کتاب کلچر سے نفرت کیوں – سلمان حمل

52

کتاب کلچر سے نفرت کیوں

تحریر: سلمان حمل

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں جہاں جنگ، اغواء، مسخ شدہ لاشوں کا قصہ طویل ہے۔ وہیں بلوچستان میں دہائیوں سے جاری کتاب کلچر میں اضافہ دیدنی ہے۔ اسی کتاب کلچر سے بلوچستان کئی رہنماؤں سے مستفید بھی ہوا ہے۔ جنہوں نے جابر اور غاصب قوتوں کیخلاف تحریکوں کو توانا کیا۔

اگر حالیہ بلوچ مزاحمتی تحریک سے کچھ مثالیں نکال کر اُن پر مباحثہ کریں تو واضح طور ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ کس طرح کتاب کلچر سے وابستہ نوجوانوں نے سماج میں اپنا کردار نبھایا ہے اور نبھا رہے ہیں۔ غاصب کے پسِ زندان ذاکر مجید بلوچ کو لاپتہ ہوئے دس سال مکمل ہوچکے ہیں۔ مگر ذاکر مجید کے رہنمائی اور طریقہ کار میں واضح طور پر سائنٹفک اور علمی طریقوں کا سراغ ملتا ہے۔

اندرون بلوچستان سمیت سندھ میں مظلوموں سے خطاب میں ذاکر جان کی تاریخ پر دسترس بلوچستان کی تاریخ سمیت دنیا کے مظلوموں پر ہونے والے مظالم ، مظلوموں کے بغاوت اور انقلابی جد و جھد اور فرض شناسی کے تاریخ پر طویل تقریریں واضح ثبوت ہیں کہ انہوں نے کس لگن سے کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ اگر شہید حمید شاہین کے ثور انقلاب، اور ثور انقلاب کے بعد کے حالات پر مضامین، سوشلزم پر مفصل مباحثے ، مظلوموں کے حق میں لکھے گئے تحریروں میں ہمیں بہت سے مفید معلومات ملیں گی۔ یہ معلومات حمید شاہین کے کتب بینی کے عکاس ہیں۔

مستونگ میں ڈاکٹر منان کے ہمراہ شہید ہونے والے کالم نگار بابو نوروز کے وہ مکالمے اگر اٹھا کر دیکھے جائیں جن میں وہ اپنے سے عمر میں نہ صرف بڑے بلکہ سیاست میں بھی سینیئر پاکستانی قلم کار لال خان کے ساتھ بلوچستان کے متعلق جاری مباحثوں کو پڑھ لیں تو یہ امر واضح ہوگا کہ بابو نوروز کی سیاسی بلوغت کس حد تک تھی اور اس سیاسی بلوغت کا سہرا بھی کتاب کلچر کے سرجاتا ہے۔

چیئرمین غلام محمد جیسے مدبر رہنما کے طویل تقاریر اُٹھا کر سُنیں تو یہ امر مزید واضح ہوگا کہ شہید چیئرمین ایک با علم اور با ہنر مقرر تھے، جو دوران تقریر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے ہنر سے بخوبی واقف تھے۔ اور چیئرمین غلام محمد شہید کے یہ نیک اعمال، بہترین کردار، رہنمائی کے عوامل بھی بی ایس او اور بی ایس او کے بعد سرکلوں میں کتاب دوستی کا ماحول ہے۔

اسی طرح اگر شہید کامریڈ فدا بلوچ کی سیاسی بصیرت دیکھ لیں تو اُس میں کتابوں کا اثر رسوخ واضح طور پر دکھائی دے گا۔

اگر آج کے بلوچ جہدکاروں اور لیڈران سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں اور طالب علموں کو دیکھ لیں تو یہ امر مزید گہرائی سے واضح ہوگا کہ بلوچ قوم کو سرے سے لے کر آج تک کتب بینی کا نہ صرف شوق ہے بلکہ وہ دنیا کے عظیم رہنماؤں اور فلاسفروں کے علم سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے علم و تجربات میں اضافہ کررہے ہیں۔ اور اسی سلسلے کی ایک کڑی بلوچستان کے طول عرض میں حال ہی میں قائم کیئے گئے لائبریری بھی ہیں۔ جو نوجوانوں نے اپنے مدد آپ قائم کیئے ہیں اور اس کام کیلئے نوجوان داد کے قابل ہیں، جو ان سخت حالات میں کتابی مشغلے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

مگر قابل ذکر امر یہ ہیکہ بلوچستان میں آج بھی علم دوست و کتاب دوست نوجوانوں کو تواتر کے ساتھ اغوا کیا جارہا ہے اور انہیں پابندِ سلاسل کرکے اذیتیں دی جارہی ہیں اور تو اور ان کے بابت انکے گھر والوں کو بھی ان کے بابت معلومات فراہم نہیں کیئے جاتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

یہ سلسلہ بلوچستان میں نیا نہیں اس تسلسل کو اگر دیکھا جائے تو یہ شہید کامریڈ فدا احمد کی شہادت ، حمید بلوچ کی بعد از گرفتاری پھانسی سے شروع ہوتا ہے اور بھیس بدل کر کبھی مذہبی شدت پسند کی شکل میں صبا اور سر زاہد جیسے استادوں کے قتل کرتا ہے۔ تو کبھی مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے بھینٹ چڑھ کر پروفیسر رزاق بلوچ، رزاق گل اور دیگر کی قتل کا شکل اختیار کرتا ہے۔

تو کبھی معلوم افراد کے ڈارک گاڈیوں سے ذاکر جان، جاوید نصیر، صدیق عیدو ، سمیت دیگر بلوچوں کی اغوا نما گرفتاری کا شکل اختیار کرتا ہے۔ تو کبھی گینگسٹر کے کندھوں پر رکھے گئے بندوقوں کی گولیوں سے رزاق سربازی سمیت ساتھیوں کی شہادت اور علاقہ بدری کا شکل اختیار کرتا ہے۔ اور کبھی امن و امان قائم کرنے والے بہروپیوں کے ہاتھوں شبیر بلوچ سے لے کر حال ہی میں نوشکی سے اغوا ہونے والے نوجوان لائبریرین سلال جمالدینی کے مبینہ اغوا کا شکل اختیار کرتا ہے۔

ان تمام باتوں کا اگر نچوڑ نکال کر دیکھیں تو یہ صاف طور پر نظر آئے گا کہ کتاب کلچر سے نفرت کا بنیادی وجہ جاری ظالم کے خلاف مظلوموں کا عملی و شعوری جدوجھد ہے۔ جس سے ریاست اور اس کے بنیاد کو خطرہ لاحق ہے۔ اور اس شعوری جدوجھد کو ختم کرنے کیلئے ریاست اپنے رچائے گئے منصوبوں کے تحت کبھی یونیورسٹی جیسے اسکینڈل، تو کبھی سیکورٹی کے نام پر تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول پیدا کرکے بلوچستان باسیوں کو کتاب، علم، اور شعور سے دور رکھنا چاہتا ہے۔

کیونکہ ریاست کو یہ معلوم ہیکہ قوموں کو تباہ کرنے کے لیئے ایٹم بم سے زیادہ احساسِ بیگانگی بہتر اور خاموش ہتھیار کے طور پر کام کرتا ہے۔ اور اسی احساسِ بیگانگی سے ڈاکٹر اپنے فرائض سے غافل ہوکر پیسے کمانے کی لگن میں لگ جاتا ہے اور بیمار شخص بسترِ مرگ پر پہنچ جاتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں موجود اساتذہ کی غفلت سے تعلیم کے حصول کیلئے آنے والے جنسی حوس سمیت دیگر سراسیمگی کا شکار ہوکر بے موت مرجاتا ہے یا پھر ان ہی کی طرح تعلیم یافتہ جاہلیت کا آماچ ہوتا ہے۔ اور روز مرہ زندگی سے وابستہ تمام افراد کو بے علمی اور بے شعوری کے سلوپوائزنگ سے بے حس کرکے انہیں قومی فرض اور قومی قرض سے باز رکھ کر قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا کر دم لیتا ہے۔ مگر ان تمام طریقوں کے بعد بھی کوئی شعور اور علم کا دامن تھامے رکھتا ہے تو اُسے جبراً اغوا کرکے یا تو مفلوجی کی حالت میں چھوڑ دیتا ہے یا پھر مسخ لاش کی شکل میں خاندان کو تحفے کے طور پر دیتا ہے۔

اب بلوچ نوجوان جو تعلیمی اداروں میں موجود ہیں ان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ہم علم و آگاہی کا سفر طے کرکے ہی رہیں گے۔ اور جس کتاب کلچر سے آپ (ریاست) نفرت کررہے ہیں اور ہم اسی کو اپنا کر فکری اور شعوری بنیاد پر قومی غلامی اور محکومی کے جد و جھد کے بنیادوں اس سے بھی مزید مضبوط کریں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔