یو این او میں راشد حسین کی بازیابی تک اس کا کیس لڑوں گا – منیر مینگل

296

بلوچستان ستر سالوں سے ایک المیے سے گزر رہا ہے ۔ منیر مینگل

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے جاری اکتالیسویں سیشن برائے انسانی حقوق کے موضوع پر بلوچ وائس ایسوسی ایشن کی طرف سے سائیڈ ایونٹس میں بلوچ وائس ایسوسی ایشن کے سی ای او منیر مینگل نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ میں موجود انسانی حقوق کے اداروں کو پریس بریفنگ دی۔

انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان گذشتہ ستر سالوں سے ایک المیے سے گزر رہا ہے وہاں پاکستانی فورسز اور ایجنسیوں کی طرف سے ایسا دن نہیں گزرتا جہاں بلوچ شناخت کو مٹانے کے لیے فوجی آپریشن، بلوچ سیاسی کارکنوں دانشوروں اور بلوچ کے درد کو سمجھنے والی سوچ کو لاپتہ کرکے انہیں اذیت خانوں میں ڈالنا معمول بن چکا ہے۔

ایونٹس کے اندر منیر مینگل نے عالمی ابزرورز کو حالیہ دنوں بلوچ سیاسی کارکن انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کو متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ کرنے، چھ ماہ تک ٹارچر سیلوں میں اذیت دینے اور بعد ازاں غیر قانونی طور پر پاکستان حوالگی پر ایک قرار داد پیش کی جس میں راشد کے زندگی کو لاحق خطرات اور ان کے خاندان پر ہونے والے ریاستی جبر پر شِک موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک میں یو این او کے اندر راشد بلوچ کا کیس لڑونگا تا وقتیکہ وہ بازیاب نہ ہوں۔

دریں اثناء ایونٹس میں موجود دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ ورلڈ بلوچ وومنز فورم کے سربراہ میڈم نائلہ قادری نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ راشد بلوچ کو یو این ایچ سی آر دنیا بھر پھیلے ہوئے ماجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور بلوچوں کو پناہ گزین قرار دے کر ان کی حفاظت کی ذمہ داری لے۔

انہوں نے راشد حسین کی زندگی کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا خلیجی ممالک کی پاکستان سے بلوچ نسل کشی میں معاونت کرنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بلوچ ایکٹیوسٹ راشد حسین کو پاکستان کے حوالے کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن میڈم کلاؤڈیا، ایشین اکسپرٹ صحافی فرانسسکا ماریو، یو کے پی این پی کے چیئرمین سردار شوکت علی کشمیری، بی این ایم کے رہنماء سمیع اللہ بلوچ، اسرائیلی صحافی اناریٹمنٹ نے بھی ایونٹس میں بلوچستان میں جاری انسانی کی خلاف ورزیوں پر اپنے خیالات پیش کیئے۔

علاوہ ازیں شام پانچ بجے جنیوا جان ہاکس میں بلوچ مسئلے آزادی پر بلوچ وائس ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک اور پروگرام میں یورپی لوگوں سمیت مختلف اداروں کو بلوچستان بارے بریف کیا گیا۔