پنجگور: پاکستانی خفیہ اداروں کے قائم کردہ مسلح گروہ پر حملہ

208

حملے میں ڈیتھ اسکواڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں مسلح افراد نے پاکستانی خفیہ اداروں کے حمایت یافتہ مسلح گروہ پر حملہ کرکے انھیں نشانہ بنایا۔

مقامی ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ گذشتہ رات پنجگور کے علاقے گرمکان میں کہن کے مقام پر مسلح افراد نے پاکستانی خفیہ اداروں کے حمایت یافتہ گروہ کے سربراہ شاہدوک کے قافلے کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئیں، جن میں سے ایک کی شناخت داود کے نام سے ہوئی ہے ۔

تاہم پنجگور انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے قائم کردہ مسلح گروہ سرگرم ہے جنہیں ڈیتھ اسکواڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے جبکہ بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کا دعویٰ کہ مذکورہ مسلح گروہوں کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کی پشت پناہی کی بناء پر مختلف جرائم میں بھی ملوث ہیں۔

پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ان افراد کو بلوچ مسلح آزادی پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

زامران میں براس کی جانب سے حراست میں لیئے جانیوالے ڈیتھ اسکواڈ ممبران کی تصویر بھی جاری گئی۔

رواں ماہ کے اوائل میں تمپ کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی جبکہ اس سے قبل  زامران اور پنجگور میں ڈیتھ اسکواڈ گروہوں پر حملوں کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے قبول کی تھی۔

زامران میں براس کی جانب سے حراست میں لیئے جانیوالے ڈیتھ اسکواڈ ممبران کی تصویر بھی جاری گئی جس میں آٹھ افراد کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ان کے ساتھ قبضے میں لیئے گئے اسلحہ بھی موجود ہے۔

پنجگور میں آج ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔