مبینہ سرنڈر شدہ فراری کی دوسری بار ہتھیار ڈالنے کی تقریب۔

441

پاکستانی میڈیا میں  چلنے والی خبر کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے دو کمانڈروں نے اپنے سولہ ساتھیوں سمیت  سندھ کے  شہر لاڑکارنہ میں فورسز کے سامنے ہھتیار ڈالا ہے، میڈیا میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان فراریوں کے ساتھ دیگر پندرہ سندھی قوم پرستوں نے بھی پاکستانی دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے۔

ٹی بی پی کوئٹہ کے نمائندے کے مطابق آج لاڑکانہ میں سرنڈر کرنے والے کمانڈر نے گذشتہ برس 20 نومبر کو بھی  بلوچستان اسمبلی  کے سبزہ زار میں فرنٹیئر کور کے زیر اہتمام ہتھیار ڈالنے کی ایک تقریب میں پہلے بھی ہتھیار ڈال چکا ہے، جس میں  قبائلی رہنماء جنگیز مری ،سابق صوبائی وزیر داخلہ سینیٹر سرفراز بگٹی، سینیٹر انورالحق کاکڑ،کمانڈنٹ ایف سی بریگیڈیئر تصور ستار سمیت دیگر موجود تھے۔

ہمارے نمائندے نے  جب اس حوالے سے مکران سے تعلق رکھنے والے ایک سابق فراری سے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسے فراری جن کے رشتے دار فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے ہیں، فورسز انکے ذریعے فراریوں پر زور ڈالتے ہیں، کہ وہ ہتھیار ڈالیں۔

آج لاڑکانہ میں دوسری مرتبہ سرنڈر کرنے والے کمانڈر صالح محمد عرف بابا کے بھائی بھی تقریباَ پانچ سال سے لاپتہ ہیں جن کو فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے سندھ کے علاقے سکھر  سے حراست میں لیا تھا۔

وزارت داخلہ میں کام کرنے والے ایک ملازم نے اپنی شناخت نہ بتانے کی شرط پر دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ ہر آنے والی حکومت کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے زیادہ سے زیادہ مناظر دکھائے جاسکیں، جس کے لیے فرنٹیئر کور کی مدد لی جاتی ہے ، ایف سی یہ ذمہ داری آگے اُن لوگوں کو دیتی ہے، جو پہلے سے ہی ایف سی کے لیے مختلف علاقوں میں کام کررہے ہیں، جو اکثر قبائلی و سیاسی رہنماء ہوتے ہیں ۔ ان قبائلی و سیاسی افراد کو یہ ٹاسک دیا جاتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے والی تقریب میں زیادہ سے زیادہ افراد کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔

وزارت داخلہ کے ملازم نے مزید بتایا کے سرنڈر کرنے والے اکثر تقریبات میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کو  بنیادی طور پر یہ بھی معلوم نہیں تھا  کہ اُن کو اس تقریب میں کس مقصد کے لیے لایا گیا ہے ۔ بلوچستان کے اکثر قبائلی علاقے جن میں  قلات ، دشت گوران ، خاران ، نوشکی ، خضدار، مشکے ، سبی ، ڈیرہ بگٹی ، اور کوہلو سمیت مکران کے کچھ علاقے شامل ہیں ان میں ہونے والی ہتھیار ڈالنے والی ایسے بھی تقریبات ہو چکی ہیں جن میں ایک بھی ایسا شخص موجود نہیں تھا جو اصل معنوں میں ہتھیار ڈالنے آیا ہو۔

ایسے تقریبات زیادہ تر جعلی ہوتے ہیں، اگر کبھی کبھار واقعی کوئی فراری ہتھیار ڈالے تو اس ایک شخص کے ہتھیار ڈالنےکو سالوں تک مختلف تقریبات میں دکھایا جاتا ہے۔