے زیادہ ہے، مختلف علاقوں میں ہونے والے کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوسکے ہیں۔

بلوچستان کے اکثریت علاقوں میں بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیمیں متحرک ہیں جو پاکستانی فورسز اور حکومتی حمایت یافتہ افراد کو نشانہ بناتے ہیں تاہم کوئٹہ سمیت چند علاقوں میں مذہبی شدت پسند تنظیمیں بھی کاروائیاں کرتی رہی ہے۔