بلوچ طلباء دشمن کے ارادوں کو جان کر اپنی تعلیم پہ توجہ دیں – ڈاکٹر اللہ نظر

345

بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج بلوچ طلباء کے اغواء اور گمشدگی میں تیزی لا چکی ہے، سبب یہ ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ یہ خوف لاحق رہتاہے کہ اس کی اپنی نوآبادیاتی و دقیانوسی تعلیم سے بھی بلوچ طلبا اپنے قومی و نظریاتی ضروریات کے تقاضوں کے لئے علم و ہنر حاصل کریں گے اور اس کی فرسودہ نوآبادیاتی نظام تعلیم بلوچ طلبا کو نام نہاد اور بے بنیاد پاکستانیت میں ضم کرنے میں ناکام ہوگا اور بلوچ طلباقومی نظریے کی آبیاری کے لئے اسی نظام تعلیم میں رہ کر فکری و نظریاتی پختگی حاصل کریں گے۔

ڈاکٹر اللہ نذ ربلوچ نے کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ ہے، بلوچستان کے تمام یونیورسٹی اور سکول فوج کے کنٹرول میں ہیں، بلوچستان یونیورسٹی چھاؤنی کا منظر پیش کرتاہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں فوج تعینات ہے ، بلوچ طلباء فوجی بربریت کے سایے تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، ہم اپنی ریاست اور اپنی تعلیمی نظام سے محروم ہیں، بلوچ طلبا ء کو قومی غلامی کے احساس کے ساتھ مشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی نوآبادیاتی تعلیم میں ایک روشن مستقبل اور آزاد بلوچستان کی حصول کے لئے اپنی تعلیم جاری رکھیں کیونکہ ہمیں اسی جبر و بربریت کے بھٹی میں کندن بننا ہے۔ ہمیں اسی جبر کو دشمن کے خلاف ہتھیار کی صورت میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا بلوچ طلبا بلوچستان یا دیگر علاقوں میں پڑھ رہے ہیں، وہ بے حد مشکلات اور پاکستانی بربریت سے دوچار ہیں، انہیں فوجی بربریت کے علاوہ مختلف تعصبات کا سامنا ہے، ان مشکلات کے باوجود طلباء کو اس امر کا ادراک کرنا چاہئے کہ یونیورسٹی اورکیمپس آزادی کی جدوجہد میں نہایت موثر کردار کاحامل ہوتے ہیں، طلبا بیرونی ممالک میں تعلیمی سکالرشپ کے لئے سرتوڑ کوشش کرکے جائیں اور وہاں بلوچ بھی کی آواز بنیں، اسلام آباد اور پنجاب میں بلوچ طلبا کے ساتھ ہونے والے واقعات ابھی تازہ ہیں،وہاں بلوچوں کے ساتھ انتظامیہ کا ناروا سلوک، مختلف تنظیموں کی جانب سے بلوچوں پر حملے اس کی واضح مثالیں ہیں کہ وہ بلوچوں کیلئے یہی دقیانوسی نظام تعلیم بھی برداشت نہیں کرتے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ آزادی سے قبل کسی بھی شعبے میں ترقی ایک سراب ہے، یہ آفاقی سچائی ہے،اس سے انکار ممکن نہیں لیکن ہر غلام قوم کی طرح بلوچ اپنی آزادی کے حصول کے لئے تعلیم کو ہتھیا ر بنا سکتے ہیں،اس میں ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں، اس لئے بلوچ طلبا سے درخواست کرتاہوں کہ دشمن کے ارادوں کو بھانپ کر اس کی بربریت کا مقابلہ کرتے ہوئے خاموشی سے اپنی تعلیم پر توجہ دیں، وہ دن دور نہیں کہ ہم آزاد وطن کے مالک ہوں اور بلوچ طلباء وطالبات آزاد بلوچستان کے شعبہ ہائے زندگی میں بہترین کردار ادا کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اضافہ کریں گے۔