ڈاڈائے بلوچ اور کردار کے شیر – نودشنز مندی

50

ڈاڈائے بلوچ اور کردار کے شیر

تحریر: نودشنز مندی

دی بلوچستان پوسٹ

اپنے کردار کی پیچیدگیاں اتنی ہوں کہ وہ انسان کو اپنے کردار کی سچی عکاسی کرنے سے روکیں تو اس کیفیت کو لا علمی، لا شعوری یا صحیح معنوں میں بیان کیا جائے تو خوف ہے جو عالم کو لا علم، با شعور کو لا شعور بناتا ہے۔ یہ خوف ہی ہے جو انسان کو اس سوچ سے بھی روکتی ہے جو اسے دائمی غلامی، کھلے زندان جو جیل سے بدتر ہے، اس سے نجات دلاتی ہے، اس حاکم کی غلامی سے نجات دلاتی ہے جو نہ صرف میرے ہم وطنوں کے حق کو نوچ کر کھا رہاہے اور معدنیات کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے بلکہ وہ انجان اور بن بلایا مہمان بن کر میرے گھر میں بیٹھ کر میری شناخت، بلوچی ساخت، کردار اور تاریخی حیثیت کے ساتھ ساتھ میرے شناخت کو مسخ کررہا ہے۔ ایک ایسا دشمن جو خود دوسرے کے خوف سے چور ہے، جو اپنی 72 سالہ تاریخ میں 4 چار جنگیں لڑ کر ہارا ہے، جسے اکیلا ہی دنیائے اسلام میں یہ حیثیت حاصل ہے جسکے 93700 فوجی صرف 14 دن کی لڑائی کے بعد سرینڈر کیئے ہوں۔ جو خود خائف ہے کیونکہ تاریخی حوالے سے اسکے پاس نا کوئی روڈمیپ ہے نہ اپنے وفاقی اکائیوں کو یکجا کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ اور بہانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلام کو اپنی یکجا کرنے والی قوت پیش کرکے اسے استعمال کررہا ہے، کبھی بلوچوں پر یلغار، کبھی سندھیوں کی تذلیل اور انہیں صوفیاء کا مرید پیش کر کے اپنے ہی وطن میں استحصال کا نشان بنانا اور بنگالیوں کا قتل عام جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کا مرتکب ہونا۔

خوف ایک الیووژن یعنی جسکی کوئی مادی وجود اور شکل نہیں ہے بلکہ ایک فریب ہے، سامراج نے اسے بطور ہتھیار ہر اس جگہ اور ہر اس شخص کے خلاف بروئے کار لایا جہاں اسے اپنے غیر فطری اور فریبی وجود کو کھونے کا خطرہ محسوس ہوا۔ اگر خوف ایک فریب ہے تو اسکے وجود سے کوئی بھی شخص کیوں منکر نہیں؟

کوئی نڈر انسان اس کو کیوں مارکر ابھرنے کی بات کرتا ہے، نا کہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس سے پاک پیدا ہوا ہے؟ کیوں دشمن اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے جہد کرتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو خوف کو ایک فریب سے مادی شکل اور مادی شکل سے ایک طاقتور حاکم بناتا ہے۔ بقول ڈاڈائے بلوچ نواب اکبر بگٹی “ہمیں کردار کے شیروں کی ضرورت ہے گفتار کے شیر بہت ہیں”جو سرمچاروں پر تبصرہ اور لب کشائی کرتے ہیں کہ اگر یہاں یہ کرتے تو یہ ہوتا، اگر یہ نہ کرتے تو یہ نقصان نہ ہوتا، حکمت عملی پر رہنماؤں سے زیادہ سنجیدہ اور معتبر لہجے میں تنقید کرنا اور اپنے غیر فطری اسٹریٹجی اور پالیسی پیش کرتے ہیں، ان گفتار کے شیروں سے مودبانہ التماس ہے تبصرہ آرائی سے گریزاں ہوکر خاموشی زیادہ مفید ہے شاید ایسے گفتار کے شیروں کو نا گوارا گذرے اور ان کیلئے پر لطف نہ ہو، پر یہ ان کیلئے بہتر ضرور ہے۔ کردار کا شیر گفتار کو اپنا دشمن، بلکہ دوستوں کیلیے باعث نقص تسلیم کرتے ہیں اور ایک ابلتے جوالا مکھی اپنے سینے میں لیے گمنام سپاہی کا روپ دھار لیتے ہیں۔ خوف کے وجود کو تسلیم کرکے اسے اپنے وجود کے اندر ہی دفن کرتے ہیں اور با غیرت لوگوں کے صفوں میں شامل ہوکر ہمیشہ کیلیے امر ہوتے ہیں۔

دشمن کو نیم انقلابی اور غیر سنجیدہ لوگ جنکے ارادے اور نظریے آزمائش کے ہوا کا جھونکا پڑتے ہی تاش کے پتوں کی طرح بکھرتے ہیں، سے ڈر نہیں لگتا بلکہ وہ ایسے ہی لوگو ں کا متلاشی ہے کہ کب اسے گفتار کے شیر اور تاریخی بیوقوف ملیں اور وہ انکے ذریعے اپنے حقیقی دشمن اور مظلوموں کے مسیحاوں تک پہنچ کر انہیں راستے سے ہٹائے۔ ان سب باتوں کا اخذ ایک ہی شہ ہے جسے خوف کہتے ہیں اس کو دفن کرکے دشمن پر قہر برسانے والے کو ہی سرمچار بھی کہتے ہیں، نرمزار بھی کہتے ہیں، میار جل بھی کہتے ہیں اور پہازوک بھی کہتے ہیں۔ ان حقیقی مزاروں کے کردار پر لکھنے سے کترانا ہی انکے بلند اور برز نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔

نظریے اپنے ماننے والے اشخاص کی نہ صرف رہنمائی کرتی ہے بلکہ انہیں اپنے مقصد کے حصول کی تکمیل اپنی زندگی میں کرنے کے سوچ سے آزاد کرتی ہے اور انہیں یقین کے ساتھ لڑنے کیلئے اکساتی ہے کہ اگر وہ لڑیں گے تو انکے قوم اور انکی آنے والی نسلیں اسکے جہد سے بوئی فصل کی کاشت کرینگے۔ نرمزار واقعی میں ہی شیر اور باغیرت ماں باپ کے جنے ہیں، کردار واقعی گفتار سے زیادہ چیخ کر اور پرزور اور با بلند آواز میں اپنی سچائی اور حق کی رونمائی کرتے ہوئے گونجتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔