سورج کا شہر (سفر نامہ) | قسط 4 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

135

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
سمندر، باکرامت

صبح سویرے اٹھ کر کوہِ باتیل کی دیوار کے اِس پار مصنوعی جیل جیسے خاموش اور صاف ستھرے نیلگوں سمندر کی دید کا لطف لینے ساحل پہ پہنچا۔ بہت ہی سویر ہے۔ عظیم الشان گہرا نیلا سمندر اپنے عظیم سکوت میں تھا۔ ملائم پانی کی نازک لہریں ہیں۔ پوری دھرتی انبساط کے ہنڈولوں میں جھول رہی ہے۔ ایک عجیب جادوئی فضا ہے۔ ہم مشرقی بلوچستان کے لوگوں نے کبھی اتنی بڑی جھیل سوچی بھی نہ ہوگی۔ ہم اس منظر کے دیکھنے سے بھی نا واقف ہیں۔ ہم اس منظر کی تحریری منظر کشی سے بھی قاصر ہیں۔ مکمل کھو جانا، مبہوت رہ جانا………… ہم پہ جادو ہوچکا تھا۔ ہم بھونچکے تھے، گم سم، جیسے اسی سمندر جتنی شراب پیئے ہوئے ہوں۔ اتنا حسن ہے بلوچستان میں، اتنی نعمتیں ہیں میرے وطن میں …… (اور کتنی بھوک ہے میرے دیس میں!)۔

اگر بلوچوں کو اپنی اولاد کو حب الوطنی سکھانی ہو، بلوچستان پہ فخر کروانا ہو، تو انہیں بلوچستان کے ساحل ضرور دکھائیں، عشق ہو جائے گا انہیں اُس سے، مر مٹیں گے اُس کی خاطر، سارا بلوچستان ہمّل بن جائے گا۔

میں ساحل سے ٹکرانے والی نرم نرم موجوں سے بچوں کی طرح کھیلتا ہوں، ایک ایک قطرہ میرا ہے، ایک ایک ذرہ میرا ہے۔ میں، بلوچ تو دھرتی پہ برگزیدہ مخلوق ہوں۔ کیا کیا نعمتیں ہیں جو مجھے نہ دی گئیں۔ میں سمندر سے کھیلتا جاتا ہوں اور آواز بلند سے رننگ کمنٹری بھی کر تا جاتا ہوں۔ وہ دیکھو لہر آرہی ہے، شوں شوں کرتی ہوئی، میرے بوٹوں کو بھگونا چاہتی ہے، کافر۔ میں اسے ایسا کرنے نہیں دوں گا۔ میں بلوچ سمندر کی لہر سے بات کرتا ہوں…… ”بیا بیا، نہ واڑ تئے صذکہ“۔ جب بوٹ کو موج کے ہاتھوں گیلا ہونے سے کامیابی کے ساتھ بچا دیتا ہوں تو اسے ایک گالی نکالتا ہوں………… پھر فوراً نعوذ باللہ پڑھتا ہوں، سمندر کو گالی دی بد تمیز؟۔ اس سے معافی مانگتا ہوں۔ مگر بڑی شان والا سمندر میرے مکمل بچے میں ڈھل جانے کی کیفیت سے بے نیاز، کانوں اور آنکھوں کو ٹھنڈا کیے جاتا ہے………… سکون آور سمندر۔ دیوتا سمندر۔

اِس ”پدی زر“ میں ترقی و ترتیب کے زبردست امکانات ہیں۔ یہاں ہوٹلوں کے امکانات ہیں، ساحلی سیر سپاٹے کے، کھیل کے میدانوں کے، پارکوں کے، دست کاریوں کی نمائش گاہوں کے، دکانوں کے، میوزیم اور سمندری حیات سے متعلق علم گاہ کے، پانی کے کھیلوں کے، بوٹنگ کلبوں کے۔ اللہ وہ مہربان گھڑی ضرور لائے گا۔

یہ صبحِ کا ذب کے دم توڑتے لمحے ہیں۔ بلوچ مشقت کے لیے نکل پڑے ہیں۔ کُل گیارہ کشتیاں شہ مرید کی کمان کی شکل والے ساحل سے ماہی گیری کے لیے روانہ ہو چکی ہیں۔ اتنا بڑا سمندر اور اِدھر اُدھر بکھری صرف گیارہ کشتیاں۔ کچھ بے کشتیوں والے بے چارے یا، بزرگ سن، اور، یا پھر، کم سن مچھیرے ساحل کے قریب ہی پانی میں رات کو اپنا جال بچھاتے ہیں اور گھر چلے جاتے ہیں۔ صبح سویرے آ کر پانی میں ساحل سے بیس پچیس فٹ اندر بچھائے ہوئے اپنے جال کو جا کر آہستہ کھینچتے ہیں اور اس میں پھنسی مچھلیوں کو نکال لیتے ہیں۔ میں ایسے ہی ایک ماہی گیر بچہ پارٹی کے گروہ میں چلا جاتا ہوں۔ یہ پانچ لڑکے ہیں۔ سب سے بڑا ماہی گیر دس برس کا ہے۔ وہ جانداروں کے ہر غول میں موجود ”وڈے وڈیرے“ شخص کی طرح لگتا ہے۔ تجربہ کار، تحکم والا لہجہ، ٹھہراؤ والا انداز۔ شکاریوں میں سب سے چھوٹا سردی میں کانپتا ہوا سات سال کی عمر کا بچہ ہے۔
انہوں نے کل 17 لُجر (چھوٹی چار انچ لمبی مچھلیاں) پکڑی ہیں۔ وہ گوادر کی گلیوں میں جا کر اپنا شکار بیچیں گے۔ تازہ تازہ مچھلی کے بلوچی نعم البدل والی آوازیں لگاتے ہوئے گلیوں محلوں میں پھیرے لگاتے ہیں۔ ان کو ایک روپیہ فی لُجر مل جاتا ہے۔(جنہیں سکول جانا چاہیے، سائنس دان و انجینئر و ڈاکٹر و سٹیٹس مین بننا چاہیے انہیں لُجر گیری پر لگا دیا گیا ہے۔ بلوچستان کا اقتدار فیوڈلوں کے حوالے اور بلوچستان کے بیٹے لُجروں کے حوالے)۔

لُجر، پام فریٹ اور کبھی کبھی سولم نامی مچھلی بھی ملتی ہے۔ عموماً دو تین سیر وزن والی ملتی ہے مگر کبھی کبھی دس دس سیر والی مچھلی بھی جال میں اپنا قدم رنجہ فرما کر نوجوان شکاریوں کی شکاری مہمات کی کہانیوں کے لیے موضوع عطا کرتی ہے۔

یہ ”پشتی زِر“ کم گہرا ہے۔ آپ پانی میں 100 گز تک اندر جائیں بہ مشکل گردن گردن تک پانی ہو گا۔ ماہی گیر یہاں رات بھر کے لیے جال بچھا کر چلے جاتے ہیں اور صبح سویرے اپنے شکار کی مچھلی چن لیتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی اگر ہوا چلے تو آپ کا جال دو تین کلو میٹر کے فاصلے پر دور بے عزت و بے ترتیب پڑا ہوگا۔

سورج نکلا تو سست، کاہل یا پھر لاٹ صاحبوں والی طبیعت کے لوگ بھی ماہی گیری کرنے نکلے۔ اب کل اٹھارہ کشتیاں ہوگئیں۔ ذرا طلوعِ آفتاب کو تو دیکھو۔ سردیوں کا بے بس، ٹی بی زدہ، مریل سورج ہے۔ بس ایک چمکتا ہوا فٹ بال، یا کانسی کا بنا ہوا تھال جس میں ہماری عورتیں آٹا گوندھتی ہوں۔ بے کمال بے کرامت، منہ تک نہ دھویا ہوا سورج:
؎ جیسے مفلس کی جوانی، جیسے بیوہ کا شباب
سردیوں کا اس قدر بے د م سورج، گرمیوں میں قہر و غضب کا نشاں بن جاتا ہے۔ ہمیں ڈاکٹر حاجی اکبر کی سنائی ہوئی مزے دار بات یاد آئی کہ سرد افغانستان کے علاقہ غزنی کا ایک باشندہ ملتان چلا گیا اور وہ بھی جون جولائی میں۔ دوپہر کو سورج گرم ہوا تو غزنونی ماما تلملا اٹھا۔ برف، پنکھا، غسل………… گرمی نے اَدھ موا کر کے رکھ دیا۔ اس نے بے بسی، بے کسی میں سورج کی طرف دیکھا اور کہا، ”کرو مستیاں، یہ نہ سمجھو میں تمہیں جانتا نہیں۔ تمہاری غیرت تو میں نے سردیوں میں غزنی میں دیکھ رکھی ہے“۔

میں نے شکاریوں کی ایک اور ”چھوٹو“ پارٹی دیکھی اور وہاں چلا گیا۔ منیر احمد نامی سربراہ بچے نے 16,15 چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑی تھیں۔ ان میں سے دو مچھلیاں دُم کی طرف سے آدھی کٹی ہوئی تھیں۔ میں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ جال میں ان مچھلیوں کے ساتھ ایک تغس (کیکڑا) بھی پھنس گیا تھا۔ اس نے خود اپنی موت کے اس جال کے اندر بھی بڑی بے رحمی سے دو مچھلیوں کو آدھے تک کھا ڈالا (سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں)۔Titanic جہاز جب ڈوب رہا تھا تو بھی اس کے فرسٹ کلاس میں بیٹھے سرمایہ دار مسافر ایک دوسرے کو رشوتیں دے رہے تھے۔ تغس ازم مردہ باد!!
(تغس بد تمیز کا نام مشرقی بلوچی میں ایسا ہے کہ اگر اردو ترجمہ کروں تو ہمایوں مری اسے عریانی قرار دے گا۔ اس لیے بس تغس،تغس ہی ہے۔)

یہ ”پدی زر“ ایک دلچسپ حرکت کرتا ہے۔ یہ سمندر رات کو پانی سے مکمل بھر جاتا ہے پھر یہ موج آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے، پانی سرکتا جاتا ہے پیچھے۔ طلوع ہوتے سورج کے استقبال میں 50 گز، 100 گز حتیٰ کہ 150 گز تک بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ پھر دن کے زوال کے ساتھ ساتھ یعنی ایک بجے دوپہر سے پھر آہستہ آہستہ بھرنا شروع کر دیتا ہے اور آدھی رات تک مکمل بھر جاتا ہے۔ شکر ہے کہ یہ پشتی زر جاپان میں واقع نہیں ہے اور یہ بھی شکر ہے کہ بلوچ سورج پرست نہیں ہیں، چڑھتے سورج کے پجاری نہیں ہیں۔

ہم مکمل طور پر مبہوت روئی جیسی نرم و ملائم باریک ریت پر خراماں خراماں اِدھر اُھر چہل قدمی کر رہے تھے۔ دفعتاً جب اپنے پیروں کی طرف غور سے دیکھا تو ہمیں ایک زندہ، حرکت کرتی ہوئی مخلوق نظر آئی۔ ہم جنہیں چونٹیوں تک کو پاؤں سے نہ کچلنے کا سبق ملا ہوا تھا، حیران تھے کہ اس مخلوق کو روندنے سے بچائیں کیسے۔ یہ زندہ سیپیاں تھیں۔ اس بچے نے بتایا کہ سیپی در اصل ایک چھوٹا سا جانور ہوتا ہے، جیلی جیسا اور اس پر ایک سخت شیل ہوتا ہے۔ جب لہریں اسے ساحل پر دے مارتی ہیں تو جیلی جیسا جانور پانی کے بغیر فوت ہو جاتا ہے اور شیل بچ جاتے ہیں۔ جسے ہم سیپی بنا کر سجاوٹ اور زیور کے بطور استعمال کرتے ہیں۔ خصوصاً ہم مری، بگٹی، بزدار، قیصرانی لوگ۔ ہمارے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑی مچھلیوں کے کان وغیرہ ہوتے ہیں۔

یوں ہم کائنات کے حسن کا ایک حقیر حصہ اپنے معمولی ذہن میں جذب کر کے، خوب کیمرہ بازی کر کے چالیس پچاس قدم کے فاصلے پر موجود اپنے ٹھکانے یعنی بخشی ہوٹل واپس پہنچے۔ جہاں بل نگور کا رہنے والا بہت ہی دوستانہ بیرا، سلیم ہم مسافروں کے لیے چائے لایا۔ اور جب ناشتے کی باری آئی تو وہ اس میں ایک دانہ مچھلی فرائی کر کے لے آیا۔ اس مچھلی کا نام پمفلٹ تھا (یہ غلط العام نام ہے۔ اس کا اصلی نام پام فریٹ Pomfrets ہے)۔ ہمارا خیال تھا کہ پام فریٹ کا سائز وہی ہوگا جو کوئٹہ میں میں ملتا ہے اور جس کو میرے بڑے بھائی میرو خان بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ مگر یہاں گوادر کا پام فریٹ تو ”کنگ سائز“ کا تھا۔ اسے دو آدمی کہاں کھا سکتے تھے؟، ویسے بھی ناشتے میں مچھلی…… بہت ہی غیر بلوچ تصور ہے(حالاں کہ بلوچستان صرف مشرق نہیں ہے!)۔

ماہی خوری کی بھی حد ہوتی ہے۔ میں نے احتجاج کیا اور علی بلوچ و عابد بلوچ و حمید بلوچ کو بھی دعوت دی کہ وہ اس بیل جتنی پام فریٹ کو نوچنے میں ہماری مدد کریں۔ علی نے اپنے روایتی انداز میں سارے میزبانوں کی جانب سے ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ”صاحب! یہ کہاں سے بڑی ہے۔ یہ تو سمال ہے، بلکہ ایکسٹرا سمال ہے۔“ واہ ڑے علی واہ۔ اور پھر واہ ڑے امیر الدین واہ۔ اس نے پہلے ایک طرف کا صفایا کر دیا۔ پھر پلٹا کر دوسری جانب کو ختم کر دیا۔ درمیان میں وہ میری کم خوری، مچھلی سے میرا تعصب اور اپنی رغبت کے تبصرے ٹھونکتا گیا۔

”ناشتہ“ سے فارغ ہو کر ہم نے ایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈر خریدنا چاہا۔ لوگوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ اومان کے بلوچ فوجی، جب چھٹیوں پر بلوچستان آتے ہیں تو واپسی پر اُن کا سارا سرمایہ خرچ ہوچکا ہوتا ہے اور پھر وہ اپنا کیمرہ، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ اونے پونے بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ ہم ایسے ہی کسی اونے پونے ٹیپ ریکارڈر کی تلاش میں نکلے تا کہ اپنے ریسرچ کے کام میں اسے استعمال کیا جائے۔

گوادر بازار میں جو سب سے دلچسپ چیز لگی، وہ یہ تھی کہ وہاں ایک پورا بازار ہے جو صرف اور صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ گاہک بھی عورتیں، دکان دار بھی عورتیں (دکان دار کی مؤنث اردو میں ہے ہی نہیں۔ نہ ہی گاہک کی مؤنث موجود ہے۔ مقتدرہ زبان!!)

گوادر شہر کی دیواروں پہ دلچسپ نعرے لکھے ہیں۔ ایک سے ایک نعرہ ادب کا شاہ کار ہے۔ یہ نعرے سیاسی بھی ہیں، مذہبی بھی اور کمرشل اداروں کے بھی، مگر ہمیں سب سے زیادہ محظوظ اپنے ہی HRCPوالے دوستوں کے اس نعرہ نے کیا؛
”We Want Bottom Rights“
(ہم بنیادی حقوق مانگتے ہیں!)

زبانیں اپنی باریکیوں میں کیا کیا مار، مارتی ہیں!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔