کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

43

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3649دن مکمل ہوگئے۔ سول سائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ قلات سے لاپتہ سراج احمد کے لواحقین نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کیا اور ان کے کوائف وی بی ایم پی کے پاس جمع کیے۔

کیمپ میں موجود لاپتہ سراج احمد کے بہن سمرین نے ان کے گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سراج احمد ولد رستم خان سکنہ نیچارہ قلات کو 4مارچ 2017کو مغل زئی ہائی اسکول قلات کے سامنے سے اس وقت فرنٹیئر کور کے اہلکاروں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے اغواء کیا جب اسکول میں سالانہ امتحانات چل رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سراج احمد کو جبری طورپر لاپتہ کرنے والے فورسز اور سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد تین سَرف گاڑیوں میں آئے تھے جبکہ اس وقت اسکول کے تمام بچے بھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔لواحقین نے کہا کہ سراج احمد کے حوالے دو سال سے کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے جس کے باعث ان کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ سراج احمد سرکاری ملازم تھا جس کے گمشدگی کے بعد ان کے گھر والے شدید مالی بحران کا شکار ہے لہٰذا ہم حکام بالا سمیت انسانی حقوق کے اداروں سے گزارش کرتے ہیں کہ سراج احمد کو بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم باریک بینی سے موجودہ حالات میں بلوچ قوم کا جائزہ لیں تو شروع میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ خصوصاً سیاست سے منسلک اکثر نوجوانوں نے آزادی کی جدوجہد کو فیشن سمجھ کر خوشگوار ماحول میں اپنایا، اکثر نئے فیشن جب آتے ہیں تو لوگ جلد اسے اپنا لیتے ہیں اور جب کوئی اور فیشن آجائے تو پرانے کو چھوڑ کر اسے اپنا لیتے ہیں۔باشعور، مخلص، باہمت نوجوان جنہوں نے شروع سے لیکر آج پرامن جدوجہد میں شانہ بشانہ ہیں ان کے علاوہ باقی تمام سیاسی کارکن، دانشور، قلمکار، شاعر ادیب، صحافی، طلباء اور خواتین وغیرہ نے بطور فیشن قومی تحریک کو اختیار کیا اور پھر جب پاکستان نے بلوچ دشمنی میں اپنی بربریت کی جھلک دکھائی تو سارے کمزور لوگوں نے زندگی، گھر، خاندان اور بچوں کو ذہن میں لاکر کنارہ کشی اختیار کی۔

انہوں نے کہا ان لوگوں نے بزدلی ہیصحیح، زندگی ہی صحیح والا فلسفہ اپناکر ڈر کے مارے اپنے نالائقی اور بزدلی کو چھپانے کی خاطر دن رات لاپتہ بلوچ افرادو شہداء کے کیمپ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں جس کے پیچھے صرف ان کی بدنیتی، بزدلی کارفرما ہے۔ان افراد سے پوچھا جائے کہ جب ماحول خوشگوار تھا تو آپ آزادی پسند تھے آج حالات سازگار نہیں آپ کا کردار کیا ہے۔