سانحہ آٹھ اگست، دھاڑیں مار کر روتی بلوچستان – شفیق الرحمن ساسولی

72

سانحہ آٹھ اگست، دھاڑیں مار کر روتی بلوچستان

شفیق الرحمن ساسولی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کی شومئی قسمت یہ ہیکہ کسی بھی مہینے کی کوئی بھی تاریخ، جب اپنی آپ بیتی بیان کریگی تو وہ آپ بیتی مظلوم و محکوم بلوچستان پر بیتنے والے ظلم و بربریت سے خالی نہیں ہوگی۔ مظلوم بلوچستان کے کئی شیردل قبائلی شخصیات، ڈاکٹرز، انجنیئرز، مدرسین اور طلباء اور صحافی شہید ہوچکے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہیں۔ ان میں سے کئیوں کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ آٹھ اگست 2016 بھی انہی کرب ناک واقعات میں سے ایک ہے۔

وہ قیامت خیز دن کوئی بھی نہیں بھول سکتا کہ آٹھ اگست 2016 کو کوئٹہ میں دہشتگردوں نے پہلے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی ان کے گھر کے قریب ٹارگٹ کلنگ کی اور اس کے بعد جب ان کی لاش سول ہسپتال کوئٹہ پہنچائی گئی تو وکلاء کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچی۔ ہسپتال میں پہلے سے موجود دہشتگرد نے وکلاء کے ہجوم کے اندر خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں 56وکلاء اور 2 صحافیوں سمیت 75 سے زائد افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس دن اس دھرتی سے اس کے وکلاء کی کریم کو چھیناگیا۔ سینئروکلاء کی شہادت سے جہاں عدالتی امور میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا وہیں اس معاشرہ اور خاندانوں کے چشم و چراغ ہمیشہ کیلئے جداہوگئے۔

انصاف کے نام پر بھی ظلم یہ کہ باقی معاملات کی طرح آٹھ اگست کے سانحہ پر تحقیقاتی کمیشنز بنائی گئیں، انصاف کے منتظر خاندانوں کو تاریخ پہ تاریخ دیاگیا مگر تاحال بلوچستان مجازی خداوں کے انصاف سے محروم ہے۔

زمانے میں زمینی منصفوں کے انصاف کی یہ حالت دیکھ کر بلوچستان اب سوال نہیں کرتی بس دھاڑیں مارکر روتی رہتی ہے۔ نوروز خان و ان کے ساتھیوں کی شہادت پر، اسدجان سے لیکر آج تک اپنے کئی بیٹوں کی لاپتگی پر، اکبر خان و حبیب جالب سمیت اپنے ہزاروں ڈاکٹر، انجنیئر، ٹیچر، لیکچرار، پروفیسر، اسٹوڈنٹ، صحافی فرزندوں کی شہادت پر؟ سونا، تانبا، گیس، تیل اور سمندر و دیگر کئی ذخائر کی مالک ہوتے ہوئے اپنی غربت پر؟ اپنے بیٹیوں کو اپنے شوہر، فرزندوں، بھائیوں کے بازیابی کیلئے سسکتے بلکتے روتی ہوئی سڑکوں پہ دیکھنے پر۔۔۔ بس دھاڑیں مارکر روتی ہے میرابلوچستان۔

کئی اور واقعات سمیت بلوچستان آج کے دن اپنے وکیل بیٹوں کیلئے رورہی ہے، اللہ سے انصاف کی خواہش رکھ رہی ہے۔

اگر بلوچستان کے دعاء وبددعاء اور خواہشات کا جائزہ لیاجائے تو نہایت ہی جائز ہیں۔ بلوچستان اللہ پاک سے اپنے لئے امن و سکوں چاہتی ہے، اپنے وکیل بیٹوں سمیت سب کیلئے انصاف اور دیگر شہیدوں کیلئے اعزاز و بلند درجات کا طلبگار ہے، اپنے لاپتہ بیٹوں کی بازیابی کیلئے دعا مانگتی ہے۔ اپنے زندہ خاندان کیلئے دعاکرتی ہیکہ وہ اپنے وسائل سے مستفید ہوسکیں۔ اور بد دعادیتی ہیکہ جو مجھ پہ، میرے بچوں پہ بے گناہ ظلم ڈھاتے ہیں اللہ ان کو نیست و نابود کرے۔

مختصراً یہ کہ بلوچستان خدا عزوجل سے امن، انصاف اور خوشحالی مانگتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔