ایسٹ انڈیا کمپنی سے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ تک – سلمان حمل

84

ایسٹ انڈیا کمپنی سے نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ تک

تحریر: سلمان حمل

دی بلوچستان پوسٹ

پاکستانی وزیر اعظم کے سربراہی میں قومی ترقیاتی کونسل کا جو اجلاس ہوا، اس میں نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک نئی لوٹ کھسوٹ کا اعلان کیا گیا۔ اس سے مراد سمندری علاقوں میں ترقی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا ایک نیا پاکستانی قانون ہے۔ جسے جواز بنا کر شاید بلوچستان کے ساحلی پٹی کو بلاواسطہ وفاق کے حوالہ کرنا ہے تاکہ لوٹ کھسوٹ آسانی سے کیا جاسکے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں یہ واضح کرنا لازمی ہے کہ پاکستان جس کوسٹ کو ترقی کے نام پر لوٹنے کے در پہ ہے۔ وہ ہے بلوچستان کی طویل سمندری حدود جس میں گوادر ، جیونی ، پسنی ، اورماڑہ اور گڈانی شامل ہیں ۔ اس کوسٹل ڈیولپمنٹ کے نام سے بننے والے کمیٹی میں تیرہ وفاقی وزراء سمیت پاکستان آرمی چیف بھی ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں پاکستانی زیر تسلط کشمیر کے وزیر اعظم سمیت کسی بھی صوبے کا وزرا اعلیٰ شامل نہیں ہیں۔ یعنی کے مستقل رکنیت نہیں رکھتے البتہ جب بھی آقا کو ان کی ضرورت پڑی تو انہیں طلب کیا جاسکتا ہے۔ مگر قابل دید کہانی یہ ہے کہ بلوچ عوام سے ساحل اور وسائل کے نام پر وؤٹ لینے والے مینگل اینڈ کمپنی کی جانب سے کسی بھی قسم کا مزاحمت نہیں کیا گیا۔ جو عوام سے یہ جھوٹا وعدہ کرکے گئے وفاق کے گود میں چلے گئے تھے کہ ہم اسمبلی فلور پر بلوچ ساحل وسائل کی دفاع کرینگے۔ مگر ان سے امیدیں بھی نہیں کی جاسکتیں۔

جس طرح مشرف دور میں انہوں نے ڈیرہ بگٹی میں چلنے والے گولی کا جواب جھالاوان میں دینے کا فیصلہ کرکے بعد میں مکر گئے، اور شہید اکبر بگٹی نے انہیں گفتار کا شیر قرار دے کر ان کی اصلیت ہمارے سامنے واضح کی تھی۔ اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف کہ آیا یہ کوسٹل ڈیولپمنٹ کے نام پر بلوچ ساحلی علاقوں میں واقعی ترقی دینگے یا نہیں۔ تو جواب بالکل صاف نظر آتا ہے کہ نہیں کیونکہ اب بھی سینکڑوں نوجوان جن کا تعلق ساحلی پٹی سے ہے وہ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی جیسے گھناؤنا عمل کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں۔ اور باسی ایک ایک بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پھر کیا ہوگا؟ تو اس کیلئے ہمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں جاننا ہوگا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کس طرح ہندوستانیوں کا استحصال کیا؟

انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر ہندوستان میں لوٹ کھسوٹ اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامعہ پہنانا تھا تو انہوں سب سے پہلے ایک کمپنی بنانے کی ٹھان لی مگر اس میں بھی انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی اندازہ مشن سر کرنے والے سر ٹامس رو کی ڈائری سے کرسکتے ہیں۔ یہ کام اتنا آسان نہیں تھا جس طرح میں سوچ کر آیا تھا۔ اس کام کو سر انجام دینے کیلئے مجھے سر توڑ کوششیں کرنی پڑی۔ اور اسی طرح تین سال کے بعد سر ٹامس مختلف ساز و باز و مکر حیلے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر سوارت میں آزادانہ تجارت شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اور وہ بھی مغل ولی عہد شاہ جہاں سے یہ معاہدہ 1618 میں ہوا اور اس پر باقاعدہ دستخط بھی ہوئے، مگر یہ معاہدہ اس امر کے مترادف تھا جیسے کوئی بُدّو اونٹ کو اپنے خیمے میں سر داخل کرنے کی اجازت دے۔ اور اس موقع کا انگریز نے بھر پور فائدہ اٹھایا، ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر انگریز ہندوستان پر قدم جماتے رہے اور ہندوستانیوں کا استحصال بھی قدم در قدم بڑھنے لگا۔ کیونکہ انگریز اسی سوچ کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ اور امریکی تاریخ دان اس دور کے سفاکیت کو دنیا کے 100 سر فہرست سفاکیوں میں سے چوتھی سفاکیت قرار دیتے ہیں۔

میتھو وائٹ لکھتے ہیں کہ اس دورانیے میں کم از کم 66 لاکھ ہندوستانی اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور ان اموات کی وجہ وہ کمرشل ایکسپلائٹ قرار دیتے ہیں۔ مگر اس اعداد شمار میں بنگال میں مرنے والے شامل نہیں ہیں۔ اگر انگریزوں کی زبانی دیکھیں تو وہ کہتے ہیں کہ دسیوں ہندوستانی ہفتوں تک زندگی کی آس لیئے مرتے تھے ان کی نظریں ان فصلوں پر تھیں جو ابھی پک رہے تھے مگر ان کی پکنے میں دیر لگتا تھا اور اسی طرح یہ لوگ مرتے گئے۔ جنگ عظیم دوئم کے دوران بنگال میں 30 سے 50 لاکھ لوگ مارے گئے، جن کا شمار مذکورہ بالا میں نہیں ہے۔ مجموعی طور پر انگریز دور حکومت میں تین کروڑ ہندوستانی مارے گئے ہیں۔ جبکہ 1700 میں ہندوستان پوری دنیا کا 6•22 فیصد دولت پیدا کرتا تھا مگر جب 1947 میں انگریز چلا گیا تو ہندوستانیوں کے ہاتھ خالی تھے۔

اگر اسی طرح ہم بلوچستان کا مختصر جائزہ لیں جس میں بہت سے معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ سمندر اور جیو اسٹراٹیجک ہونے کی وجہ سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ مگر ان سے بلوچ مستفید نہیں ہوسکتے، جس کی ایک مثال دنیا کے قابل علاج امراض میں سے بلوچ سراسیمگی کی وجہ سے مررہے ہیں اور تو اور ڈیلیوری کیسز میں بھی بلوچستان کے باسی موت کی آغوش میں چلے جارہے ہیں۔ جس کی خاص وجہ برطانیہ کی بطن سے جنم لینے والا پاکستان ہے، جس نے بلوچ کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کے رکھا ہے۔ اور بلوچوں کی یہ شناخت جو مقامی سطح اور غیر مقامی سطح پر ہے۔ اس کی خاص وجہ سنہ دوہزار میں شروع ہونے والی بلوچ مزاحمت ہے جس کی بروقت بلوچ قیادت نے آغاز کیا۔ مگر اس مزاحمت میں بھی آج مزید شدت کی گنجائش موجود ہے۔ بلوچ قیادت کو مزید اتحاد و اتفاق کے ساتھ ساتھ سخت قوانین و قاعدوں کو رائج کرنا ہوگا۔ جو مقصد کے حصول کیلئے لازمی ہیں۔ اگر وقت و حالات کے تقاضے پورے نہیں کیئے گئے اسی طرح ہم اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہے۔ تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دیگر توسیع پسند ممالک کے ساتھ اپنی لوٹ کھسوٹ مزید شدت کے ساتھ جاری رکھے گا جو اب بھی چین اورسعودی کے تعاون سے جاری ہے۔ کہیں کل ایسا نہ ہو کہ امیر بلوچستان کے ہاتھوں میں کچکول ہو۔ جس طرح برطانیہ نے ہندوستان میں کیا عین اسی طرح اس کا بغل بچہ پاکستان بلوچستان میں کررہا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔