کوئٹہ: ڈیگاری میں پھنسے 10 کانکنوں کو چوبیس گھنٹے بعد بھی نہیں نکالا جاسکا

32
File Photo

سرکاری ٹیمیں صرف کوئلہ کان سے نکلنے والی لاشوں کی گنتی کرکے واپس چلی جاتی ہیں، 1923کے قانون کے تحت حادثے میں قصور ثابت ہونیوالے کو دو سو روپے جرمانہ دینا ہوتا ہے۔

بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں کوئلے کی ایک کان میں گیس بھر جانے سے 10کان کن کئی ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے ہیں۔ حکام کے مطابق پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم حادثے کو 24 گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باعث ان کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں۔

چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان شفقت فیاض کے مطابق کوئٹہ سے تقریبا 40 کلومیٹر دور ڈیگاری کی ایک کوئلہ کان میں اتوار کی دوپہر کو بجلی کے شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی تھی۔ کان کو منہدم ہونے سے بچانے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی اور کان میں موجود کوئلے نے بھی آگ پکڑ لی۔

چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق حادثے کے بعد 12 کان کن متاثرہ کان میں کام کر رہے تھے جن میں سے دو اوپر کے حصے میں تھے جو باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے باقی 10 کان کن ساڑھے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ساتھی کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں تاہم کان کے نچلے حصے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ معدنیات کی ٹیمیں بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں تاہم امدادی کام زیادہ تر کان کن اپنی مدد آپ کے تحت ہی کر رہے ہیں۔

ایک مقامی کان کن نے بتایا کہ مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے کان کنوں کو بچانے کے لیے کان میں اترنے والے آٹھ کان کن بھی گیس کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے جنہیں بڑی مشکل سے باقی ساتھیوں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں سے بچایا۔

چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق اتوار کی دوپہر سے کان میں پھنسے ہوئے 10کان کنوں کے زندہ بچ جانے کے امکانات کافی کم ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد کان حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کوئٹہ، بولان، ہرنائی، لورالائی اور دکی سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع میں کوئلے کے 256ملین ٹن سے زائد ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری لالہ سلطان خان کے مطابق کوئلہ کی کان کنی کے شعبے سے بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور وابستہ ہیں تاہم مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں کان کن مختلف حادثات میں زندگی کھودیتے ہیں۔

محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں گذشتہ نو سالوں کے دوران 530سے زائد کان کن کوئلہ کی کانوں میں حادثات کا شکارہوکر ہلاک ہوئے ہیں،صرف اس سال چھ مہینوں میں حالیہ حادثے کے علاوہ 39 مزدوروں کی موت ہوئی ہے تاہم مزدور یونین کا اصرار ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں۔لالہ سلطان خان نے کہا کہ ہمارے جمع کئے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں اب تک 82 مزدور کوئلے کے کانوں میں گیس بھرنے سے دم گھٹنے، ملبے تلے دبنے اور ٹرالی لگنے جیسے مختلف حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

لالہ سلطان کے مطابق کوئلہ کان مالکان، ٹھیکیدار اور سرکاری محکمے مزدوروں کی اموات کو چھپاتے ہیں۔ وہ مرنے والے مزدوروں کے لواحقین کی مالی امداد سمیت دیگر قانونی ضابطوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں اس لئے وہ حادثات کو سامنے لانے نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات کی بڑی وجہ صحت و سلامتی کے قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔اس قانون کے تحت کوئلہ کانوں میں حادثات سے بچنے کیلئے مناسب انتظامات کرنے ہوتے ہیں جن میں تازہ ہوا کے اندر آنے، گیس کے اخراج، آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی صورت حال میں نکلنے کے لیے متبادل راستہ کا بندوبست کرنا،کان کو منہدم ہونے سے بچانے کیلئے مضبوط لکڑی کا استعمال کرنا، کان کی لمبائی اور چوڑائی کو چھ سے سات فٹ سے زائد رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں اس قانون پر کوئلہ کان کے مالکان، ٹھیکیدار عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی محکمہ معدنیات قانون کے نفاذ کیلئے کوئی موثر کام کررہا ہے محکمہ معدنیات کے حکام بیس بیس گز کے فاصلے پر کوئلے کی کان کی الاٹمنٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے کانوں کے درمیان متبادل راستے بنانے کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ کوئلے کے کانوں کی الاٹمنٹ کم از کم ڈھائی سو گز کے فاصلے پر ہونی چاہیے۔

لالہ سلطان خان کے مطابق چیف انسپکٹرآف مائنز کا کام ریسکیو کرنا ہوتا ہے مگر انہوں نے آج تک کسی زخمی کو ریسکیو کیا اور نہ کسی مردہ کان کن کی لاش نکالی، سرکاری ٹیمیں صرف کوئلہ کان سے نکلنے والی لاشوں کی گنتی کرکے واپس چلی جاتی ہیں۔ سب امدادی کام کان کن خود اپنی مدد آپ کرتے ہیں اس لیے ہم کہتے ہیں کہ کان کنوں کو ہی ریسکیو ٹیموں میں بھرتی کیا جائے مگر چیف انسپکٹر مائنز اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کانکنی سے متعلق قانون 1923 ء کا ہے جو ایک صدی پرانا، یہ قانون آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس قانون کے تحت ایک حادثے میں اگرکوئی قصور وار ثابت ہوتا ہے تو 1923 میں بھی دو سو روپے جرمانہ کیا جاتا تھا اور اب تک جرمانے کی رقم یہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرنے کی صورت میں کانکن کے ورثاکو ورکرز ویلفیئر فنڈز سے صرف دولاکھ روپے مدد ملتی ہے جو بہت کم ہے یہ رقم سندھ کے برابر یعنی پانچ لاکھ روپے کیا جانا چاہیے۔

مئی 2018ء میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے بھی بلوچستان میں کان کنوں کی حالت زار کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کان کنوں کی حفاظت کی خاطر کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔