کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3650 دن مکمل

40

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3650 دن مکمل ہوگئے۔ خضدار کے علاقے وڈھ سے عبدالغفور مینگل سمیت دیگر افراد نے کیمپ آکر لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی جبکہ لاپتہ لعل محمد اور کلیم اللہ کے لواحقین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لاپتہ لعل محمد اور کلیم اللہ کے لواحقین نے کہا ان کے پیاروں کو جبری طور پر بولان سے اس وقت فورسز نے لاپتہ کیا جب وہ اپنے بھیڑ بکریوں کو چرا رہے تھے۔ دونوں افراد بے گناہ ہے اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہم انسانی حقوق کے عالمی و ملکی اداروں سمیت حکومتی ذمہ داران سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چار سال سے ہم اپنے پیاروں کے انتظار میں ہے اور ہم ماما قدیر کے ہمراہ احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔

کیمپ میں موجود انسانی حقوق کے کارکن حمیدہ نور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دس سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری ہے، گذشتہ دنوں کچھ افراد بازیاب ہوئے ان افراد کے بازیابی میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد سمیت سردار اختر جان مینگل اور ان کے پارٹی اور وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگوکا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے گھروں کو پھر سے آباد کیا جبکہ ان سب سے زیادہ ماما قدیر بلوچ کا کردار اہم ہے جو مسلسل کئی سالوں سے ان افراد کو بازیاب کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

حمیدہ نور نے کہا لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک انسانی المیہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے موجودہ حکومتی ذمہ داران، بلوچ قوم پرست حلقوں سمیت تمام افراد کو کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ایک اور صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے کہ جہاں کچھ افراد بازیاب ہوئے ہیں اسی وقت کئی افراد لاپتہ کیے جارہے ہیں، لوگوں کو بازیاب کرنے کا مینڈیٹ لینے والے افراد کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اب بھی لوگ کیوں لاپتہ کیے جارہے ہیں اور گمشدگیوں کا یہ سلسلہ کب بند ہوگا۔

انہوں نے کہا لاپتہ افراد کے فہرست میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے کیونکہ لوگ بازیاب ہورہے ہیں لیکن اس سے بڑھ کر لاپتہ بھی ہورہے ہیں لہٰذا اب اس فہرست میں کمی آنی چاہیئے اور لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

وی بی ایم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرامن جدوجہد خودبخور دیر پا نہیں ہوسکتا بلکہ تسلسل کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑتی ہے اگر پرامن جدوجہد کے پرکھٹن اور دشوار ہونے کے باعث محض ساز گارحالات پیدا ہونے کا انتظار کیا جائے اور موثر جدوجہد کو نظر انداز کردیا جائے تو انقلابی قوتیں نشونما نہیں پاسکیں گی۔خون خرابے سے بچنے کے بہانے پرامن جدوجہد سے منہ پھیرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ عوام ہمیشہ محکوم رہے اور بے چوں و چرا ظالمانہ جبر و تشدد برداشت کریں اور آنکھیں بند کرکے اپنے پیاروں کو اغواء ہوتے دیکھیں یا ان کی تشدد زدہ لاش کو دفن کرکے خاموش بیٹھے کہ شکر ہے لاش مل گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کو دوسرے قوموں کی طرح کچھ کرکے دکھانا ہوگا جس سے بلوچ افراد کی اغواء نما گرفتاری بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی میں کامیاب ہوکر اپنی برسوں کی تاریخ کو زندہ رکھ سکیں۔