راشد حسین کی عدم بازیابی، جرمنی، نیدر لینڈ و جنوبی کوریا میں مظاہرہ و آگاہی مہم کا انعقاد ہوگا

112

ریلیز راشد حسین کمیٹی کی جانب سے اگست کے مہینے میں جرمنی ،نیدر لینڈ جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک میں مظاہرے اور آگاہی مہم کا انعقاد کیا جائےگا۔

ریلیز راشد حسین کمیٹی کے ترجمان زامران بلوچ نے کہا کہ راشد حسین کی طویل گمشدگی اور عدم بازیابی تشویشناک عمل ہے، انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین جسے دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات سے شارجہ کے مقام پر عرب امارات کے خفیہ اداروں نے جبری گمشدگی کا شکار بنایا اور چھ ماہ تک حبس بے جا میں رکھ کر بعد ازاں غیر قانونی طور پر ایک چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا۔

ترجمان کے مطابق ہمارے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں کہ عرب امارات نے انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کو غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا اور پاکستانی میڈیا نے وہ خبر بریک کیا تھا، لیکن آج پاکستان اس بات سے انکاری ہے کہ راشد حسین اس کی تحویل میں ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ راشد حسین کو کوئی نقصان پہنچا کر حسب روایت انکاری ہوں۔

ترجمان کے مطابق راشد حسین کی فیملی گذشتہ دو سالوں سے کراچی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج ہیں اور اسی طرح بیرون ممالک میں بلوچ ڈائسپورہ بھی احتجاجی عمل کے ذریعے راشد حسین کی بحفاظت بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہے
اور پاکستان کے عدالتی نظام کے تحت انصاف کے طلبگار ہیں،لیکن پاکستانی خفیہ ادارے اپنے ملکی نظام اور ہمارے احتجاج سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے راشد حسین کو اب تک منظر عام پر لانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق راشد حسین کے بازیابی کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی کے اپیلوں کو بھی پاکستان نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔

زامران بلوچ نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دنیا کے مہذب اقوام کا سوال متحدہ عرب امارات سے آج تک یہی ہے کہ راشد حسین کو کس جرم کی پاداش میں غیر قانونی طور  پر پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے ؟

ترجمان کے مطابق اگست کے مہینے میں جرمنی نیدر لینڈ کوریا اور دیگر ممالک میں مظاہرے ہونگے۔

زامران بلوچ نے کہا کہ راشد حسین سمیت تمام بلوچ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کے بدترین خلاف ورزیا‍ں ہیں ہم دنیا اور پاکستانی قانون کے مطابق انصاف کے طلبگار ہیں۔