ڈیرہ بگٹی: راہداری نہ ملنے پر مریض جانبحق

203

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں راہداری نہ ملنے کے باعث ایک مریض جانبحق

ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ سے تعلق رکھنے والے یار خان بگٹی کو طبیعت زیادہ خراب ہونے پر پنجاب ریفر کیا گیا، مگر انتظامیہ کی جانب سے راہداری نہ ملنے کے باعث وہ جانبحق ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق یار خان اپینڈکس کا مریض تھا، جنہیں ڈیرہ بگٹی میں عدم سہولیات کے باعث پنجاب ریفر کیا گیا، لیکن مقامی لیویز نے چیک پوسٹ پر اجازت نامہ لینے کیلئے انہیں روک دیا۔

متوفی کے بھائی کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ انکے بھائی کو سول ہسپتال میں علاج کی غرض سے لیجایا گیا، جہاں انہوں نے مریض کو پنجاب ریفر کیا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ مریض کے ہمراہ جب ہم سوئی پہنچے تو لیویز چیک پوسٹ پر ہمیں یہ کہہ کر روکا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے اجازت نامے کے بغیر آپ کو آگے جانے نہیں دیا جاسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ چیک پوسٹ پر آٹھ گھنٹے ہمیں روکا گیا جہاں مریض تڑپ کر موت کے منہ میں چلا گیا۔

یار محمد کے انتقال پر سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سماجی کارکن ربینہ ابراہیم نے اسے بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کا ایک مریض جسے عدم سہولیات کی وجہ سے پنجاب ریفرکیا گیا تھا، اسے چیک پوسٹ پر روکا جانا اور کہنا کہ اے سی صاحب نیند سے اٹھے پھر اجازت لیکرعلاج کےلیے جانا، یہ کیا بے حسی ہے، ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں، کیا اے سی کی نیند کسی کی زندگی سے زیادہ اہم ہے؟

ایک اور واقعہ گذشتہ روز ضلع کچھی ميں میں پیش آیا جہاں انتظامیہ نے دکان کو بند کروانا چاہا تو دکان چلانے والے بچوں نے بند کرنے سے انکار کر ديا تھا۔

بچوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دودھ کی دکان کھولنے کی اجازت ہے جس پر عملے نے بچوں سميت دکان سیل کر دی۔ اس کے بعد اہل علاقہ نے مداخلت کرکے دکان کا تالا توڑ کر بچوں کو باہر نکالا۔

بعدازاں حکام کی جانب سے واقعے کا نوٹس لیکر اسسٹنٹ کمنشر کے تبادلے کے احکامات جاری کردیئے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں لاک ڈاؤن نویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث کاروباری مراکز، ہوٹل اور مارکیٹیں بند ہیں۔

کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مزید 69 دکانیں سیل کرکے 46 افراد کو گرفتار کرلیا۔

خیال رہے لاک ڈاؤن کے باعث بازاریں بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ کئی علاقوں میں مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، دوسری جانب کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں لوگوں کی کثیر تعداد تفریحی مقامات پر دیکھی جاسکتی ہے۔