کوئٹہ: لاپتہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3648دن مکمل

45

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3648دن مکمل ہوگئے۔ تربت سے محمد رحیم بلوچ اور نور محمد بلوچ نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ لاپتہ جمیل احمد سرپرہ کے لواحقین نے آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لاپتہ جمیل احمدسرپرہ کے لواحقین نے ان کے گمشدگی کے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جمیل احمد سرپرہ کو 25جولائی 2015 کو گرین ٹاؤن کوئٹہ میں واقع کے ان گھر سے فورسز نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہے۔

لواحقین کا مزید کہنا تھا کہ جمیل احمد سرپرہ کمیشن کے تحت سابق گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کا پی آر او تعینات کیا گیا تھا۔ جمیل احمد چار سال سے جبری طور پر لاپتہ ہے اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، ملک میں عدالتیں کیوں بنائی گئی اگرکسی ملزم کو وہاں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جمیل احمد سرپرہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا جبکہ اس کے دو بچے بھی ہے اور ان کے والد بیٹے کے انتظار میں انتقال کرگئے، اسی طرح ان کی والدہ اپنے بیٹے کے انتظار میں ہے۔

جمیل احمد سرپرہ کے لواحقین نے دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرح مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پیاروں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے جرم ثابت ہونے پر ملکی قوانین کے تحت سزا دی جائے لیکن اس طرح لاپتہ نہیں رکھا جائے۔

اس موقعے پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے بلوچ عوام کے خلاف سرگرم ہیں جو بلوچ قوم کے خلاف کھلے عام درندگی پر مشتمل کاروائیاں کررہے ہیں جس کا مظاہرہ آواران، مشکے، کوہستان مری، ڈیرہ بگٹی، قلات اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کیا جارہا ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشنوں کے دوران ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار آبادیوں کو نشانہ بناکر خوف و حراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان پرتشدد کاروائیوں میں درجنوں بلوچ خواتین و بچے اور نوجوان شہید اور اغواء کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جبری طور لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ کو دس سال سے زائد کا عرصہ مکمل ہوگیا ہے، دنیا مین اتنی طویل احتجاج کسی نے نہیں کی جبکہ طویل لانگ مارچ بھی اس احتجاج کا حصہ جو آج تاریخ کے صفحوں پر لکھا جاچکا ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہرطرح کے سخت حالات کا مقابلہ کرکے یہ سفر طے کیا اور آج بھی وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔