سانحہ ڈنک اور عوامی ردِعمل – گزین گورگیج

42

سانحہ ڈنک اور عوامی ردِعمل

تحریر: گزین گورگیج

دی بلوچستان پوسٹ

مورخہ 26 مئی کو کیچ ڈنک میں جاسم ولد امیر کے گھر پر حملہ ہوتا ہے۔ اس حملے میں ایک بلوچ خاتون پر فائرنگ کرکے اسے بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے اور ایک 4 سالہ معصوم بچی پر فائرنگ کر کے اسے زخمی کیا جاتا ہے۔

اس دلخراش واقعے کی جتنی مذمت کی جائے بہت کم ہے۔ بلوچستان میں ایسے انسانیت سوز واقعات گذشتہ کئی برسوں سے ہوتے آ رہے ہیں اور بلوچستان میں ایک خوف کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ ڈنک کا واقعہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت گذشتہ کئی برسوں سے کیچ میں ڈکیتیاں و چوریاں ہوتی آرہی ہیں، جن کو معروف نام نہاد سیاسی پارٹی کی آشیرباد حاصل ہے۔

ڈنک کا واقعہ کا ایک انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ انسانیت کے قتل سے کم نہیں۔ چوری و ڈکیتی کے نیت میں کسی کے گھر میں گھس کر خواتین کو شہید کرکے اور بچی کو زخمی کرنا یہ بلوچ روایت کے برخلاف ہے اور بلوچ روایت میں ایسے غیرانسانی فعل کی کوئی گُنجائش نہیں۔ بلوچ روایت میں خواتین کو اتنا احترام بخشا جاتا ہے کہ اگر جنگ کے دوران کوئی عورت درمیان میں آئے تو فوری طور پر جنگ بند کر دی جاتی ہے۔

مگر ہم سمجھتے ہیں سانحہ ڈنک بلوچ عوام کی غیرت پر حملہ ہے۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے اور بہت چالاکی سے پورے بلوچستان خصوصآ مکران کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بندوق کلچر کو عام کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یہاں کے نوجوان نسل کو قلم کی بجائے بندوق کا عادی بنایا جائے اور مکران کو ایک نئے لیاری میں تبدیل کردیں۔ جیسے مکران سے پہلے نوے کی دہائی میں لیاری بھی بلوچ عوام کا ایک مضبوط سیاسی مرکز تھا۔

یہ سرکار کی استحصالی پالیسی کا حصہ ہے۔ جہاں علم و شعور کی سیاست عروج پر ہو، وہاں اس سیاست کے خاتمے کے لیے منشیات اور بندوق کے کلچر کو عام کر دیا جائے تاکہ آنے والی نوجوان نسل کو سیاست اور علم شعور کی بجائے بندوق اور منشیات کی لت لگ جائے۔ بندوق کا یہ کلچر ہماری آنے والی نوجوان نسلوں کی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔

اگر آج یہاں کے عوام و سیاسی پارٹیاں اس مسئلے پر خاموش رہیں تو کل یہی مسئلہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک سر درد بنے گا اور بہت ہی خطرناک شکل اختیار کرے گا، پورا بلوچستان اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ اب یہ مکران کے عوام پر اور یہاں کی سیاسی پارٹیوں پر منحصر ہے کہ کیا وہ اس مسئلے کے خلاف احتجاج کریں گے یا خاموش رہیں گے؟ کیا ان مجرموں کو سزا دلانے کے بعد خاموش ہو جائیں گے؟

میں سمجھتا ہوں مکران کی آل پارٹیز کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کے خلاف یکساں مؤقف اختیار کر کے ایک موومنٹ بنائیں اور ہر فورم پر منشیات اور بندوق کی کلچر کے خاتمے کے خلاف آواز اُٹھائیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔