سیاسی اختلاف پر بلوچ آزادی پسندوں نے کسی کو نشانہ نہیں بنایا – بی ایل ایف

356

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا میں جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”ہم نیوز ٹی وی“ کے پروگرام“ ایجنڈا پاکستان“ میں عامر ضیاء کے ساتھ میر حاصل بزنجو کا انٹرویو مقبوضہ بلوچستان کے زمینی حقائق کو بدنیتی سے مسخ کرکے پیش کرنے کی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔ بلوچ قومی تحریک آزادی کے بارے میں پروگرام کے میزبان اور مہمان کی بدنیتی اور دروغ گوئی صاف عیاں ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ بلوچ سرمچاروں نے نیشنل پارٹی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی اختلاف کے باعث نشانہ نہیں بنایا بلکہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ان ایجنٹس کو نشانہ بناتے رہے ہیں جو سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے بھیس میں بلوچ تحریک آزادی کے خلاف پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی مدد کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں یہ تو ان نام نہاد سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوج اور خفیہ اداروں کے ایجنٹس کو اپنے صفوں میں جگہ نہ دیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ان ایجنٹوں نے نیشنل پارٹی کے قیادت کی رضامندی سے ان کی جماعت کو بلوچ تحریک آزادی کے خلاف مورچہ بنایا یا پھر ان کی نااہلی سے؟

دوسری بات یہ ہے کہ مقبوضہ بلوچستان پر پاکستان نے جبری قبضہ کیا ہے یہ ایک تاریخی حقیقت ہے پاکستان نے اپنے قیام کے بعد مختلف حیلے اور بہانوں سے ریاست قلات (بلوچستان) پر قبضہ کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں۔ پاکستانی حکمرانوں نے بلوچستان کے اس وقت کے حکمران خان آف قلات پر الحاق کیلئے دباؤ ڈالنا شروع کیاتھا مگر ریاست کی پارلیمنٹ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نام پر اپنی قومی آزادی اور شناخت کی قربانی دینے سے صاف انکار کیا تھا۔ ریاست قلات (بلوچستان) کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے خلاف آواز اٹھانے اور مزاحمت کرنے والوں میں حاصل بزنجوکے والد مرحوم میر غوث بخش بزنجو کا نام سرِ فہرست ہے، بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ایک مقبوضہ خطہ ہے۔ پاکستان کو وفاق کہنا اور اپنے سیاست کو وفاق کے دائرے میں رہ کر سیاست کا نام دینا حاصل بزنجوکی جہالت اور جھوٹ کو ظاہر کرتا ہے،وفاق تو مختلف آزاد ریاستوں کی آزادانہ رضامندی سے بنتا ہے جبکہ پاکستان برطانیہ کا مسلط کردہ ملک ہے کوئی وفاق نہیں ہے۔

نیشنل پارٹی کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ اپنے دور حکومت میں فخریہ طور پر فوج اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ان کے وزیراعلیٰ کی صدارت میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس ہوتے تھے جہاں بلوچ تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے فوجی آپریشنز کی حکمت عملی اور منصوبے بنائے جاتے تھے۔ بلوچستان کے ساحل اور وسائل سے بلوچ قوم کو مستقل طور پر بیدخل کرنے، بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو چین کی سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے چین کے حوالے کرنے کا منصوبہ، سی پیک، ان کی دور حکومت میں منظور ہوا تھا پھر بھی حاصل بزنجو معصوم بننے کی کوشش کرتا ہے۔

نہ جانے حاصل بزنجو بلوچ قومی تحریک آزادی سے اپنی بے خبری کے باعث موجودہ تحریک کو ماضی کی مسلح کوششوں کے مقابلے میں کمزور بتارہا ہے یا پھر وہ دانستہ طورپر بدنیتی سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے؟ ویسے اس بارے میں حاصل بزنجوکی موقف تضادات پر مبنی ہے ایک طرف وہ دعویٰ کرتا ہے کہ سرمچار کرایہ پر لڑنے والے بیرونی خفیہ اداروں کے چند ایجنٹ ہیں جنہیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہے،دوسری جانب یہ بھی کہتاہے کہ موصوف بندوق بردار وں کی سیکیورٹی کے بغیر اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا جبکہ اس کے برعکس بلوچ سرمچار کہیں بھی جاکر کارروائی کرتے ہیں۔گزشتہ بیس سال سے تحریک آزادی کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض پاکستان اپنے خونخوار فوج کی سفاکانہ استعمال، ہر پانچ کلومیٹر پر فوجی چوکیوں، مسلسل فوجی آپریشنز، ہزاروں مسخ شدہ ہ لاشیں پھینک دینے، ہزاروں بلوچ فرزندوں کو جبری لاپتہ کرنے اور لاکھوں خاندانوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے، میڈیا، عدلیہ اور ربڑ اسٹمپ پارلیمان پر فوج کی مکمل کنٹرول کے باوجود تحریک آزادی کو ختم نہیں کرسکا ہے جو کہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ تحریک آزادی کو بلوچ عوام کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے۔

بی ایل ایف کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچ سرمچار بیرونی قوتوں کے ایجنٹ نہیں ہیں بلکہ سیاستدان کے بھیس میں حاصل بزنجوجیسے کالے بھیڑیئے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ایجنٹ ہیں، نیشنل پارٹی اور دوسری جماعتیں اگر مقبوضہ بلوچستان میں سیاسی عمل کو کرپشن اور خفیہ اداروں کی چنگل سے نکالنا چاہتے ہیں تو بلوچ تحریک آزادی کے بارے میں انھیں اپنی مخاصمانہ پالیسیوں کو بدلنا اور حاصل بزنجوجیسے فوجی ایجنٹس کو اپنے صفوں سے نکال باہر کرنا ہوگا۔