آزادی کے حصول کے لئے “میں” کا خاتمہ ضروری ہے – عبدالواجد بلوچ

180

آزادی کے حصول کے لئے “میں”کا خاتمہ ضروری ہے

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اچھی بات کو بار بار دُہرانے کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ ایک خودکار روّیے کی شکل میں ہمارے ساتھ ساتھ چلتی رہے، جو بات دُہرائی نہیں جاتی جِس بات کی تمہید نہیں باندھی جاتی وہ پہلے تو ہمارے عمل سے نِکل جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ ہماری سوچ کے دائرے سے بھی خارج ہوجاتی ہے، اس لیئے کہتے ہیں کہ براہِ راست بات کا اثر یا تو بہت کم ہوتا ہے یا وقتی ہوتا ہے، اچھی بات کا ذِکر فوری طور پر تو بہت اچھا لگتا ہے اور اُس پر عمل کرنے کو دِل بھی کرتا ہے لیکن چوں کہ وہ بات یا تو ہماری اوّلین سیاسی تربیت کے حصّے میں نہیں ہوتی اور یا وہ فوری طور پر ہمارے شعور کی تہہ میں Penetrate کرکے لاشعور میں داخل نہیں ہو پاتی اس لئے ہم وقت کے ساتھ ساتھ اسے بھول جاتے ہیں یا اہمیت نہیں دیتے.

آزادی و آزادی کے معنی و مفہوم، آزادی کی اہمیت کا شمار بھی اُن بے شمار باتوں میں ہوتا ہے کہ کس طرح ہم اس عظیم مقصد کو اہمیت دیکر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے.

پاکستانی قبضہ گیریت کو بظاہر بہتّر برس گذرچکے ہیں لیکن ہر گذرتا سال ہمیں درحقیقت اور زیادہ قید کرتا چلا جارہا ہے اور زیادہ غلام بناتا چلا جارہا ہے، بہتّر سال پہلے جب یہ جنگ شروع ہوئی تو ہمارا مطمع نظر ایک تھا، نظریہ ایک تھا، مقصد ایک تھا Object ایک تھا، ایک مِشن تھا، ایک ویژن تھا کہ کس طرح پاکستانی قبضہ گیریت سے چھٹکارا حاصل ہو یہ جنگ جو پچاس کی دہائی سے لیکر ستر کی دہائی سے ہوکر آج تک اتنے برسوں میں کِسی نہ کِسی شکل کِسی نہ کِسی حوالے سے Revise ہوتا رہا، Repeat ہوتا رہا، Revive ہوتا رہا یہ ویژن، یہ مِشن ہمارے پیشروؤں کے دِلوں میں بھی رہا ذہنوں میں بھی رہا اور مختلف اوقات میں مختلف شکلوں میں عمل میں بھی ڈھلتا رہا اور نسل در نسل، سینہ بہ سینہ منتقل بھی ہوتا رہا اور وہی حوصلوں کی دَین ہے کہ 2000 کی دہائی میں اس جنگ کو سائنسی خطوط سے استوار کرکے متحد ہوکر “بلوچ” بن کر بنیاد فراہم کی گئی.

آزادی کا خواب، آزادی کی آرزو کے ساتھ ساتھ کم از کم یہ جنگ آج پانچ نسلوں تک زندہ ہے ابتدائی مراحل میں آزادی کا تصّور پاکستانی قبضہ گیریت سے نجات اور آزادی کے حصول کی حد تک تھا مگر جوں جوں وقت گذرتا گیا، ہمارے معیارات میں تبدیلی آنا شروع ہوئے، پہلے ایک بلوچ بن کر جہد کررہے تھے ہم، اب طبقات میں تقسیم نظر آرہے ہیں. پہلے سوچ اور جذبوں میں کوئی کھوٹ کوئی مِلاوٹ نہیں تھی، آزادی کی تحریک میں کِسی بھی فرد کی ذاتی غرض شامل نہیں تھی، ایمان، یقین اور قربانی کی خوشبو سے بچّے بچّے کا دِل مہک رہا تھا، اچانک کیوں ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہونا شروع ہوئے، تقسیم در تقسیم والی رویے نے کیوں ہمارے درمیان دوریاں پیدا کیں، آج کسی کو بھی ہمت نہیں کہ وہ اُن وجوہات کو جان سکے ان کے تدارک کے لیئے کوشش کرے.

کہتے ہیں کہ آزادی کے انمول تُحفے خاص خاص لوگوں، خاص خاص قوموں کو عطا کیے جاتے ہیں، جو لوگ، جو قومیں دِل کے ساتھ دماغ بھی رکھتی ہیں، وہ آزادی کی انعام کی دِل سے قدر کرتی ہیں اور دماغ سے اُس کو محفوظ رکھتی ہیں، جِس فرد، جِس قوم میں دل یا دماغ میں سے ایک عنصر میں بھی فریب ہو وہ آزادی پانے، آزادی مِلنے کے باوجود آزاد نہیں رہ پاتا، ایسے لوگوں ایسی قوموں کی رگوں میں غلامی کے جوہر دوڑ رہے ہوتے ہیں کیونکہ ایسے قوموں میں سیکھنے سمجھتے اور تجربوں سے سیکھنے کا گُر نہیں ہوتا. ہمارا شُمار بھی بدقسمتی سے ایسے ہی لوگوں، ایسی ہی قوموں، میں ہے ہم آزادی جیسے قیمتی تُحفے کی قدر نہیں کرپائے، پاکستانی قبضہ ہم پر مسلّط ہوا لیکن اس کے بعد ایک مضبوط تحریک ہمیں نصیب ہوئی جو اپنے ٹریک پر سیدھا جارہا تھا لیکن “انا”میں اور خودی کی بیماری سے ہم آہستہ آہستہ دس ہزار ایسی باتوں، ایسے نظریوں، ایسی سوچوں، ایسے جذبوں کے پابند اور غُلام ہوتے چلے گئے جِن کے چُنگل سے نکلنا مشکل دکھائی دے رہا ہے.

آج کی دُنیا میں آزادی محض جغرافیائی و زمینی سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں رہا، آج کی دُنیا سائنسی و تحقیقی ہے آج کی دنیا میں ہر مُلک ہر خطّے ہر قوم کے لوگ محض جذباتی سوچ کی بجائے ذہنی و منطقی فِکر سے مالامال ہیں آج کی دنیا میں صحیح معنوں میں آزادی محض زمین کے ٹکڑے پر آزادانہ دندناتے پھرنا نہیں ہے بلکہ اپنے اندر اصول و آدرشوں کا قیام لانا ہی کامیابی کا ضامن تصور کیا جاتا ہے.

بدقسمتی سے گروہیت انا پسند نا پسند اور خودی کی وجہ سے نہ ہم سچّے رہے، نہ ہم کھرے رہے، نہ ہم خود خالص رہے، نہ ہماری کوئی بات کوئی چیز خالص ہے، آج ہم صِرف نام کے آزادی پسند ہیں اور وہ بھی کب تک؟ ہمیں عقل نہ آئی گذشتہ 72 برس سے ہماری جذباتیت میں جتنا اضافہ ہوا ہے اُتنا ہی ہم نے اپنی Logic اپنے فہم اور اپنے جذبے کو Loose کیا ہے،جذباتیت اور شے ہے جذبہ اور چیز، ہم میں تو اب اتنا فہم بھی نہیں بچا کہ ہم جذباتیت اور جذبے کے درمیان فرق کو جان سکیں اور اپنی جذباتیت کو ختم کرکے اپنے جذبے کو پروان چڑھاسکیں.

اگر ہم اِسی نہج پر چلتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنی اِس تحریک کو بھی کھوبیٹھیں گے، قدرت اپنے قانون کِسی فرد کِسی قوم کے لیئے نہیں بدلتی، ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔

72 سالوں سے ہم اپنے آپ کو، اپنی سوچ کو، اپنے جذبوں کو اپنے نظریوں کو گرِوی رکھوائے چلے جارہے ہیں۔ آج کچھ بھی ہمارا اپنا نہیں نہ ہمارے سیاسی کارکن، نہ ہمارے لیڈر، ہر کوئی اپنے پارٹیوں تک محدود ہوچکا ہے۔.

آزادی کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے، اگر ہم اپنے آپ، اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنی شخصیت کو ہر طرح کی کرپشن Corruption اور بُرائی Evil سے باہر نکال لیں گے تو صحیح معنوں میں ہم خود کو آزاد فرد کہہ سکیں گے اور اس سے تحریک آزادی بھی کسی پیچیدگی کا شکار نہیں رہے گا۔.

آزاد افراد کا مجموعہ ہی ایک آزاد قوم کو جنم دیتا ہے، آیئے آج عہد کریں کہ آج سے ہم خود کو اپنی ’’میں‘‘ اور ’’انا‘‘ کی غلام گردشوں سے آزادی دلوانے کی تحریک شروع کریں گے اور اپنی اِس مثبت سوچ کو اپنے دیگر ہم خیال دوستوں کو منتقل کریں گے، آزادی کے چراغ اِسی طرح جلتے ہیں اور چراغ سے چراغ جلاتے رہنے کا نام ہی حقیقی آزادی ہے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔