مسخ شدہ لاشیں پھینک کر پیغام دیا جارہا ہے کہ ہم نوآبادیاتی نظام کا حصہ ہیں – نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

96

نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کا مرکزی پروگرام بیاد شہداء بلوچستان 15جولائی منعقد کی گئی،پروگرام کا آغاز شہداء کے احترام میں کھڑے ہوکر دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ پروگرام ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا، تعزیتی ریفرنس سے ڈپٹی آرگنائزر شاہ زیب بلوچ، ثناء بلوچ، سعد اللہ مینگل،چنگیز بلوچ ایڈووکیٹ، وڈیرہ نزیر احمد کھیتران،شیر احمد قمبرانی، طائب پہوڑ، لیلیٰ بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سر زمین لاوارث نہیں یہ آنے والی نسلوں کی امانت اور آخری خون کے قطرے تک اس کا دفاع کریں گے، وسائل سے مالا مال خطہ آج تک بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے نہ یہاں پر مناسب ہسپتال موجود ہے نہ ہی ایسے تعلیمی ادارے جہاں پر شعور کی روشنی میں طالبعلموں کو نوازا جائے،حکمرانوں کے رویے بلوچستان کے ساتھ زیادتی طرز کا ہے اور اسی رویے کے خلاف بابو نوروز نے اپنے جواں سال بیٹوں کے ہمراہ ظلم وجبر کے خلاف جدوجہد کی اور شہداء کو پہاڑوں سے اتار کر تختہ دار پر لٹکا یا گیا تھا جو بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے آج بھی ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندان نہ صرف لاپتہ ہیں بلکہ ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم ریاسی نو آبادیاتی نظام کا حصہ ہیں اور بالادست سامراج اور بلوچ کے درمیان جو رشتہ ہے وہ حاکم اور محکوم کا ہے۔

انہوں نے کہا سی پیک جیسے معاہدے میں بلوچ قوم کو نظر انداز کرنا ریاستی استحصال کے عزائم کو آویزاں کرتے ہیں یہی سرزمین کی ایک انچ کا بھی سودا نہیں کریں گے اور سیاسی مزاحمت کے ذریعے سے رد عمل رکھا جائے گا یہ حکمرانوں کی بھول ہے کہ گوادر جو بلوچوں کی شناخت ہے اسے سبوتاژکریں گے۔

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحادکو مثبت قرار دیا اور اپوزیشن جماعتوں کو زور دے کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کو سیاست سے بے دخل کیا جائے، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی بلوچستان کے ساحل وسائل،اختیارات قومی تشخص کی بقاء کیلئے بلوچستان بھر کے نوجوانوں کو اور عوام کو ساتھ لے کر بھر پور انداز میں جدوجہد کرے گی۔