بی این پی غیر جمہوری قوتوں کے شانہ بشانہ – گہرام اسلم بلوچ

56

بی این پی غیر جمہوری قوتوں کے شانہ بشانہ

  تحریر : گہرام اسلم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اصل میں اسوقت بات کسی بھی جماعت کی ساتھ دینے یا نا دینے کی نہیں ہے بلکہ اپنے اصولی سیاست کیساتھ قائم رہنے کی ہے۔ شاید کوئی یہ سوچ رہا ہو گا کہ میں وقتی طور پر اسٹیبلشمٹ مخالف بیانیے کو اپنا کر کسی بھی مقام پر ریلیف ملنے پر منحرف کیمپ میں شریک ہوکر اپنی وفاداریاں تبدیل کرونگا، مگر اس پوری صورتحال میں، بہت سے سیاسی جماعتوں کا روز اول سے جمہوریت اور اپنے اصولوں پہ قائم رہنے پر کسی بھی صورت میں اپنے بیانیے کو تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ اُنکی پوری سیاسی تاریخی، جدوجہد، عوام و پارلیمان کی بالادستی پر قائم ہے۔ وہ ہر دور میں جمہوریت اور جمہوری قوتوں کیساتھ کھڑے رہے ہیں۔

اس حوالے سے بلوچستان کی سیاست اور اسکی اسمبلیوں کو تجربہ گاہ بنانے میں اقتدار اور طاقت کے پیاسے لوگوں کیساتھ ملکر بلوچستان کے عوامی و جمہوری جدوجہد کو کمزور کرنے میں طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے، مگر جمہوری انداز میں جمہوری و سیاسی قوتوں کی جانب سے شدید سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی سطح پر ہر آمر دور میں جمہوریت کو کمزور کرنے میں سیاسی جماعتوں کو زیر عتاب کرنے اور انکی قیادت پہ غداری کے مقدمات چلائے گئے تو بلوچستان میں سب سے زیادہ سیاسی مزاحمت ہوئی۔ نیشنل عوامی پارٹی سے لیکر آج کے سیاسی قیادت تک ( سیولین سُپرمیسی) کے لیے جمہوری قوتوں کےساتھ شانہ بشانہ اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے حوالے سے نیشنل پارٹی کا روز اول سے ایک واضح موقف تھا۔ اور نیشنل پارٹی نے ہر دور میں اپنے ہم خیال ملک گیر سیاسی و جمہوری جماعتوں کیساتھ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے ایک دوسرے کیساتھ شانہ بشانہ رہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے موڑ بھی آئے کہ نیشنل پارٹی کووقتی طور پر اکیلا ہونا پڑ ا نکے ساتھ چلنے والے کمزور ہو گئے مگر انکی قیادت اپنے اصولوں پہ قائم رہے ۔

اس ملک کے حکمرانوں کو جب بھی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ضرورت پڑی تو بلوچستان اور بلوچستان کے پارلیمنٹیرین اور پارلیمنٹ کو دنیا کے سامنے تماشہ بنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔ اور جب بھی ضرورت محسوس کی تو راتوں رات سیاسی جماعتیں بنانے میں اقتدار اور طاقت کے پیاسے نام نہاد روایتی سیاستدانوں نے اپنی وفادریاں تبدیل کرنے میں بھی ذرا تاخیر نہیں کی۔ بلوچستان کی جمہوری سیاست کو سب سے بڑا داغ اُس وقت لگا جب غیرجمہوری طریقے سے بلوچستان میں سردار ثنااللہ زہری کی حکومت کے خلاف ان ہاؤس تبدیلی کے لیئے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے قدوس بزنجو کو مین کردار سونپا گیا، عین اُنکے مطابق اپنے گیم کامیاب ہو گئے ۔ اور جمہوریت کا جنازہ نکالا۔

اسی دن بلوچستان کے مختلف سیاسی جماعتوں نے سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور اس کے فوراً بعد سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں جس طرح پولیٹیکل انجینئرنگ کے ذریعے جناب صادق سنجرانی کو چئیرمین سینیٹ منتخب کیا گیا۔ اُسکے فوراً ردعمل میں نیشنل پارٹی کے اُسوقت کے صدر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے اپنے جماعت کی موقف اور بیانیے کو بیان کرتے ہوئے ان تمام صورت حال پر پارلیمان اور جمہوری اداروں کیساتھ مذاق قرار دیا۔

اس کے بعد جب سینیٹ چئیرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو اُسوقت کے متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار میر حاصل بزنجو صاحب تھے چونکہ اس ملک میں المیہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما مشکل وقت میں کم پارٹی پیج پہ ہوں گے کیونکہ اُنکو توڑنے میں طرح طرح کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے، اسی طرح انہوں نے اس بار بھی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے میں وہی کیا جو وہ کرتے آرہے تھے۔ اُسوقت بھی میر حاصل بزنجو انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تمام کرداروں کو آشکار کیا۔

حالانکہ اگر بنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہی بیانیہ نیشنل عوامی پارٹی سے لیکر نیشنل پارٹی تک کا رہا ہے چونکہ اسوقت پنجاب نے ہمت کی اور متحدہ اپوزیشن کے نام پارلیمان اور سول سُپرمیسی کے لیے ایک صف میں تھے تو انہیں توڑنے میں حکمران بہت جلد کامیاب ہوئے۔ مگر نیشنل پارٹی اور اسکے ساتھ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جماعت اسلامی اور جماعت اسلامی اپنے اصولوں پہ قائم رہے ۔

کوئی مانے یا نا مانے اسوقت ملکی سیاست میں نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو اپنے اصولوں پہ قائم رہنے اور جماعت کے بیانیے کے حوالے سے انہیں بے حد مقبولیت ملی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ نیشنل پارٹی کی قیادت کا روز اوّل سے ایک ہی بیانیہ تھا کہ سول سُپرمیسی ، پارلیمان اور جمہوری اداروں کی مضبوطی اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ وہ اپنے واضح سیاسی لائن اور وژن پہ ہمیشہ ثابت قدمی کیساتھ قائم رہا۔ نیشنل پارٹی کی سیاسی بصیرت اور جماعت کی فعالیت اور مقبولیت کی وجہ سے انکی حریف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ہمیشہ بے چین رہا ہے کیونکہ نیشنل پارٹی نے روز اوّل سے نوجوانوں کو جذباتی نعروں سے دور رہنے کی تلقین کی ہے، بی این پی اور اسکی قیادت نے ہمیشہ اپنے جذباتی نعروں سے نوجوانوں کے جذباتوں پہ موج کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی تھی اس پر ہمارا بنیادی اختلاف تھا۔

کھبی چھ نکات اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر استعمال کر کے وقتی طور پر شہرت حاصل کی۔

حال ہی میں جب آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں قانون سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ چھوڑ کر خود کو داغدار کیا۔ اسی اثناء میں تمام سیاسی حلقوں کی نظریں بلوچستان پہ تھیں کہ اس بار بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا کیا رول ہوگا ، وہی ہوا جو حسب ِ معمول میں ہوتا رہا ۔ مینگل صاحب نے پر اسرار طریقے سے آرمی ایکٹ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اپنے بے شمار نظریاتی و فکری سیاسی کارکنوں کی جذباتوں سے کھیلا۔ اور اسکی اس عمل سے ملک گیر سطح پر انکی سیاسی خد و خال پہ شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر انکے حامی بھی انکے اس عمل کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں اور ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ آرمی ایکٹ بل کو ووٹ کرنے کے بعد سردار اختر جان مینگل صاحب کا ایک اور موقف سامنے آرہا ہے کہ اس کے بدلے میں ہم گوادر کے حوالے سے قانون سازی کریں گے۔ امید یہی ہے کہ ایک بار پھر عوام اور اپنے ہمدردوں کو اسی نعرے کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گی مگر یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا کیونکہ وہ جو قانون سازی میں شریک ہوتے ہیں وہ ابھی تک اٹھارویں ترمیم کو شیخ مجیب کے نکات سے زیادہ خطرناک تصور کرتے ہیں۔ اگر واقعی سردار صاحب گوادر کے حوالے سے قانون سازی میں پرامید ہیں تو وہ عوام کو ایک ٹائم پیریڈ دیں تاکہ اس نعرے کے تحت مزید مظلوم عوام کو گمرہ نہ ہونا پڑے۔ سردار صاحب نے جس پر اسرار طریقے سے قدم بقدم غیرجمہوری قوتوں کا ساتھ دیا وہ اب عیاں ہوگیا اور تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اب نا وہ اس کا دفاع کرسکتے ہیں اور نا ہی انکے نظریاتی سیاسی کارکن جو اس امید کیساتھ بی این پی کیساتھ شانہ بشانہ تھے کہ کچھ کر کے دیکھائے گی مگر میں پچھلے چند دنوں سوشل میڈیا پر انکے ہمدردوں کا ردعمل اور مایوسی کو محسوس کرتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ فکری ساتھیوں( سنگتوں) کے جذباتوں پہ موج کرنا کوئی ان سے سیکھے۔۔۔ اب اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بی این پی مینگل غیر جمہوری قوتوں کیساتھ شانہ بشانہ ہوکر عوام کو مسلسل گمرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔