بلوچستان حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دینگے – جمعیت علماء اسلام

43
فائل فوٹو (کوئٹہ جلسہ)

جمعیت علماء اسلام کے اراکین اسمبلی حاجی نواز کاکڑ،سید فضل آغا،میر زابدریکی،اصغرعلی ترین،عبدالواحد صدیقی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ 27اکتوبر کو کوئٹہ سے روانہ ہوگا بلوچستان حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو جمعیت علماء اسلام کے کارکن اس کابھر پور جواب دینگے، احتجاج کرنا جمہوری معاشرے میں ہر کسی کا حق ہے اور یہ حق کسی کو چھیننے کااختیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ایک بہت بڑی سیاسی اور جمہوری قوت ہے جو ملک میں آئین کی بالادستی کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی آزادی مارچ 27اکتوبر کو کوئٹہ سے روانہ ہوگا جس میں بلوچستان بھر سے جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کارکن اور عہدیدار بھی شریک ہونگے، احتجاج کرنا ہر کسی کا جمہور ی حق ہے اور اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتا اگر حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو جمعیت علماء اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صوبے بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے خاتمے تک یہ احتجاج جاری رہے گا اب حکومت کی ذمہ دار ی بنتی ہے کہ وہ جمہوری احتجاج کو نہ روک دیں وقت اور حالات کاتقاضا ہے کہ اس وقت ملک بحرانوں کامتحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ عمران نیازی اور ان کے وزراء نے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا ملکی معیشت نہ ہونے کے برابر ہے حکومت نے انتخابات سے قبل عوام کیساتھ جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا اب ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکمران ہر حوالے سے ناکام ہوگئے جو حکمران عوام کو روزگار کے مواقع میسر نہیں کرسکتے ان کو حکمرانی کاکوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ 27اکتوبر کو کوئٹہ سے روانہ ہوگا بلوچستان حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو جمعیت علماء اسلام کے کارکن اس کا بھر پور جواب دینگے احتجاج کرنا جمہوری معاشرے میں ہر کسی کا حق ہے اور یہ حق کسی کو چھیننے کااختیار نہیں ہے۔

خیال رہے آل پارٹیز کانفرنس کے رہنماؤں نے کے فیصلے کے مطابق کوئٹہ کے علاقے بلیلی سے آزادی مارچ کابڑا قافلہ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی قیادت میں روانہ ہوگا،آزادی مارچ میں جمعیت علماء اسلام کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی،نیشنل پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کے صوبائی قائدین اور کارکن بھی ہمراہ ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے صوبائی قائدین کیلئے خصوصی کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے جس میں قائدین کیلئے ہر حوالے سے بہتر سہولیات رکھے گئے ہیں اور یہ کنٹینر خصوصی طور پر جاپان میں آزادی مارچ کیلئے تیار کیا گیا تاہم بلوچستان حکومت نے آزادی مارچ روکنے کیلئے اضلاع کو احکامات جاری کر دیئے۔

دریں اثناء جے ٹی آئی ضلع نوشکی کے زیر اہتمام بسلسلہ آگاہی مہم 27 اکتوبر آزادی مارچ جے ٹی آئی ضلع نوشکی کے صدر حق نواز کے قیادت میں ایم ٹی مسجد نوشکی سے جلوس کی شکل میں روانہ ہوا،جلوس میں صوبائی وضلعی قائدین شریک تھیں، آزادی مارچ ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کی۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی، اس موقع پر احتجاجی ریلی اور مظاہرے سے جے ٹی آئی نوشکی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ تاریخ گواہ ہیں کہ نوجوان انقلاب کے ضامن ہے آج بھی نوجوان ہمارے تحریک کا حصہ ہیں اور کامیابی ہماری مقدر ہو گی،جے ٹی آئی ہراول دستے کا کردار ادا کریگی، آزادی مارچ سے نوشکی اور بلوچستان کے عوام بھرپور شرکت کریگی۔

مظاہرے میں بلوچستان یونیورسٹی واقعے کی بھی مذمت کی گئی اور ذمہ داروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیاگیا۔